ہندوستانی فوج کے ہاتھوں حزب المجاہدین کے کمانڈر سمیت 17 کشمیری ہلاک

سری نگر(ویب ڈیسک)ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین میں جھڑپوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 17 ہوگئی جبکہ 200 سے زائد زخمیوں کو مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔پاکستان نے کشمیری حریت پسند اور حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان مظفر وانی کی ہندستانی فورسز کے ہاتھوں ’ماورائے عدالت قتل‘ کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

خیال رہے کہ حزب المجاہدین کے 22سالہ کمانڈر برہان مظفر وانی کو ہندوستانی فوج نے 2 روز قبل مقابلے میں نشانہ بنایا تھا، برہان مظفر وانی کی ہلاکت کی خبر پورے کشمیر میں بہت تیزی سے پھیلی جبکہ نوجوانوں کی جانب سے شدید رد عمل بھی دیکھنے میں آیا۔

گزشتہ روز برہان مظفر وانی کی گزشتہ روز نماز جنازہ پر احتجاج شروع ہوا تھا، جس میں سیکیورٹی فورسز اور نوجوانوں میں تصادم ہوا تھا۔

نوجوانوں کی جانب سے فورسز پر پتھراؤ کیا گیا جبکہ ہندوستانی فوج نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پہلے آنسو گیس استعمال کی مگر احتجاج کنٹرول نہ ہونے پر فائرنگ کی جس کے بعد کئی افراد ہلاک ہوئے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق 2 روز کے دوران احتجاج میں 17 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 200 زائد زخمیوں کو بھی طبی امداد کے لیے مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔

کل جماعتی حریت کانفرنس کی اپیل پر کشمیر میں اتوار کے روز بھی ہڑتال ہے، تمام کاروباری مراکز بند ہیں جبکہ سڑکیں بھی سنسان ہیں، فوج نے بھی کشمیر میں کرفیو نافذ کیا تاکہ نوجوانوں کے احتجاج کو روکا جا سکے لیکن کئی مقامات پر نوجوانوں کی جانب سے ٹولیوں کی صورت میں احتجاج دیکھنے میں آیا۔

یاد رہے کہ ایک سال قبل حزب المجاہدین کے 21 سالہ کمانڈر برھان مظفر وانی کی ایک ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں انہوں نے کشمیری نوجوانوں کو مسلح جدوجہد کا حصہ بننے کی دعوت دی تھی.

خیال رہے کہ برہان مظفر وانی کے بھائی محمد خالد وانی کو گزشتہ سال 14 اپریل 2015 کو ہندوستانی فوج نے ترال کے علاقے میں ایک ‘جعلی مقابلے’ میں ہلاک کر دیا تھا. خالد حسین ایم ایس کے طالب علم تھے ان کے ہمراہ ان کے ایک دوست بھی ہلاک ہوئے تھے۔

برہان مظفر وانی کے والد مظفر احمد وانی کا کہنا تھا کہ خالد گھر سے اسی وقت گیا تھا، اس کو جعلی مقابلے میں ہلاک کیا گیا۔

ہندوستانی فوج کی جانب سے حزب المجاہدین کے 21 سالہ کمانڈر کی کسی بھی قسم کی اطلاع دینے والے لیے 10 لاکھ روپے انعام دینے کا بھی اعلان کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ ہندوستان کے زیر انتظام کے کشمیر میں حالیہ دنوں میں ایک بار پھر مسلح جدو جہد تیز ہو گئی ہے، کچھ عرصہ قبل بھی ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے مسلح حریت پسندوں کی تصاویر سامنے آئی تھیں۔

کشمیر میں ہندوستانی فوج پر حملوں میں بھی اضافہ ہوا ہے جن میں متعدد فوجیوں کی ہلاکت ہوئی۔

ایک ہفتہ قبل ضلع کپواڑہ میں ہندوستانی فورسز کی فائرنگ سے کشمیری نوجوان کی ہلاکت پر بارہ مولا میں مظاہرے پھوٹ پڑے تھے۔

پولیس حکام نے نے بتایا تھا کہ ہلاک ہونے والا نوجوان کشمیر کی علیحدگی پسند تنظیم ’حزب المجاہدین‘ کا ڈویژنل کمانڈر سمیر احمد وانی تھا۔

سمیر احمد وانی کپواڑہ میں ہونے والی 6 گھنٹے طویل مسلح جھڑپ میں نشانہ بنایا تھا جبکہ ایک شہری کا گھر بھی مکمل تباہ ہوگیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں