آئی فونز میں خطرناک اسپائی وئیر دریافت

اگر تو آپ ایپل کا آئی فون استعمال کرتے ہیں تو فوری طور پر سیٹنگز کے مینیو میں جاکر آئی او ایس نائن کا نیا ورژن فوری طور پر انسٹال کرلیں ورنہ آپ کی ڈیوائس ہیکرز کا نشانہ بن سکتی ہے۔

یہ انتباہ ایپل کی جانب سے جاری کیا گیا ہے جس نے مشرق وسطیٰ میں ایسے اسپائی وئیر کے سامنے آنے کا اعتراف کیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اسپائی وئیر ایپل کے انتہائی کامیاب موبائل سافٹ وئیر میں موجود نامعلوم کمزوری کا فائدہ اٹھاتا ہے اور ہیکر کو ڈیوائس پر مکمل کنٹرول حاصل ہوجاتا ہے۔

اس اسپائی وئیر کی مدد سے ہیکرز آپ کی ڈیوائس سے ٹیکسٹ میسجز اور ای میلز تحریر کرنے کے ساتھ ساتھ کالز اور کانٹیکٹس کو ٹریک کرسکتے ہیں، جبکہ ساﺅنڈ ریکارڈ، پاس ورڈ کے حصول اور صارف کی جائے وقوع تک جان سکتے ہیں۔

یہ سافٹ اس وقت آئی فون کو ہیک کرنے کے قابل ہوجاتا ہے جب صارفین کسی متاثرہ ویب ایڈریس پر وزٹ کرتے ہیں جو کہ عام طور پر ٹھیک ویب سائٹ نظر آرہی ہوتی ہے۔

اب تک بی بی سی، سی این این، یوٹیوب، فیس بک، گوگل اور واٹس ایپ سے ملتے جلتے پیجز کودریافت کیا جاچکا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایسا اسپائی وئیر ہے جو اب تک دیکھنے میں نہیں آیا اور یہ اب تک کا سب سے خطرناک سافٹ وئیر قرار دیا جاسکتا ہے۔

اس کے لیے ایپل نے آئی او ایس 9.3.5 میں سیکیورٹی اپ ڈیٹ کی ہے اور تمام صارفین کو اسے اپ ڈیٹ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

اس کے لیے آپ کو آئی فون یا آئی پیڈ پر سیٹنگز، جنرل، سافٹ وئیر اپ ڈیٹ اور ڈاﺅن لوڈ پر کلک کرکے اسے انسٹال کرلینا ہے۔

خیال رہے کہ ایپل کی جانب سے آئندہ ماہ کے آخر تک آئی او ایس 10 کو بھی متعارف کرائے جانے کا امکان ہے جس میں موجودہ سیکیورٹی کمزوری کو فکس کرکے پیش کیا جائے گا۔ ایک اسرائیلی کمپنی جس کے اسرائیل کی حکومت سے روابط بھی ہیں، رپورٹس کے مطابق آئی فونز کے لیے خطرہ بننے والے اس اسپائی وئیر یا ٹول کے پیچھے ہے۔

این ایس او نامی کمپنی دنیا بھر میں حکومتوں، افواج اور انٹیلی جنس اداروں کو ہیکنگ ٹولز فروخت کرتی ہے اور عام طور پر خود کو نظروں سے اوجھل رکھنے کی کوشش کرتی ہے جس کے لیے وہ اکثر نام بھی بدلتی رہتی ہے۔

این ایس او گروپ کو عمری لیوی اور شیلو ہیولیو نے قائم کیا تھا اور اس کی بنیاد 2009 میں رکھی گئی تھی۔

اس کا صدر دفتر اسرائیل کے علاقے Herzelia میں ہے اور کمپنی کے شریک بانیوں کے لنکڈن پروفائلز میں لکھا ہے کہ یہ اسرائیل میں کئی کمپنیوں کے مالک رہ چکے ہیں۔

اسی طرح شیلو ہیولیو کی پروفائل کے مطابق وہ اسرائیل ڈیفنس فورسز میں ایک کمپنی کمانڈر ہے جبکہ عمری لیوی نے خود کو اسرائیلی حکومت کا ایک ملازم قرار دیا ہے۔

اس کمپنی کے بارے میں زیادہ تفصیلات تو موجود نہیں مگر یہ واضح ہے کہ وہ سائبر وار فئیر میں مہارت رکھتی ہے بلکہ اس نے خود کو اس شعبے میں لیڈر قرار دے رکھا ہے جو مانیٹرک کے لیے ‘ Pegasus ‘ نامی ٹول کو استعمال کرتی ہے۔

یہ ٹول 2013 میں اائی فون، بلیک بیری اور اینڈرائیڈ فون کی ہیکنگ کا کامیاب تجربہ کرچکا ہے اور این ایس او کے شریک بانی عمری لیوی کے مطابق آپ کے اسمارٹ فونز آج کے نئے واکی ٹاکی ہیں، جن کو ہدف بنانا بہت آسان ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں