اعوذ             باالله من             الشيطن             الرجيم                بسم الله             الرحمن             الرحيم                الحمد لله              رب             العالمين .             الرحمن             الرحيم . ملك             يوم الدين .             اياك نعبد و             اياك             نستعين .             اهدناالصراط             المستقيم .             صراط الذين             انعمت             عليهم '             غيرالمغضوب             عليهم             ولاالضالين

WWW.URDUPOWER.COM-POWER OF THE TRUTH..E-mail:JAWWAB@GMAIL.COM     Tel:1-514-970-3200 / 0333-832-3200       Fax:1-240-736-4309

                    

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

Telephone:-919599844484

Email:-ahmaduwaisukasha@gmail.com

کالم نگار کے مرکزی صفحہ پر جانے کے لیے کلک کریں

تاریخ اشاعت:۔2011-08-05

ملازمت کیلئے امیدواروں میں اہلیت کا فقدان
کالم ۔۔۔۔۔۔۔ اے یو عکاشہ
گذشتہ دنوں سروے سے پتہ چلا ہے کہ ہندوستان میںبڑی نوکریاں بھی آ رہی ہیں۔بین الاقوامی ادارے گلوبل ہنٹ نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ معقول پیشہ وروں کی دستیابی اور کم لاگت کی وجہ سے بڑے عالمی کاروباری اداروں کا رخ ہندوستان کی طرف پڑا ہے۔دوسرے معنوں میں ملک ماہر ملازمین کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ فرم کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو تین سال میں ہندوستان آنے والے عالمی کردار والے روزگارمیں 25-35 فیصد اضافہ ہوا ہے۔گلوبل ہنٹ کے ڈائریکٹر سنیل گوئل نے کے مطابق ہندوستان میں بڑی تعداد میں ماہر پیشہ ورانہ بہت ہی مسابقتی لاگت پر دستیاب ہیں۔ ان کی مہارت عالمی ہے اور ٹیکنالوجی اور تجزیہ کے لحاظ سے اس کا جوڑ نہیں ہے۔ان کے مطابق ، تقریبا 20 فیصد کمپنیوں نے ہندوستان کو علاقائی درجہ دیا ہے اور ہندوستان ان کے لئے اب ایشیا پیسفک کا حصہ نہیں رہ گیا ہے۔ فرم کے مطابق اس کے علاوہ ، 15-20 فیصد عالمی ملازمین اپنے عہدوںکے لحاظ سے ہندوستانی حکام کے تحت آ رہے ہیں۔ یعنی اب فیصلہ کی قوت کی عملی صلاحیت بھی ہندوستان آ رہی ہے جبکہ اب تک عام طور پر یہی سمجھا جا رہا تھا کہ صرف دفتری کام ہی یہاں آتے ہیں۔دوسری جانب اپنے یہاں کام پر بھرتی کرنے والوں کی اکثریت کو آج کل لوگوں کی خدمات حاصل کرنے میں کافی دشواریوں کا سامنا ہے کیونکہ امیدوار تو مل جاتے ہیں لیکن ان میں اہلیت کا فقدان ہوتا ہے۔ یہ بات آج ایک سروے میں کہی گئی۔نوکری ڈاٹ کام نامی ایک پورٹل میں لوگوں کی خدمات حاصل کرنے کے معاملات سے متعلق ایک سروے کرایا ہے جس میں مختلف زمرات کے نوکری دینے والے 61 فیصد لوگوں نے کہاکہ انہیں ملازمین کو اپنے یہاں رکھنے کے لئے اہلیت کے فقدان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔41 فیصد سے 61 فیصد تک حاضرین نے کہاکہ جن درخواست دہندگان کے پاس کام کرنے کا 4 سے8 سال تک تجربہ ہے ان کے یہاں اہلیت کی کمی زیادہ ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ سروے کے دوران سوالوں کا جواب دینے والے 60 فیصد لوگوں نے یہ پیش گوئی کی ہے کہ 2011 کے دوسرے نصف میں زیادہ سے زیادہ مانگ ایسے ملازمین کی ہی ہوگی جن کے پاس 4 سے 8 سال تک کا تجربہ ہے۔بیس فیصد آجرین نے بتایاکہ جن لوگوں کے پاس 8 سے 15 سال کا تجربہ ہے ان امیدواروں میں امکان بالکل نہیں ہے۔ 68 فیصد آجرین کا اندازہ ہے کہ 2011 کے دوسرے نصف میں روزگار کے زیادہ امکانات نکلیں گے جبکہ 2 فیصد آجرین کا قیاس ہے کہ جو ادارے اس وقت چل رہے ہیں ان میں سے کچھ میں کام بند ہوگا اور لوگوں کو ہٹایا جائے گا۔نوکری چھوڑنے والوں سے متعلق ایک سوال کے جواب میں 60 فیصد سے زیادہ لوگوں نے بتایاکہ نوکریاں چھوڑنے والوں کی تعداد 10 فیصد سے کم ہے جبکہ 20 فیصد آجرین نے کہاکہ ایسا نہیں بلکہ 20 فیصد سے زیادہ ہیں۔ کل ملا کر 32 فیصد لوگوں نے بتایاکہ وہ تنخواہوں میں 10 سے 15 فیصد کا اضافہ کرتے ہیں۔ 31 فیصد نے کہاکہ ان کے یہاں یہ اضافہ 15 سے 20 فیصد کا ہے۔ لیکن 18 فیصد ایسے آجرین بھی ہیں جن کے یہاں ملازمین کی تنخواہوںمیں اضافہ 5 سے 10 فیصد کا ہوتا ہے۔اس سروے میں 2011 کے پہلے 6 مہینے کے دوران لوگوں کو ملازمت پر حاصل کرنے کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا جس میں مختلف صنعتوں کے 950 سے زائد آجرین نے حصہ لیا۔وجہ صاف ہے ملک میں تعلیمی معیار کا گرتا ہوا رجحان جبکہ تعلیمی نظام کسی قوم کی پہچان اور اس کا مستقبل ہوتا ہے۔ ہندوستان کا تعلیمی نظام آج جس مقام پرکھڑا ہے وہ اپنے آپ میں ایک سوالیہ نشان ہے۔ بد عنوانی اور اثرورسوخ کے بے جا استعمال نے تعلیمی نظام کا بیڑہ غرق کر کے رکھ دیا ہے۔
دہلی کے قدیم ترین تعلیمی ادارے اینگلو عربک اسکول کے اولڈ بوائز میٹنگ کے دوران ذاکر حسین کالج کے پرنسپل ڈاکٹر محمد اسلم پرویز نے اپنے خطاب گرتے ہوئے تعلیمی معیار پرروشنی ڈالی۔انھوں نے کہا کہ تعلیمی معیار کے اجزائے ترکیبی استاد‘ طلبہ اوروالدین ہیں۔اینگلوعربک اسکول میں پیش آئے ایک واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کسی استاد نے اپنے شاگرد کو تنبیہ کرنے کی غرض سے طمانچہ رسید کردیا۔ مشتعل طالب علم نے گھر جاکر اپنے والد کو بھڑکادیا جس پر والد موصوف نے اسکول آکر بیٹے کے انتقام میں استاد کو تھپڑ مارا۔ یہاں مذکورہ تینوں اجزاءکا الگ الگ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔دراصل تعلیم سے منسلکہ لوگوں کا مطمح نظر تنخواہ کی وصولی سے زیادہ نہیں ہو سکا اور نہ ہی روایتی ڈگر سے ہٹ کر کوئی تبدیلی دیکھنے میں آسکی ہے۔ حالات نے اساتذہ کو مسلسل کام کرنے پر مجبور کر رکھا ہے جس کی وجہ سے تعلیمی معیار پست سے پست ہوتا جارہا ہے۔ سفید پوش اساتذہ کی اشتہا بڑھ چکی ہے۔ انہیں معاشرے میں مقابلے کا سامنا ہے۔ آج کا استاد دن میں کئی جگہ کام کرتا ہے اور تدریس کا معیارمتاثر ہو چکا ہے۔ اساتذہ کا ذرائع آمدنی کو بڑھانا اولین ترجیحات میں شامل ہو چکا ہے۔ ایک زمانہ میں اساتذہ کے بارے میں ذہین ہونے کا تصور رائج تھا آج چالاک اور ہوشیار کا تصور معاشرے میں موجود ہے۔ تعلیمی اداروں میں اساتذہ کے تقدس میں خاصی کمی دیکھنے میں آرہی ہے وجہ وہ خود ہیں۔ آج کا استاد وقت کے معاملے میں بہت حساس ہو گیا ہے۔ سرکاری تعلیمی ادارے سے وابستہ استاد اپنی تھکن ڈیوٹی کے اوقات میں اتارتے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں تشدد کو قانون کے ذریعہ روک دیا گیا ہے ورنہ اس سے قبل سماجی اور اخلاقی بنیادوں پر استاد اپنا حق سمجھتا تھا کہ اپنی فرسٹریشن طلبہ پر منتقل کر دے۔ ملک میں چار طرح کا تعلیمی معیار ہے جن میں اعلیٰ درجے کے پرائیویٹ تعلیمی اداری، مدارس، نچلے درجے کے تعلیمی ادارے اورسرکاری تعلیمی ادارے شامل ہیں۔ اور چار مختلف طرح کے تعلیمی معیار اس ذمہ داری میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں جو تعلیمی اداروں کوپوری کرنی چاہئے۔ تعلیمی نظام ڈگری یافتہ بنا رہا ہے بجائے اس کے کہ قوم کو تعلیم یافتہ بنائے۔ تعلیمی اداروں میں نظم و ضبط کی کمی کا رجحان جڑ پکڑ رہا ہے اس کے ذمہ دار طلبہ کے ساتھ اساتذہ بھی ہیں۔ شعبہ تعلیم اس وجہ سے بھی انحطاط پذیر ہے کہ منسلک لوگ اسے عارضی طور پر اپناتے ہیں لہٰذا یکسوئی کا فقدان موجود ہے۔ شعبہ تعلیم کے انحطاط کی دیگر وجوہات میں کمپیوٹر کا استعمال خاصا اہم ہے طلبہ کا اس کے استعمال کی وجہ سے مطالعہ اور کتاب سے رشتہ خاصا کمزور ہو چکا ہے۔ یوروپ میں ہونے والی حالیہ تحقیق کے مطابق جو بچے دو گھنٹے سے زیادہ وقت کمپیوٹر کے سامنے گزارتے ہیں ان میں نفسیاتی بیماری میں مبتلا ہونے کے امکان بڑھ جاتے ہیں۔ ہمارے طلبہ کئی کئی گھنٹے کمپیوٹر کی دوستی میں گزارتے ہیں جس کی وجہ سے وہ خاصے چڑچڑے ہو چکے ہیں اور ان کا دل و دماغ بوجھل رہتا ہے۔ آج کے دور میں ماں باپ اتنے مصروف ہو چکے ہیں کہ ان کے پاس اتنا وقت ہی نہیں بچتا کہ وہ بچوں سے باتیںکر سکیں۔ ان کی خوشیاں غم بانٹ سکیں ۔نتیجتاً اخلاقی گراوٹ طلبہ میں نمایاں ہے۔ ہندوستان ایک زرعی ملک ہے اور ملک میں جاگیردارانہ سوچ اور کلچر اپنی پوری آن بان کے ساتھ موجود ہے۔ جاگیردارانہ لچر میں اساتذہ کی حیثیت کم تر ہے۔ اور حکومتوں میں شامل غالب اکثریت براہ راست جاگیردار اور جاگیردارانہ کلچر کے حامیوں کی رہی ہے جس کی وجہ سے بھی معاشرے میں اساتذہ کا مقام بلند نہیں ہو سکا اور اس چیز نے آج ایک خاص سماجی برائی کی حیثیت اختیار کر لی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں اساتذہ نہ صرف یہ کہ خوشحال اور آسودہ حال ہوتے ہیں بلکہ معاشرتی اثرورسوخ میں بھی نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ استاد کے حوالے سے معاشرتی رویہ کو بدلا جائے۔ استاد کے ہاتھ میں قوم کا مستقبل ہوتا ہے اور ہم نے اسے خالی ہاتھ رکھا ہوا ہے۔ ملک میں موجود جاگیردارانہ سوچ کے تحت یہ سمجھا جاتا ہے کہ اگر بچے کو پڑھایا جائے تو وہ ماں باپ کا فرماں بردار نہیں رہتا۔ اس کے برعکس مدارس میں ماں باپ کی عزت کرنے پر خصوصی زور دیا جاتا ہے۔ معاشرتی تضادات تعلیمی شعبہ پر اثر انداز ہوئے ہیں۔ نچلے درجے کے پرائیویٹ اداروں کا ملک میں جال سا بچھا ہوا ہے جن میں شوقیہ افراد شعبہ تعلیم سے وابستہ ہیں اور ان کی بہت بڑی تعداد خواتین پرمشتمل ہے جو بہت ہی کم معاوضہ پر اپنی خدمات سرانجام دیتی ہیں۔ جعلی ڈگریوں کی بھر مار ہے اور اس میں تعلیمی ادارے اور انتظامیہ ملوث ہے۔ آج جیسی جھلک ہم دیکھ رہے ہیں آنے والے وقت میں اس سے برا حال ہو گا اگر ہم شعبہ تعلیم میں واضح بہتری اور تبدیلی نہ لا سکے۔ نقل کے بڑھتے ہوئے رجحان نے ملک کی جڑیں کھوکھلی کر دی ہیں ۔نقل کا رجحان لسانی رنگ میں ڈھل کر مزید خطرناک ہو جاتا ہے۔ پڑوسی ممالک میں بنگلہ دیش نے بہترین تعلیمی نظام اپنایا بین الاقوامی تجربات سے فائدہ اٹھایا اور آج سو فیصد شرح خواندگی کے ساتھ ایشیا میں پہلے نمبر پر آگیا ہے۔ جب کہ ہمارے دیہات میں گھوسٹ اور شہروں میں گھوسٹ نما تعلیمی ادارے ہمیں کہاں لے جارہے ہیں۔ ہم آنے والے وقت کے لیے کیسی کھیپ تیار کر رہے ہیں۔ ملک میں اعلیٰ درجے کے پرائیویٹ تعلیمی ادارے معیاری تعلیم فراہم کر رہے ہیںلیکن عوام یہ معیاری تعلیم حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔ معصوم بچے ہر قوم کا مستقبل ہوتے ہیں اگر ان کی دیکھ بھال تعلیم و تربیت کا صحیح طرح سے خیال رکھا جائے تب ہی یہ بڑے ہو کر مفید شہری ثابت ہو سکتے ہیں ہمیں آئندہ کس قسم کے شہری چاہئیں اس کا فیصلہ ہمیں آج کرنا ہے۔ یہ لمحہ فکریہ ہے مگر درحقیقت کوئی بھی اس طرف توجہ نہیں دے رہا کہ درحقیقت اس بگاڑ کی وجہ کیا ہے۔اس تنزلی کی ایک وجہ وہ غیر معیاری تعلیمی ادارے بھی ہیں جو ہر گلی کوچے میں موجود ہیں اور تجارت کے انداز پر تعلیم کو فروخت کررہے ہیں۔ان اسکولوں کا مقصد تعلیم کو عام کرنا نہیں ہے بلکہ پیسہ کمانا ہے جس کی وجہ سے بچوں کا مستقبل تاریک ہو رہا ہے کیونکہ ان کی بنیاد کمزور ہوتی ہے۔ وہ طلبہ و طالبات جو ان اسکولوں سے تعلیم حاصل کرتے ہیں ان کا معیار تعلیم بہت پست ہوتا ہے اور جب بنیاد ہی کمزور ہو گی تو عمارت کیسے مضبوط ہو سکتی ہے۔
 
 

Email to:-

 
 
 
 
 
 

© Copyright 2009-20010 www.urdupower.com All Rights Reserved

Copyright © 2010 urdupower.o.com, All rights reserved