افغان سفیر نے حافظ سعید خان کی ہلاکت کی تصدیق کردی

پشاور(ویب ڈیسک)پاکستان میں تعینات افغان سفیر نے افغانستان میں داعش یا دولت اسلامیہ خراسان کے رہنما حافظ سعید خان کی امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کی تصدیق کردی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق افغان سفیر عمر زاخیلوال نے بتایا ہے کہ ‘میں تصدیق کرسکتا ہوں کہ افغانستان میں داعش کے رہنما حافظ سعید خان اپنے دیگر سینئر کمانڈروں اور جنگجوؤں کے ساتھ 26 جولائی کو افغانستان کے صوبے ننگرہار کے ضلع کوٹ میں امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہوئے ہیں’۔

ادھر افغانستان کے دارالحکومت کابل میں موجود امریکی فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ وہ اس بات کی تصدیق نہیں کرسکتے ہیں تاہم حکام اس حوالے سے تحقیقات کررہے ہیں۔ خیال رہے کہ دو روز قبل افغان میڈیا نے ملکی وزارت دفاع کے حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ وہ دولت اسلامیہ خراسان کے سربراہ حافظ سعید کے ہلاک ہونے کی خبروں سے آگاہ ہیں تاہم ان کی تصدیق کے لیے تحقیقات کی جارہی ہیں۔

تاہم افغان نیشنل آرمی کے کمانڈر جنرل زمان وزیری کا کہنا تھا کہ حافظ سعید اپنے 30 ساتھیوں کے ساتھ صوبہ ننگرہار کے ضلع اچن میں ہونے والے ایک آپریشن کے دوران ہلاک ہوئے ہیں۔

خیال رہے کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ حافظ سعید کے ہلاک ہونے کی خبریں گردش کررہی ہیں اس سے قبل بھی 12 جولائی 2015 کو ایسی خبر منظرعام پر آئی تھی کہ دہشت گرد تنظیم کے سربراہ افغان صوبے ننگرہار کے ضلع اچن میں ایک ڈرون حملے میں ہلاک ہوگئے۔

تاہم تنظیم نے اگلے ہی روز 13 جولائی 2015 کو ایک آڈیو پیغام جاری کیا اور حافظ سعید کی ہلاکت کے حوالے سے خبروں کی تردید کی، مبینہ طور پر یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ آڈیو پیغام میں سنائی دینے والی آواز ان ہی کی ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ سال مبینہ طور پر پاکستان سے تعلق رکھنے والے حافظ سعید اور کچھ دوسرے سینیئر طالبان کمانڈرز نے افغانستان میں داعش سے اتحاد کر لیا تھا۔ واضح رہے کہ گذشتہ دو سالوں سے دنیا کے شورش زدہ علاقوں، جن میں افغانستان، شام، عراق، اور یمن سمیت مشرق وسطیٰ کے دیگر علاقے شامل ہیں، میں داعش کے جنگجو امریکی ڈرون حملوں کا ہدف ہیں، جن کے نتیجے میں گذشتہ سال ایک ہی ہفتے کے دوران داعش کے 3 دیگر کمانڈر ہلاک کیے گئے، جن میں شاہد اللہ شاہد اور گل زمان شامل ہیں۔

طالبان کو بے دخل کرنے کے بعد افغان صوبے ننگرہار کے مختلف اضلاع پر داعش کے جنگجوؤں نے قبضہ کرلیا تھا، جن میں سے ایک ضلع اچن ہے، جہاں گزشتہ گذشتہ سال طالبان اور داعش کے جنگجوؤں میں گھمسان کی لڑائی ہوئی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں