پاناما لیکس: سپریم کورٹ نے 3 سوالات اٹھا دیئے

اسلام آباد: وزیراعظم نواز شریف کے خلاف پاناما لیکس پر درخواستوں کی سماعت کے دوران حکومتی اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد سپریم کورٹ نے 3 سوالات اٹھاتے ہوئے کیس کی سماعت 7 دسمبر تک ملتوی کردی۔

سپریم کورٹ آف پاکستان میں پاناما لیکس کے معاملے پر وزیراعظم نواز شریف کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی۔

چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے درخواستوں پر سماعت کی۔

تحریک انصاف کی جانب سے نعیم بخاری اور وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے سلمان اسلم بٹ پیش ہوئے، اس موقع پر پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان اور پارٹی رہنماؤں سمیت حکومتی وزراء بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔

دونوں جانب کے دلائل سننے کے بعد جسٹس آصف سعید کھوسہ کی جانب سے 3 سوالات اٹھائے گئے:

1:وزیراعظم کے بچوں نے کمپنیاں کیسے بنائیں؟
2:زیر کفالت ہونے کا معاملہ
3:وزیراعظم کی تقریروں میں سچ بتایا گیا ہے یا نہیں؟

اس سے قبل سماعت کے آغاز پر جماعت اسلامی کے وکیل نے ايک بار پھر کمیشن تشکیل دینے کی استدعا کی تھی، جس پر چيف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اگر اس نتیجے پر پہنچے کہ انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوں گے تو ضرور کمیشن بنائیں گے، تمام آپشن کھلے رکھے ہیں۔

چيف جسٹس نے کہا کہ کہیں کوئی کارروائی نہیں ہوئی تو عدالت عظمی نے معاملہ ٹیک اَپ کیا۔

پی ٹی آئی وکیل کے دلائل
سماعت کے دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وکیل نعیم بخاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ 2014 اور 2015 میں حسین نواز نے اپنے والد کو 74 کروڑ کے تحفے ديئے، جس پر ٹیکس ادا نہیں کیا گیا جبکہ مریم نواز کے اپنے والد کے زیر کفالت ہونے کے واضح ثبوت ہیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے والد کے زير کفالت ہونے کے ثبوت سے متعلق استفسار کيا، جس پر نعیم بخاری نے بتایا کہ والد نواز شریف نے مریم صفدرکو 3 کروڑ 17 لاکھ اور حسن نواز کو 2 کروڑ کے تحفے دیئے۔

جسٹس کھوسہ نے نعيم بخاری سے کہا کہ دلائل سے ظاہر ہوتا ہے مریم نواز زیرکفالت ہیں، ليکن مریم نواز کس کی زیرکفالت ہیں؟

نعيم بخاری نے کہا کہ مریم نواز چوھدری شوگر مل کی شیئر ہولڈر ہيں، ان کی زرعی اراضی موجود ہے اور 2011 سے 2012 کے دوران ان کے اثاثوں میں بھی اضافہ ہوا ليکن مريم نواز کہتی ہيں کہ ان کی کوئی جائیداد نہیں۔

پی ٹی آئی وکیل کا مزید کہنا تھا کہ 2011 ميں مريم نواز اپنے والد کی زيرکفالت تھيں، جنھیں نواز شريف نے 3 اور پھر 5 کروڑ تحفے میں دیئے.

جسٹس عظمت نے کہا کہ مریم نوازکے فائدہ مند ہونے کی دستاویز کا انہوں نے اعتراف نہيں کیا۔

نعيم بخاری نے حسن نواز کے متعلق دلائل دیئے تو جسٹس آصف سعيد کھوسہ نے کہا کہ کرایہ پاکستان سے آتا ہے لیکن وہ بزنس سے آتا ہے، یہ بات نوٹ کی گئی ہے۔

نعیم بخاری نے کہا کہ کرایہ کاروبار سے ادا کرنے کا کوئی دستاویزی ثبوت نہیں، 1999 میں حسن نواز طالبعلم تھے، لیکن 2 سال بعد فلیگ شپ کمپنی بنانے کی رقم کہاں سے آئی۔

جسٹس کھوسہ نے استفسار کیا کہ کیا حسن نواز کا بیان قطری شہزادے کے خط سے مطابقت رکھتا ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ لندن کی جائیداد ان کی تھی اور اس کا مطلب یہ ہے کہ لندن فلیٹس کا کرایہ پاکستان سے قطر جاتا تھا۔

جسٹس عظمت سعيد نے کہا کہ تمام بیانات کو ملا کر پڑھیں، پيسہ دبئی سے قطر، پھر سعودی عرب اور پھر لندن گیا۔

سماعت میں وقفے کے دوران عدالت عظمیٰ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنماؤں نے بتایا کہ آج کے دلائل وزیراعظم کے بچوں اور ان کے اثاثوں سے متعلق تھے اور آج تمام شواہد اور دستاویزات پر گفتگو ہوئی۔

پی ٹی آئی ترجمان نعیم الحق نے کہا کہ دستاویزات دے کر نواز شریف کے خلاف کیس ثابت کردیا۔

حکومتی وکیل کے دلائل
وقفے کے بعد جب کیس کی سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو وزیراعظم کے وکیل سلمان اسلم بٹ نے دلائل دیئے اور کہا کہ درخواست گزاروں نے کوئی ثبوت فراہم نہیں کیے۔

ان کا کہنا تھا کہ 1992 میں مریم نواز کی شادی کے بعد وہ وزیراعظم کی زیر کفالت نہیں، اس طرح یہ دلائل کے مریم نواز 2011 اور 2012 میں وزیر اعظم کے زیر کفالت تھیں، درست نہیں۔

سلمان اسلم بٹ کا کہنا تھا کہ کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت صرف بیگم کلثوم نواز زیر کفالت تھیں۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے سلمان اسلم بٹ کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ پیسہ کہاں سے آیا یہ آپ نے ثابت کرنا ہے۔

سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ مریم نواز کی جائیداد کی تفصیلات فراہم کرنے کے لیے کوئی اور کالم موجود نہیں تھا۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے استفسار کیا کہ اگر کوئی مخصوص کالم نہیں تھا تو نام لکھنے کی کیا ضرورت تھی، اگر نام لکھنا ضروری تھا تو کسی اور کالم میں لکھ دیتے۔

بعدازاں عدالت نے پوچھے گئے تینوں سوالوں کا جواب مانگتے ہوئے کیس کی سماعت کل بروز بدھ (7 دسمبر) تک کے لیے ملتوی کردی، سلمان اسلم بٹ کل اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔

گذشتہ سماعتیں
یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف، جماعت اسلامی، عوامی مسلم لیگ، جمہوری وطن پارٹی اور طارق اسد ایڈووکیٹ نے پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ میں آئینی درخواستیں دائر کی تھیں۔

سپریم کورٹ نے 20 اکتوبر 2016 کو وزیراعظم کے خلاف دائر درخواستوں پر وزیراعظم نواز شریف، وزیر خزانہ اسحٰق ڈار، وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز، داماد کیپٹن (ر) صفدر، بیٹوں حسن نواز، حسین نواز، ڈی جی فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے)، چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور اٹارنی جنرل سمیت تمام فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت 2 ہفتوں کے لیے ملتوی کردی تھی، بعدازاں اس کی سماعت کے لیے یکم نومبر کی تاریخ مقرر کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:پاناما لیکس: وزیراعظم سمیت دیگر فریقین کو نوٹسز جاری

28 اکتوبر کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے پاناما لیکس پر درخواستوں کی سماعت کے لیے لارجر بینچ تشکیل دیا تھا۔ لارجر بینچ میں چیف جسٹس انور ظہیر جمالی، جسٹس آصف سعید کھوسہ، جسٹس امیرہانی مسلم، جسٹس عظمت سعید شیخ اور جسٹس اعجاز الحسن شامل ہیں۔

یکم نومبر کو ہونے والی سماعت میں سپریم کورٹ نے پاناما پیپرز کی تحقیقات کے لیے حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے تحقیقاتی کمیشن کے ٹرمز آف ریفرنسز (ٹی او آرز) پر تحریری جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 3 نومبر تک ملتوی کردی تھی۔

3 نومبر کی سماعت میں وزیر اعظم کی جانب سے ان کے وکیل نے جواب داخل کرایا جبکہ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے بھی اپنے ٹی او آرز جمع کرائے تھے۔

عدالت نے وزیراعظم کے بچوں کی جانب سے جواب داخل نہ کرائے جانے پر برہمی کا اظہار کیا تھا اور وزیراعظم کے وکیل سلمان اسلم بٹ کی سرزنش کی تھی جبکہ جواب داخل کرنے کے لیے 7 نومبر تک کی مہلت دی تھی۔

یہاں پڑھیں: قطری شہزادے کا خط اور وزیراعظم کا موقف مختلف: سپریم کورٹ

بعد ازاں تحریک انصاف نے کمیشن کے حوالے سے سماعت کے بعد سپریم کورٹ میں اپنے ٹی او آرز جمع کروائے جبکہ وزیراعظم کے داماد کیپٹن (ر) صفدر نے بھی اپنا جواب اور ٹی او آرز عدالت عظمیٰ میں جمع کرادیا تھا۔

7 نومبر کی سماعت میں وزیراعظم کے بچوں حسن نواز، حسین نواز اور مریم صفدر نے جواب داخل کرائے تھے۔

اس کے بعد چیف جسٹس نے تمام فریقین کو ہدایت کی تھی کہ وہ 15 نومبر تک دستاویزی شواہد پیش کریں جبکہ کیس کی سماعت بھی 15 نومبر تک کے لیے ملتوی کردی گئی تھی۔

15 نومبر کو ہونے والی سماعت کے دوران وزیراعظم اور ان کے بچوں کی جانب سے 400 صفحات سے زائد پر مشتمل دستاویزات عدالت عظمیٰ میں جمع کرائی گئیں، جن میں وزیراعظم نواز شریف کے ٹیکس ادائیگی سمیت زمین اور فیکٹریوں سے متعلق تفصیلات اور زمینوں کے انتقال نامے بھی شامل تھے۔

عدالت میں قطر کے سابق وزیر خارجہ شہزادے حماد بن جاسم بن جبر الثانی کا تحریری بیان بھی پیش کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: آپ کس کی نمائندگی کررہے ہیں؟سپریم کورٹ کا پی ٹی آئی وکیل سے سوال

بعدازاں 17 نومبر کو ہونے والی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کی جانب سے پاناما لیکس کے معاملے پر جمع کرائے گئے شواہد پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ 680 صفحات پر مشتمل جواب کا شریف خاندان کی لندن میں موجود جائیدادوں سے کوئی لینا دینا نہیں۔

عدالت کا کہنا تھا، ‘ہم سمجھنے سے قاصر ہیں کہ کون سا وکیل کس کی نمائندگی کررہا ہے’.

عدالت نے تاسف کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ عدالت کو موصول ہونے والی دستاویزات کی تعداد واضح کرتی ہے کہ کارروائی 6 ماہ میں بھی مکمل نہیں ہوسکے گی، بعدازاں کیس کی سماعت 30 نومبر تک ملتوی کردی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:پاناما لیکس پر میڈیا کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی ہدایت

جس کے بعد حامد خان نے سپریم کورٹ میں زیر سماعت مقدمے میں پی ٹی آئی کی نمائندگی سے معذرت کرلی تھی۔

30 نومبر کو ہونے والی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے جہاں میڈیا کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی ہدایت کی گئی، وہیں پی ٹی آئی کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ وزیراعظم نواز شریف کے پاس دبئی، سعودی عرب اور لندن فلیٹس کا کوئی منی ٹریل نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں