روزہ رکھنا دماغی امراض کے مریضوں کیلئے مفید

کراچی(آن لائن نیوز اردو پاور) ماہر دماغی و اعصابی امراض ڈاکٹر محمد واسع شاکر نے کہا ہے کہ روزے کا سب سے زیادہ فائدہ ڈپریشن کے مریضوں کو ہوتا ہے اور ان کی بیماری بہتر ہوجاتی ہے روزے سے نہ صرف ڈپریشن کم ہوجاتا ہے بلکہ مریض پر دواؤں کے اثرات بھی نمایاں ہونے لگتے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ روزے سے دماغی صحت پر اثرات جاننے کے لیے ماسکو کے انسٹیٹیوٹ آف سائیکاٹری میں ایک تحقیق کی گئی جس میں ہزاروں مریضوں پر تجربات کرکے ثابت کیا گیا کہ شیزوفرینیا اور پاگل پن کے جو مریض عام طور پر دواؤں سے کنٹرول میں نہیں آتے ان کو اگر روزہ رکھوایا جائے تو شیزوفرینیا کے مرض میں70 فیصدکمی ہوجاتی ہے.
ان کا کہنا تھا کہ روزہ رکھنے سے اعصابی کمزوری ، ڈپریشن اور تشویش کی بیماری (اینزائٹی ) میں خاصہ افاقہ ہوتا ہے جبکہ جن لوگوں کو پینک اٹیک یعنی تشویش کے دورے پڑتے ہیں بار بار گھبراہٹ طاری ہوتی ہے۔ ان کی تکلیف میں بھی روزہ رکھنے سے کمی آجاتی ہے انھوں نے بتایا کہ روزہ رکھنے سے بائی پولر ڈس آڈر جس میں موڈ یکلخت بدل جاتا ہے بھی کنٹرول ہو جاتا ہے ان کا کہنا تھا کہ جسمانی صحت کی طرح دماغی صحت بھی انسان کے لیے نہایت ضروری ہے دنیا میں دماغی بیماریاں نہ صرف عام ہیں بلکہ تیزی سے بڑھ رہی ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں