پاک-بھارت افواج میں رابطے کے تمام ذرائع بحال ہیں، عاصم باجوہ

اسلام آباد: پاک افواج کے شعبہ تعلقات (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کا کہنا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے تناظر میں پاکستانی اور ہندوستانی افواج کے درمیان رابطے کے تمام ذرائع بحال ہیں۔

چین کی سرکاری نیوز ایجنسی *ژینوا * کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے تمام اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے تصدیق کی کہ پاک-بھارت ڈائریکٹر جنرل آف ملٹری آپریشننز (ڈی جی ایم او) کا لائن آف کنٹرول پر حالیہ کشیدگی کے باعث ایک دوسرے سے رابطہ ہوا تھا۔

جنرل عاصم باجوہ نے کہا کہ ‘دونوں طرف کی افواج کے درمیان ہاٹ لائن سمیت مواصلاتی چینلز کھلے ہیں۔’

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے کے تمام ممالک کے ساتھ پر امن تعلقات چاہتا ہے اور یہ پاکستانی ریاست، پاکستانی حکومت اور ملک میں موجود تمام صاحبِ اختیار عناصر کی پالیسی ہے۔ جنرل باجوہ نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ ہندوستان نے 29 ستمبر کو لائن آف کنٹرول پر سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کی اور بعد میں پاکستان کی حدود میں ‘سرجیکل اسٹرائیکس’ کا دعویٰ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم نے اپنی طرف مکمل جائزہ لیا اور ہمیں یہ معلوم ہوا کہ یہ دعویٰ بالکل جھوٹا تھا۔’

پاک-بھارت حالیہ کشیدگی کا آغاز اُس وقت ہوا جب 18 ستمبر کو کشمیر کے اڑی فوجی کیمپ پر حملے کے بعد، جس میں 18 بھارتی فوجی ہلاک ہوئے تھے، ہندوستان نے اس کا الزام پاکستان پر لگاتے ہوئے اسے عالمی سطح پر تنہا کرنے کی سفارتی کوششوں کا آغاز کردیا، تاہم اسلام آباد نے اس الزام کو یکسر مسترد کردیا تھا۔

بعدازاں 29 ستمبر کو بھارت نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے کنٹرول لائن کے اطراف پاکستانی علاقے میں دہشت گردوں کے لانچ پیڈز پر سرجیکل اسٹرائیکس کیں جس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی عروج پر پہنچ گئی۔

پاکستان نے ہندوستان کی جانب سے سرجیکل اسٹرائیکس کے دعوے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ کنٹرول لائن پر سیز فائر کی خلاف ورزی کا واقعہ تھا جس کے نتیجے میں اس کے دو فوجی جاں بحق ہوئے۔ بعد ازاں یہ رپورٹس بھی سامنے آئیں کہ پاکستانی فورسز کی جانب سے ایک ہندوستانی فوجی کو پکڑا بھی گیا ہے جبکہ بھرپور جوابی کارراوئی میں کئی انڈین فوجی ہلاک بھی ہوئے۔

ہندوستان کی جانب سے سرجیکل اسٹرائیکس کا دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا تھا جب کشمیر کی موجودہ صورتحال پر دونوں ملکوں کے تعلقات پہلے ہی کشیدہ تھے اور اس واقعے نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔

8 جولائی کو حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی انڈین فورسز کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد سے کشمیر میں صورتحال کشیدہ ہے اور پولیس سے جھڑپوں اور مظاہروں میں اب تک 100 سے زائد کشمیری ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوچکے ہیں جبکہ چھرے لگنے سے 150 سے زائد کشمیری بینائی سے محروم ہوچکے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں