|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
Telephone:-919811231871 |
Email:-sa.sagar7@gmail.com |
|
کالم نگار کے مرکزی صفحہ پر
جانے کے لیے کلک
کریں |
|
تاریخ اشاعت:۔2011-07-10 |
|
لالو ملیں یا بالو‘ ہمیں تو حکومت چلانی
ہے |
|
کالم ۔۔۔۔۔۔۔ ایس
اے ساگر |
اس بات کے واضح
اشارے مل رہے ہیں کہ مرکزی کابینہ میں پیر کو
ایک بار پھر ردوبدل ہو سکتی ہے۔کہا جارہا ہے
کہ اس ردوبدل میں آر جے ڈی کے صدر لالو پرساد
یادو اور ڈی ایم کے رہنما ٹی آر بالو کو
کابینہ میں شامل ہوں گے۔ ادھر ، کپل سبل سے
ٹےلی کام وزارت واپس لئے جانے کی بھی نوبت
آپہنچی ہے۔ ہفتہ کے روز کانگریس کی صدر سونیا
گاندھی نے وزیر اعظم من موہن سنگھ سے ملاقات
کی۔ سمجھاجا رہا ہے کہ ان دونوں میں کابینہ
ردوبدل پر بات ہوئی۔دریں اثناءڈی ایم کے ممبر
پارلیمنٹ دیا ندھی مارن کی مرکزی کابینہ سے
چھٹی ہونے کے بعد کابینہ میں اگلے ہفتے کے
آغاز میں ردوبدل کی قیاس آرائیاں تیز ہو ئی
ہیں۔ کابینہ میں پیر کو ردوبدل ہو سکتی ہے۔
شاید اسی لئے وزیراعظم منموہن سنگھ نے کانگریس
کی صدر سونیا گاندھی سے آج ملاقات کی۔ ذرائع
بتا رہے ہیں کہ چوٹی کے چار پورٹ فولیو یعنی
خزانہ ، داخلہ ، دفاع اور وزارت خارجہ میںتو
کسی طرح کا ردوبدل بہرحال نہیں ہوگا۔ ایسی
صورتحال میں پی چدمبرم کی کرسی پر فی الحال
کوئی خطرہ دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ ایسا امکان
کیا جارہا ہے کہ ڈی ایم کے کوٹے سے ٹی آر بالو
کے علاوہ اس مرتبہ راشٹریہ جنتا دل کے سربراہ
لالو پرساد کو بھی کابینہ میں شامل کیا
جائے۔یو پی اے کے پہلے دور میں لالو ریلوے کے
وزیر تھے لیکن 2009 کے لوک سبھا انتخابات میں
کانگریس کو چھوڑ کر رام ولاس پاسوان کے ساتھ
مل کر الیکشن لڑنے کے بعد سے ان کے اور
کانگریس کے تعلقات میں کشیدگی آ گئی تھی۔ مگر
اب کئی محاذوں پر گھری کانگریس کو بھی لالو سے
ہاتھ ملانے میں فائدہ نظر آ رہا ہے۔دوسری جانب
راشٹریہ جنتا دل کے صدر لالو پرساد یادو بھی
مرکزی کابینہ میں جگہ بنانے کے لئے پورا زور
لگارہے ہیں۔ منگل کے روز وہ کانگریس کی صدر
سونیا گاندھی سے ملاقات بھی کر چکے ہیں۔حالاں
کہ کانگریس نے اس ملاقات کو معمول پر بتانے کی
کوشش قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ لالو یو پی اے
حکومت کی حمایت کر رہے ہیں۔ اب خبر ہے کہ لالو
کو وزارت میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
مارن کے استعفی کے بعد بدلے سیاسی واقعات پر
بحث کے لئے وزیر خزانہ پرنب مکھرجی نے آج چنئی
میں ڈی ایم کے سربراہ ایم کروناندھی سے ملاقات
کی۔ ڈی ایم کے سربراہ سے ملاقات کے بعد پرنب
نے صحافیوں سے بات چیت میں صاف کیا کہ مرکز
میں کانگریس- ڈی ایم کے اتحاد کے سلسلے میں لے
کوئی خطرہ درپیش نہیں ہے لیکن مرکز میںمارن کی
جگہ کسے لیا جائے گا ، اس بارے میں تصویر ابھی
واضح نہیں ہو سکی ہے۔ پرنب نے اس بارے میں
پوچھے گئے سوال پر خاموشی اختیار کر لی۔ پرنب
-کروناندھی ملاقات کے دوران مارن بھی موجود
تھے۔ اٹکلیں لگائی جارہی ہیں کہ کروناندھی سے
ملاقات کے دوران مکھرجی مارن کے مقام پر لائے
جانے والے شخص کے بارے میں ان سے ان کی پسند
پوچھیں گے۔ ڈی ایم کے ذرائع نے اس بات کے
اشارے دئے ہیں کہ کروناندھی مارن کی جگہ پرکیا
کسی کو بھیجنے کے خواہش مند نہیں ہیں۔
سیاسی گلیاروں میں یہ تذکرے چل رہے ہیں کہ
کانگریس بہترین حکومت لانے کے لئے ’پسندیدہ
شخصیات‘ کو ہٹانے کے بارے میں غور کر رہی ہے
لہٰذا سابق مرکزی وزیر ٹی آر بالو کو اس بار
کابینہ میں جگہ مل سکتی ہے لیکن کانگریس بالو
کے نام پر اتفاق نہیں کرتی ہے۔ بالو پر جہاز
رانی کے وزیر رہتے ہوئے بدعنوانی کے کئی
الزامات لگے تھے جس کے بعد انہوں نے استعفی دے
دیا تھا۔ کانگریس پارٹی بالکل نہیں چاہتی کہ
ایک داغدار شبیہ کے ہٹنے کے بعد دوسری داغدار
شخصیت کو کابینہ میں جگہ دی جائے۔ اس کے علاوہ
ریلوے کے وزیر کا عہدہ بھی خالی پڑاہوا ہے۔ آر
جے ڈی کے سربراہ لالو پرساد یادو کو بھی
کابینہ میں جگہ ملنے کا امکان ظاہر کی جا رہی
ہے کیونکہ گزشتہ دنوں لالو کی سونیا گاندھی سے
ملاقات ہوئی تھی۔کچھ نئے چہروں کو اس بار
کابینہ میں شامل کرنے کی امید ہے۔ کانگریس
ذرائع کے مطابق پی ایم منموہن سنگھ راجیہ سبھا
سے نامزد رکن اشوک گانگولی کو اپنی کابینہ میں
شامل کرنا چاہتے ہیں۔ اتر پردیش میں اگلے سال
ہونے والے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر ریاست
کے کئی وزراءکا قد بڑھانے کے بارے میں بھی
امکانات ظاہر کئے جا رہے ہیں۔مرکزی کابینہ میں
ردوبدل کی طویل عرصے سے یہ قیاس آرائیاں چل
رہی ہیں۔ کابینہ میں اس وقت کئی عہدے خالی ہیں۔
ممتا بنرجی کے مغربی بنگال کی وزیر اعلی بننے
کے بعد سے ریل اور مارن کے استعفی کے بعد سے
کپڑا وزیر کے عہدے خالی ہیں۔ جبکہ کئی وزراءکے
اوپر اس وقت دو وزارتوں کی ذمہ داریاں بھی ہیں۔
مثال کے طور پر کپل سبل ٹیلی مواصلات کے ساتھ
ساتھ اس وقت انسانی وسائل کی ترقی کی وزارت کا
کام بھی دیکھ رہے ہیں۔ڈی ایم کے سے ممبر
پارلیمنٹ اے راجا کے بعد اب دیا ندھی مارن کے
2 جی اسپیکٹرم گھوٹالے میں شامل ہونے کے
الزامات کے بعد ان کے استعفی سے دونوں کے عہدے
خالی پڑے ہیں۔ ان کے عہدے خالی ہونے کے بعد ڈی
ایم کے کوٹے سے کسی ممبر پارلیمنٹ کو کابینہ
میں شامل کئے جانے کا امکان ہے۔ امید کی جارہی
ہے کہ سبل سے ٹیلی وزارت واپس لی جا سکتی
ہے۔جبکہ مشہور و معروف وکیل پرشانت بھوشن نے
سپریم کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضی دائر کر کپل
سبل پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے بطور ٹےلی
کام وزیر انل امبانی کی ریلائنس کمیونکیےشن کو
قریب 650 کروڑ روپے کا فائدہ پہنچایا حالانکہ
سبل نے ان الزامات سے انکار کیا ہے۔لیکن ان کی
شبیہ تو فی الحال داغدار ہو ہی گئی ہے۔یہاں یہ
بھی بتاتے چلیں کہ بہار کی حالت پہلے سے ہی
خستہ ہے۔ تقسیم کے بعد کہنے کو یہاں لالو اور
بالو ہی بچے رہ گئے ہیں۔ لالو اور بالو محض
شاعرانہ تک بندی نہیں ہے بلکہ حقیقت ہے کہ
بہار میں کوئی بھی سیاسی جدوجہد لالو یادو سے
شروع ہوتی ہے اورانھیں پہ ختم بھی اسی ہوتی ہے۔
سیاست میں دو ہی گروہ ہیں لالو کے ساتھی اور
لالو کے مخالف۔ جو شخص یا جماعت ان دونوں میں
نہیں ہیں وہ سیاست میں بھی حاشیہ پر ہیں۔
ماضی میں موصولہ میڈیا رپورٹوں پر یقین کریں
تو
قدرتی معدنی املاک سے محروم ہوکر بہار کی
معیشت اب یہاں کی ندیوں پر ہی منحصر ہے لیکن
ریاست بہار کوسیلاب اور بالو کے علاوہ ان
ندیوں کی شاید ہی کوئی دین ہو۔ایک وقت تھا جب
بہار کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ یہ ریاست تو
امیر ہے لیکن اس کے عوام غریب ہیں۔ تقسیم کے
بعد ریاست بھی غریب ہو چکی ہے۔ تقسیم سے پہلے
جہاں بہار کی فی کس آمدنی 5923 روپے تھی ،
وہیں اب وہ کم ہوکرمحض 4500 روپے رہ گئی ہے
جبکہ اس کی نسبت جھارکھنڈ ریاست کی فی کس
آمدنی بڑھ کر تقریبا 7000 روپے ہو جائے گی۔
کوئلہ ، ابرق ، خام لو وغیرہ کی کانیں تو خیر
جھارکھنڈ علاقے میں چلی ہی گئی ہیں ، ٹسکو ،
بوکاروا سٹیل ، میکان جیسی نامور کمپنیاں اور
انڈین مائنز اور ، انڈین معدنی ادارے ، قومی
سلک ادارے جیسے تعلیمی ادارے بھی اسی کے حصے
میں چلے گئے ہیں ۔ توانائی کا بھی ایسا ہی حال
ہے۔ لے دے کر بہار کے حصے میں آج صرفک کہل گاو
¿ں تھرمل پاور ہی رہ گیا ہے۔ سیلاب میں این ٹی
پی سی کا دوسرا پلانٹ لگنے کی افواہ ہے لیکن
وہ جب لگے گا تب لگے گا۔
دراصل لالو یادو کے سیاسی قد کو دیکھتے ہوئے
بہار کو ان سے بڑی توقعات تھیں لیکن 12 سال کے
اقتدار کے دوران وہ محض اپنی گدی بچانے میں ہی
لگے رہے اور اب جب اس طرف سے اس بات کا یقین
ہوئے ہیں تو ان کی پوری قوت خود کو مقدموں
اورکچہری سے بچانے میں صرف ہوئی ہے۔ ان سب کے
درمیان نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ تعلیم اور
صحت جیسے بڑے اور اہم محکموں کے ملازمین کو چھ
چھ ، آٹھ آٹھ مہینے تنخواہ نہیں دی جا سکی ہے۔
سرکاری خزانہ خالی ہو چکا ہے۔ اوور ڈرافٹ اتنا
بڑھ چکا ہے کہ سرکاری چیکوں کی ادائیگی مشتبہ
ہو گئی ہے۔ یہاں تک کہ مرکز سے ملنے والی رقم
بھی لوٹ جاتی ہے کیونکہ میچنگ فنڈ یا اپنے حصے
کا سرمایہ لگانے کی اوقات بہار کے پاس نہیں رہ
گئی ہے۔سابق مرکزی وزیر مسٹر ڈی پی یادو کی
صدارت میں تشکیل دی گئی بہار ریاستی خزانہ
کمیشن نے حکومت کو سونپی گئی ۔اس انٹرم رپورٹ
میں کہاگیا ہے کہ بہار میں بڑھتے ہوئے مالی
خسارے کے لئے ذمہ دار اہم وجوہات میں سے ایک
یہ ہے کہ تمام سطحوں پر حکومت کی جمبو ہیئت ہے۔
بھاری بھرکم وزارتوں ، محکموں اور ان کے دفاتر
کی وجہ سے اخراجات بہت زیادہ ہوئے ہیں۔ سونے
پر سہاگہ حکومت میں نوکرشاہی فعالیت اور
انتظامیہ غیر ذمہ دارانہ رویے جیسی لعنتوں میں
اضافہ ہوا ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ حکومت کی
مشینری کے سائز کو کم کیا جائے۔ اس سے پہلے کی
دیگر رپورٹوں کی طرح یہ رپورٹ بھی محض دھول
چاٹتی رہ جائے تواس میں تعجب کی کیا بات
ہوگی۔یہ حقیقت ہے کہ بہار میں امیر اور غریب
کا فاصلہ بہت بڑا ہے۔نہایت رنج و غم کا مقام
ہے کہ یہاں ٹاٹا ، برلا ، ڈالمیا جیسے ایک
گھرانے آئے بھی تو بہار میں خود کوجما نہیں
سکے ۔بنیادی ڈھانچے نیز حوصلہ افزائی کے فقدان
کی وجہ سے وہ اپنا دفتر ریاست کے باہر قائم
کرنے پر مجبور ہوئے یعنی ان کی کمائی بہار سے
بیشک ہوتی ہولیک ان کی گنتی بہار کے باہر ہوتی
رہی۔ پھر کون ہیں وہلوگ جن کے سہارے ریاست کی
فی کس آمدنی ٹکی ہے؟آپ پورے بہار کا چکر لگا
آئیے ، شاید ہی کوئی صنعتی علاقے چلتا ہواملے
گا۔ گاو ¿ں میں دس دس گھنٹے بجلی غائب ہونا
عام سی بات ہے۔ جہاںدنیا ہوا سے باتیں کر رہی
ہے وہیں بہارپگڈنڈیوں پر رینگ رہا ہے۔ پھر بھی
پٹنہ کے کانوں پر جوں نہیں رینگ رہی ہے۔سیاسی
دکانیں سج رہی ہیں۔ یہاں سے گزرنےوالے طیاروں
میں جگہ نہیں ہوتی۔ سوال یہ ہے کہ اس طبقے کے
پاس پیسہ آتا کہاں سے ہے اور تقسیم کے بعد وہ
کس حال میں ہے؟ صنعت اور کاروبار کی دولت نہ
یہاں پہلے تھی اور نہ آج ہے۔ لوگوں کے نفع
نقصان کا ذریعہ دلالی اور ٹھیکےداری تھی۔
دلالی میں بھی سب سے بڑا پیسہ کمانے کا ذریعہ
کوئلے میںچھپا تھا۔ آج کوئلہ تو دھنباد میں ہے
جبکہ دلال بہار میںہیں۔ ریاست کے تنہا اورنگ
آباد ضلع میںمحض 108 کارخانے ایسے ہیں جو
کوئلہ پر مبنی ہیں۔ ان کے نام پر کوئلہ لیا
جاتا رہا جبکہ ان کی چمنی تک کالی نہیں ہوئی۔
کارخانہ مالکان نے کوئلہ اٹھانے کی زحمت بھی
نہیں کی بلکہ ہاتھوں ہاتھ پرمٹ ہی فروخت کر
دیئے گئے۔ اب بٹوارے نے ان کے ہاتھ باندھ دیے
ہیں۔ اسی طرح ریاست کا چارہ گھوٹالہ ، الترا
گھوٹالہ ، وردی گھوٹالہ ، چھوٹے آبپاشی
گھوٹالے وغیرہ اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ
دلالی اور ٹھیکےداری میں یہاں بڑی رقمیں کس
طرح ایک جیب سے دوسری جیب میں منتقل ہوتی ہیں۔
اب تحقیقات اور مقدمات میں پھنس کر یہ دھندہ
بھی چوپٹ ہوچکا ہے۔پیسہ کمانے کا یہ ذریعہ جب
سوکھنے لگا تو ان’خوشحالوں‘ نے ایک نیا
کاروبار اپنا لیا: اغوا کا۔ ریاست کے پولیس
ڈائریکٹر جنرل اس بات کو قبول کرتے ہیں لیکن
ساتھ ہی اپنی لاچاری کا اظہار کرتے ہوئے بتاتے
ہیں کہ اول تو متاثرین پولیس کو خبر ہی نہیں
کرتے اور اگر کرتے بھی ہیں تو گڑگڑاتے ہیں کہ
مجرموںپر سختی نہ کی جائے کیونکہ اس سے مغویہ
کے مارے جانے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ ایسے میں
اغواکرنے کا دھندا کسی چھوٹی صنعت کی طرح پنپ
رہا ہے۔کہنے والے تو یہاں تک کہتے ہیں کہ
’تھوڑا بہت‘ دے کرپیچھاچھڑا لیجیے۔ آخر انھیں
بھی تواپنا پیٹ بھرنا ہے۔اس میں کتنی سچائی ہے
یہ تو کہنا مشکل ہے لیکن اس صورتحال سے عوام
کا حوصلہ ٹوٹ گیا ہے جس کے نتیجے میں ڈاکٹر ،
تاجر وغیرہ ریاست چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں۔ دولت
کا یہ ذریعہ بھی جلد ہی ختم ہوجائے گا۔تھنوں
سے اتنا دودھ ہی تو ملے گا جتنا ان میں
ہے!ریاست میں ندیوں کا جال تو ہے لیکن ایک حصہ
جہاںسیلاب کی زد میں رہتا ہے وہیں دوسراحصہ
پانی کے لئے ترستا رہ جاتا ہے۔ بہار میںجواب
سیلاب کا قہر ہے تو جنوبی جوپہلے جو وسطی تھا‘
بہار کا بڑا علاقہ سوکھے کی مار جھیل رہا ہے۔
وسائل ہوتے ہوئے بھی آبپاشی کا نظام قابو میں
نہیں ہے اور نہ ہی اس کے لئے کسی دوررس منصوبہ
پر غورہی کیا جا رہا ہے۔ غور کرنے کی ضرورت
بھی کیا ہے؟ عوام کے لئے سیلاب اور خشک سالی
بھلے ہی معنی رکھتی ہو ، خواص کے لئے تو یہ
سادہ چیک ہے جس میں جو چاہے رقم بھر لو۔قدرتی
آفات نہیں ہوںگی توامدادی رقم کہاں سے آئے گی
اور جو ہاتھ شاہ خرچ ہو چکے ہوں ، انہیں تو
پیسہ تو بہر حال ملناہی چاہئے خوا وہ لوگوں کے
کفن اورراحت رسانی کے لئے ہی کیوں نہ دیا گیا
ہو جبکہ مرکز کی ’مجبورملی جلی سرکار‘ کو
تومحض اپنے اقتدار کو قائم رکھنے سے سروکار ہے‘
خواہ لالو ملیں یا بالو |
| |
|
|
|
|
|
|
 |
 |
|
|
 |
|
|
 |
|
|
|
|
|
© Copyright 2009-20010 www.urdupower.com All Rights Reserved |
|
Copyright © 2010 urdupower.o.com, All rights reserved
|