پاناما لیکس پر اپوزیشن کے ڈرامے کا مقصد اس کو سیاست کی نذر کرنا ہے، چوہدری نثار

راولپنڈی چکلالہ اسکیم تھری میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ پاکستان میں غلط کام کرنا آسان لیکن درست کام کرنا مشکل ہے، جائز ناجائز کی تمیز و تفریق مشکل ہوگئی ہے جب کہ پاکستان کا مقصدر جھنڈے والی گاڑی کو سلام ،سیٹھ کو سیلوٹ کرنا نہیں تھا، پاکستان میں روز جھوٹ بولاجاتا ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاست کھیل کود نہیں بلکہ بہت مشکل عمل ہے اور حکمرانی اور قوم کی تعمیر کرنا بہت مشکل کام ہے۔چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ پاناما لیکس کی دھنیں گائی جارہی ہیں، ایک مہینہ ہوگیا ٹی او آرز ٹی او آرکا کھیل کھیلا جارہا ہے دراصل اس سارے ڈرامے کا مقصد اس مسئلے کو سیاست کی نذرکرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے ضمیر صاف ہیں تو ایک گھنٹے میں فیصلہ کرلیں کہ چور ڈاکو تک کیسے پہنچنا ہے جب کہ کرپشن کا علاج عدالت یا کمیشن کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جس پارٹی کے دوراقتدار میں کرپشن ہوئی اس کے لوگ دوسروں پرانگلیاں اٹھارہے ہیں جب کہ آج تک کسی مسلم ملک میں حج پرکرپشن نہیں ہوئی۔اس سے قبل کلر سیداں میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے چوہدری نثار نے کہا کہ ضروری نہیں کہ ہر غیرسنجیدہ بیان پر تبصرہ کیا جائے، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اب بچے نہیں لیکن وہ سیاست سے لابلد ہیں، پارلیمانی نظام میں وزیراعظم ہی وزیراعظم ہوتا ہے، پارلیمانی حکومت میں وزیراعظم کی جگہ کوئی اور نہیں لےسکتا، دنیا بھر کے سربراہان مملکت ہفتوں چھٹیوں پر جاتے ہیں لیکن وہاں انتظامی نظام اسی طرح چلتا رہتا ہے، اسی طرح پاکستان میں بھی وفاقی کابینہ کام کررہی ہے۔چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ وہ پاکستان کی پارلیمنٹ یا مقننہ کے سامنے جوابدہ ہیں امریکا کے نہیں، ہمیں ہر رپورٹ کو سنجیدگی سے نہیں لینا چاہئے، دہشتگردوں کےخلاف کامیابی کسی رپورٹ کی محتاج نہیں ،حقیقت یہ ہے کہ ملک میں 2013 کے مقابلے میں حالات کافی بہتر ہوئے ہیں۔ نیکٹا فعال ہے لیکن اس کے کام میں وسعت کی ضرورت ہے۔
نادرا کے حوالے سے وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان میں صحیح کام کرنے کے لئے بہت مشکلیں اور رکاوٹیں پیش آتی ہیں ، یہاں غلط کام کرنا آسان اور صحیح کام کرنا بہت مشکل ہے، وہ نادرا کو صاف کرنے کی کوشش کررہے ہیں،نادراکا ادارہ بدعنوان نہیں بلکہ چند افراد نےاسے بدنام کیا ہوا ہے، نادرا میں شفافیت یقینی بنانے کے لئے توجہ دے رہے ہیں، انہوں نے جب سے وزارت کی ذمہ داری سنبھالی ہے نادرا میں کرپشن کے خلاف کارورائی کی جارہی ہے، نادرا میں کسی کرپٹ آدمی کی کوئی گنجائش نہیں ہے، ڈھائی برسوں میں ڈھائی لاکھ سے زیادہ شناختی کارڈ بلاک کب کہ 39 لاکھ پاسپورٹس بلیک لسٹ ہوئے۔ اور یہ سب کچھ ملا اختر منصور کی ہلاکت سے پہلے ہوا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں