اعوذ             باالله من             الشيطن             الرجيم                بسم الله             الرحمن             الرحيم                الحمد لله              رب             العالمين .             الرحمن             الرحيم . ملك             يوم الدين .             اياك نعبد و             اياك             نستعين .             اهدناالصراط             المستقيم .             صراط الذين             انعمت             عليهم '             غيرالمغضوب             عليهم             ولاالضالين

WWW.URDUPOWER.COM-POWER OF THE TRUTH..E-mail:JAWWAB@GMAIL.COM     Tel:1-514-970-3200 / 0333-832-3200       Fax:1-240-736-4309

                    

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

Telephone:- 

Email:-maiqbaldelhi@gmail.com

کالم نگار کے مرکزی صفحہ پر جانے کے لیے کلک کریں

تاریخ اشاعت:۔05-08-2011

حقیقت تویہ ہے
کالم    ۔۔۔۔۔۔۔  احتشام دھامہ
 میرے محبوب قائداعظم محمدعلی جناح کوقوم کے نوجوانوں پربہت فخرتھااورجواں نسل کو تحریک پاکستان کاہراول دستہ قراردیتے تھے اورآج عمران خاں تحریک انصاف کا ہراول دستہ قراردیتے ہیں ۔تحریک پاکستان کوقیام پاکستان کی منزل تک لے جانے میں جوکردارطلباء اورطالبات نے اداکیاوہ ہمارے لئے مشعلِ راہ ہوناچاہیے آپ کے کندھوں پرقدرت نے ایک عظیم ذمہ داری ڈال دی ہے قائداعظم کے پاکستان کوظلم،بے انصافی،بے حسی،بدعنوانی،بے غیرتی اوربدکاری کے عفریتوں کے چنگل سے آزادکرکے اسے بابائے قوم کے خوابوں کی روشن تصویر بنانا ایک ایساچیلنج ہے جسے اگرآپ قبول نہیں کریںگے تو پھرکون کرے گا؟اس وقت پاکستان کی5فی صدنوجوان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خاں کے ساتھ ہیں اوریہی ملک وقوم کے مسائل حال کریںگی،میاںنوازشریف نے ایک خطاب میں کہا کہ’’اگرنوجوان ہماراساتھ دے توہم ملک کودرپیش مسائل سے باہر نکل سکتے ہیں اورپاکستان کوامن کی سرزمین بناسکتے ہیں‘‘میاں صاحب!آپ کے اس بیان سے ثابت ہوتاہے کہ آپ ملک وقوم کے لئے کچھ نہیں کرپائیںگے ۔جناب میاں صاحب !اگرملک وقوم کے مسائل نوجوانوں نے ہی حل کرنے ہیں توآپ اقتدارکالالچ اور سیاست چھوڑدیجئے گھربیٹھ جائیںکیوں کہ آپ پہلے بھی لاہورکے کسی ایک حلقے سے جیت نہ سکے اوررہی بات قوم کے نوجوانوں کی تووہ پہلے ہی قائدانقلاب جناب عمران خاںکے ساتھ ہیں اورتحریک انصاف کے ساتھ رہتے ہوئے ہی انشاء اﷲملک میںانقلاب لائیںگے ۔میری بات توراہ میں ہی رہ گئی کہ میں کہہ رہاتھاکہ حکمران تووہ ہوتاہے جو ملک وملت کے لئے خودکوقربان کردیتاہے اورایوب خاں کی طرح پیسے اور اقتدار کالالچ نہیں رکھتا مگرہمارے موجودہ اورسابقہ سیاست دانوں اورحکمرانوں کونہ تو ملک کی ترقی اورنہ ہی قوم ہی خوش حالی کی فکرہے ۔جب عمران خاں پشاور میں دھرنادینے کیلئے جارہے تھے تومختلف سیاسی پارٹوں اورچندحکمرانوں نے بھی کہا کہ آپ وہاںسے زندہ بچ کرنہیں آسکتے !!توقائدانقلاب نے جواب دیا کہ’’ زندگی اور موت خداکے ہاتھ میں ہے اورمیرامرناجینافقط پاکستان کیلئے ہے میں لڑتالڑتامرتوجائوں گالیکن ہارنہیں مانوگا ۔مجھے قائداعظم کاپاکستان بچناہی‘‘
اصل میں حکمران توعوام کاخادم ہوتاہے اوراپنے جان ومال کی پرواہ نہیں کرتا ۔نوازشریف بیمار ہوتے ہیں تولندن علاج کیلئے جاتے ہیں کیاپاکستان میں سبھی ڈاکٹرمرچکے ہیں یاآپ کی جان کے دشمن ہیں؟اوررہی بات احتساب کی تواس کاعوام کوعلم ہی نہیں اورنہ ہی بتاناپسندکرتے ہیں۔جب عمران خاں نے کہاتھاکہ جمہوریت کے نام پرسیاست کرنے والے اپنے احتساب عوام کے سامنے پیش کریں تواس وقت ’’آپ ‘‘ خاموش کیوں ہوگئے تھے ۔جب کہ عمران خاں نے کہابھی تھا کہ اگرمیراایک پیسہ بھی پاکستان سے باہرہوا توپاکستان کاسارا ٹیکس میں اداکروں گا‘‘اوراس سے بڑاحکومت کوچیلنج کیاہواسکتاہے عمران خاں پہلے خودعمل کرتے ہیں اورپھردوسروں کوعمل کی دعوت دیتے ہیں،امریکہ سے نفرت عمران،عوام نہیں کرتی۔ میرے قائداعظم سگریٹ کے پُرانے عادی تھے ایک دِن سگریٹ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹرکرنل الٰہی بخش نے کہاکہ’’ کیاہی اچھاہوکہ ہم پاکستان میں ہی سیگرٹوں کی فیکٹری کھول لیں اوربہترین تمباکوامریکہ سے درآمدکرکے پاکستان میں سگریٹ تیار کریں‘‘۔
تو قائدپاکستان نے جوش میں کہا’’ پاکستان میں دنیا کے سب ممالک سے اچھااوربہترین تمباکوہوتاہی۔ہم امریکہ کے محتاج نہیں،ہم اپنے ہی ملک میںبہترین تمباکو پیداکرسکتے ہیں اگر ہم چاہیں اُسے ترقی دے کر دوسرے ممالک میں برآمدکرسکتے ہیں ۔میری تمنا ہے کہ پاکستان ضرورتِ زندگی کیلئے دوسرے ملکوں کامحتاج نہ رہے بلکہ پاکستان میں ہرچیز پیداہو۔ملک کی دولت ملک میں ہی رہی‘‘مگرافسوس کہ آج ہمارے حکمران امریکہ کے قدموں میں بیٹھے ہیں اوران کے محتاج ہوگئے ہیں ملک کاپیسہ باہرلے کرجارہے ہیں ہمیں ان کوروکناہوگا یہ کام عمران کانہیں بلکہ ہم سب کا ہے یہ وطن ہماراہے ہم ہی پاسباں اس کی۔عمران خاںکوسب سے زیادہ نفرت امریکہ سے ہے کیونکہ یہ نفرت ،نظریہء اسلام کی نفرت ہی،جب عمران خاںنے شوکت خانم ہسپتال کی بنیادرکھی توانہوں نے کسی دوسرے ملک سے امدادکانہیں کہا بلکہ ہم پاکستانیوں سے ہی کہاسیلاب مثایرین کی امداد کے لئے بھی اہل وطن سے ہی کہااورایماندارہونے کی وجہ سے سب سے زیادہ امداداپنے ہی وطن سے جمع کی۔اورمیاں صاحب !آپ دوسرے ملکوں سے امدادمانگتے رہی،حقیقت توہے کہ خدا قدرت حالات کے مطابق ایساآدمی پیداکردیاکرتی ہے جس کی وقت اور حالات کوضرورت ہوتی ہے اوراس وقت وہ عمران خاں ہی ہیں..میری چھوٹی سی نظم پیارے پاکستانیوںکی نذر۔ نہ آنکھیں پُرنم کرو،صبرسے کام لو،موسمِ بہارکاانتظارکرو،وہ وقت آئے گا ،جب یادوں کانگرہوگا،سمندرکی گہرائیوں میں بھنورہوگا،دَم توڑرہے ہو۔صبرسے کام لو،آزاددِل نہ رکھو،عقل کی دوکاں بنائو۔
 
 

Email to:-

 
 
 
 
 
 

© Copyright 2009-20010 www.urdupower.com All Rights Reserved

Copyright © 2010 urdupower.o.com, All rights reserved