خیبر پختونخوا کا 505 ارب روپے کا بجٹ، 22 فیصد تعلیم کیلئے مختص

پشاور: نئے مالی سال 17-2016 کے لیے خیبر پختونخوا کا 505 ارب روپے حجم کا بجٹ پیش کردیا گیا۔

خیبرپختونخوا اسمبلی میں صوبائی وزیر خزانہ مظفر سید نے کابینہ کی جانب سے منظور کردہ بجٹ پیش کیا۔

ترقیاتی اخراجات
آئندہ مالی سال کے لیے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لئے 161 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جس میں 12 ارب روپے کا قرضہ بھی شامل ہے۔

انہوں نے بتایا کہ تین سال میں مختلف شعبوں میں اصلاحات کی گئیں اور متعدد ترقیاتی منصوبوں کو مکمل کرلیا گیا ہے جبکہ کئی منصوبوں پر کام جاری ہے۔

تعلیم
انہوں نے بتایا کہ تعلیم کے لیے 111ارب 52کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں

مظفر سید نے کہا کہ صوبے کے تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کیلئےکام جاری رہے گا جبکہ اس شعبے کو خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا جبکہ مستحق طلباء کو وظائف بھی دیے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبہ خیبرپختوںوا میں 160 پرائمری اسکول تعمیر کیے جائیں گے جبکہ 100 مدارس کو پرائمری اسکول میں تبدیل کیا جائے گا۔

صوبائی وزیر خزانہ نے بتایا کہ صوبے میں 500 نئی آئی ٹی لیبارٹریاں تعمیر کی جائیں گی اور سوات میں ایک کیڈٹ کالج بھی قائم کیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ صوبے میں دس نئے کالج بھی تعمیر کیے جائیں گے۔

انہوں نے اس موقع پر اپر دیر میں انجینئرنگ جبکہ بونیر میں یونیورسٹی تعمیر کرنے کا اعلان کیا۔

صوبائی وزیر خزانہ نے بتایا کہ خواجہ سراؤں کو فنی تعلیم فراہم کرنے کے لیے سینٹر قائم کیا جائے گا۔

صحت
صوبائی وزیر نے بجٹ تقریر کے دوران بتایا کہ صحت کے لیے 38 ارب 42کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انسداد پولیو کے لیے خصوصی پروگرام شروع کی جائے گا جبکہ مردان، پشاور اور صوابی میں مراکز صحت کو بہتر بنایا جائے گا۔

امن و سیکورٹی
صوبائی وزیر خزانہ نے بتایا کہ پولیس کے لئے 32 ارب 94 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی وجہ سے خیبر پختونخوا بہت متاثر ہوا.

ان کا کہنا تھا کہ چین کے تعاون سے پولیس کا استعداد کار بہتر بنایا جائے گا۔

مفظر سید نے بتایا کہ ریسکیو 1122 کا دائرہ کار پورے صوبے تک پھیلایا جائے گا۔

صوبائی ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ
اپنی تقریر کے دوران انہوں نے صوبائی ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 10 فیصد اضافے کا اعلان کیا جبکہ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن کے لئے 40 ارب 91 کروڑ روپے مختص کیے گئے۔

انہوں نے بتایا کہ مزدور کی کم سے کم تنخواہ 14 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے ،

متفرق اخراجات
آبپاشی کے لئے تین ارب 42کروڑ روپے مختص کیے گئے جبکہ فنی تعلیم، افرادی تربیت کے لئےایک ارب 97 کروڑ، کھیل وثقافت کیلئے 60کروڑ رکھے گئے ہیں۔

بجٹ میں زراعت کے شعبے کے لیے 3 ارب 80 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ ماحولیات اور جنگلات کے لیے دو ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

صوبائی وزیر نے بتایا کہ حیوانات کے 30 شفا خانوں کو فعال کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ معدنی وسائل کے شعبے کی ترقی کے لیے 62 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

اپوزیشن کا احتجاج
بجٹ تقریر کے دوران حزب اختلاف کے اراکین نے اپنی نشستوں پر کھڑے ہوکر احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔

اپوزیشن اراکین نے بجٹ نامنظور کے نعرے بھی لگائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں