دانتوں کا تکلیف دہ علاج ماضی کا قصہ بن جائے گا

دانتوں کی روٹ کینال بہت جلد ماضی کا قصہ بن جائے گی جس کی وجہ برطانوی طبی ماہرین کی جانب سے ایک نیا طریقہ علاج دریافت کرنا ہے۔

ناٹنگھم یونیورسٹی کے ماہرین نے دانتوں کے خراب یا جراثیم زدہ نسیجی ریشوں کی جگہ مادہ بھرنے یا روٹ کینال کے مقابلے میں نیا طریقہ علاج دریافت کیا۔

اس علاج کے تحت مریضوں کے خراب دانتوں کو اسٹیم سیلز کی مدد سے ٹھیک کیا جاسکے گا۔

اس وقت ہر سال کروڑوں افراد کو دانتوں کے امراض یا سرجری سے قبل روٹ کینال کے تکلیف دہ مرحلے سے گزرنا پڑتا ہے۔

تاہم یہ نیا طریقہ علاج تکلیف دہ ثابت نہیں ہوگا اور اسٹیم سیلز دانتوں کے اندر مرمت اور بحالی کا کام کریں گے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت دانتوں کی فلنگ تکلیف دہ اور خلیات کو نقصان پہنچاتی ہے اور یہ اکثر دانتوں کے اندر ریشوں سے مطابقت بھی نہیں کرپاتی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اب ہم نے سینیتھک بائیو میٹریلز کو تیار کیا ہے جو ڈینٹل فلنگ جیسا ہی ہے مگر اسے براہ راست ریشوں سے منسلک کرکے اسٹیم سیلز کو متحرک کیا جاسکتا ہے جس سے خرابی کو ٹھیک کرنا آسان ہوجاتا ہے۔

اس تحقیق کو رائل سوسائٹی آف کیمسٹری کے ایمرجنگ ٹیکنالوجیز مقابلے میں دوسرا انعام بھی دیا گیا۔

تحقیق کے مطابق یہ میٹریل زیادہ موثر اور بہترین ثابت ہوں گے اور مریض کو علاج کے دوران تکلیف بھی نہیں ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں