اعوذ             باالله من             الشيطن             الرجيم                بسم الله             الرحمن             الرحيم                الحمد لله              رب             العالمين .             الرحمن             الرحيم . ملك             يوم الدين .             اياك نعبد و             اياك             نستعين .             اهدناالصراط             المستقيم .             صراط الذين             انعمت             عليهم '             غيرالمغضوب             عليهم             ولاالضالين

WWW.URDUPOWER.COM-POWER OF THE TRUTH..E-mail:JAWWAB@GMAIL.COM     Tel:1-514-970-3200 / 0333-832-3200       Fax:1-240-736-4309

                    

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

Telephone:-919811231871

Email:-sa.sagar7@gmail.com

کالم نگار کے مرکزی صفحہ پر جانے کے لیے کلک کریں

تاریخ اشاعت:۔2011-07-19

حصول اراضی کامثبت اور منفی پہلو
کالم ۔۔۔۔۔۔۔ ایس اے ساگر
زمین حاصل کرنے یعنی ایکوائرمنٹ معاملے پر الہ آباد ہائی کورٹ نے آج اتر پردیش کی حکومت کو پھر جھٹکا دے دیا۔ عدالت نے نوئیڈا ایکسٹنشن کے پتواڑی اور دےولی گاو ¿ں میں گریٹر نوئیڈا ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی طرف سے کئے گئے 600 ہیکٹر اراضی حاصل کو منسوخ کر دیا ہے۔ کسانوں کو راحت دیتے ہوئے جسٹس سنیل ابوانی اور جسٹس ایس ایس تیواری کی بنچ نے یہ حکم دیا۔ عدالت کے حکم سے نوئیڈا کی توسیع کی باقی منصوبوں پر بھی غیر یقینی کے بادل چھا گئے ہیں۔اس طرح ہندوستان میں زمین ایکوائر کرنے کی رکاوٹوں کی وجہ سے سرمایہ کاری ‘ رہائشی اور تجارتی منصوبوںاور صنعتوں میں توسیع کی رفتار سست پڑگئی ہے۔یوں سمجھئے کہ جیسے جیسے ملک کی معیشت ترقی کر رہی ہے‘اسی اعتبارسے زرعی زمینوں کو تجارتی مقاصد کے لیے حاصل کیا جا رہا ہے۔ زرعی زمینوں کو صنعتی استعمال میں لانے سے دیہی علاقوںمیں ناراضی اور مزاحمت میں اضافہ ہی نہیں ہو رہا ہے بلکہ ملک میںنت نئے مسائل بھی پیدا ہو رہے ہیں۔پتواڑی گاو ¿ں میں کئی بلڈرو ںنے اپنی رہائشی منصوبے شروع کئے تھے اور کئی لوگوں نے ان میںاپنی بکنگ بھی کرا ئی ہے۔ ان میں سے کچھ منصوبوں کا کام شروع ہو چکا ہے اور کچھ ابتدائی مرحلے میں ہی ہیں۔ واضح رہے کہ2008 میں اتھارٹی نے پتواڑی گاو ¿ں کی 589 ہیکٹر زمین کا حصول کرکے ڈےولپروں کو بیچ دی تھی۔ پتواڑی اور دےولی کی ایکوائر کی گئی زمین پر مےسرس اری ہنتت کنسٹرکشن ، سدرم ، نرالا ایکس ٹنشن ، پٹیل ٹاو ¿ن اور امرپالی جیسے کئی بلڈرو ںکے رہائشی منصوبوں چل رہے ہیں۔عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ زمین کی تحویل رہائشی منصوبوں کے لئے تھی ۔ اس میں ہنگامی صورت حال جیسی کوئی بات نہیں تھی۔ ایسے میں اس قبضے سے متاثر ہونے والے پارٹی کی سماعت کئے بغیر زمین حاصل کرنے کی کوئی تک نہیں بنتی۔ ان کی سماعت کے بعد انہیں مناسب معاوضہ ملنا چاہئے تھا۔ ہائی کورٹ نے یہ حکم ان دونوں گاو ¿ں کے قریب 100 کسانوں کی درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے دیا۔ کسانوں نے اتھارٹی کو عدالت میں چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ انہیں اعتراض جتانے کا موقع اور مناسب معاوضہ دیئے بغیر یہ حصول کیا گیا۔ عدالت کا یہ فیصلہ مایاوتی حکومت کے لئے کرارا جھٹکا ہے۔عدالت کے اس حکم سے نوئیڈا ایکس ٹنشن کے روزا اور یعقوب پور گاو ¿ں کے کسانوں کی امیدیں بڑھ گئی ہیں۔ ان کسانوں کی درخواست پر سماعت بدھ کو ہونی ہے۔ جمعرات کواتیدا ، ےبٹ پور ، بسرکھ اور جلال پور کے کسانوں کی درخواست پر ہائی کورٹ میں ہی سماعت ہوگی۔سپریم کورٹ نے 6 جولائی کو ساہ بیری گاو ¿ں میں ہوئی156 ہیکٹر اراضی حاصل کرنے کو منسوخ کرنے کا حکم دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ اس معاملے میں اتھارٹی مفاد عامہ کے نام پر نجی بلڈروں کی مدد کر رہا تھا۔ سپریم کورٹ نے حصول منسوخ کرتے ہوئے کسانوں کو زمین لوٹانے اور منصوبوں کے گاہکوں کی رقم بھی واپس کرنے کے الہ آباد ہائی کورٹ کے حکم کو برقرار رکھا تھا۔شمالی ہند کی ریاست اتر پردیش میںیی کوئی نئی صورتحال نہیں ہے جبکہ اس سے قبل ملک کی متعدد ریاستوں میں اس سے ملتی جلتی صورتحال پیش آچکی ہے۔ پر تشدد مظاہروں کی وجہ کسانوں کے مطالبات ہوتے ہیں کہ انہیں زمین کا زیادہ معاوضہ ادا کیا جائے ۔ مغلیہ دور کی مشہور عمارت تاج محل کے شہر میں بھی ایسے ہی حالات میں تین کاشتکار ہلاک ہو گئے تھے۔دراصل پورے ملک میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے منصوبوں یا صنعتوں کے لیے زرعی زمینِیں حاصل کرنے کی کوششیں جاری ہیں اور ان کے خلاف ملک کے بہت سے حصوں میں احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔ہندوستان میں صنعتی ترقی کے ساتھ ساتھ، کاروباری ادارے فیکٹریوں کی تعمیر کے لیے زمینیں تلاش کر رہے ہیں۔ تیزی سے پھیلتی ہوئی معیشت کی ضروریات پوری کرنے کے لیے حکومت پر قدیم زمانے کے بنیادی ڈھانچے کو تیزی سے جدید بنانے اور زیادہ سڑکیں ، بجلی گھر اور ریلویز تعمیر کرنے کے لیے سخت دباو پڑ رہا ہے۔جتنی بھی زمینیں دستیا ب ہیں وہ آباد ہی نہیں ہیں بلکہ دیہی علاقوں کے زرخیز کھیتوں پر مشتمل ہیں۔ان زمینوں سے کسانوں اور قبائلی آبادیوں کو منتقل کرنا معمولی بات نہیں ہے۔ بعض کاشتکاروں کو شکایت ہوتی ہے کہ ان کی زمینوں کے لیے دیا جانے والا معاوضہ بہت کم ہے اور انہیں یہ بھی ڈر ہے کہ و ہ اپنی گذر اوقات کے ذریعے سے محروم نہ ہو جائیں۔ ملک کی ایک ارب سے زیادہ آبادی کا دو تہائی حصہ زمین سے اپنی روزی حاصل کرتا ہے۔نئی دہلی میں فورم فار بائیوٹیکنالوجی اینڈ فوڈ سکیورٹی کے دیوندر شرما کہتے ہیں کہ جن کاشتکاروں کی زمینیں لی جاتی ہیں ان سے نئی صنعتوں میں روزگار کے وعدے کیے جاتے ہیں لیکن بیشتر کسانوں کو ان صنعتوں میں ملازمتیں نہیں ملتیں۔بیشتر کسان شہروں میں منتقل ہو جاتے ہیں جہاں ان کا مستقبل غیر یقینی ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ نئی معیشت اس قسم کا روزگار فراہم نہیں کر سکتی جو بہت بڑی آبادی والے ملک میں کاشتکاری کے ذریعے مل جاتا ہے۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کوئی بھی صنعت یا صنعتوں کا گروپ اس قسم کے اور اتنی بڑی تعداد میں روزگار فراہم نہیں کر سکتا جن کی ملک کو ضرورت ہے۔ایک ایسے ملک میں جہاں کاشتکاروں کی تعداد 60 کروڑ ہے جس میں ان کے گھرانے بھی شامل ہیں ، میرے خیال میں کسی صنعت میں اتنی گنجائش نہیں ہے کہ وہ آبادی کے دسویں حصے کو بھی روزگار فراہم کر سکے۔‘تا ہم کاروباری اداروں کا کہنا ہے کہ صنعتی ترقی سے روزگار کے لاکھوں نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں اور ہندوستان ایک صنعتی ملک بن سکتا ہے۔زمین حاصل کرنے میں رکاوٹوں کی وجہ سے سرمایہ کاری اور صنعتوں میں توسیع کی رفتار سست ہوگئی ہے۔ فیڈریشن آف انڈین چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ماہر اقتصادیات انجان رائے کہتے ہیں کہ یہ مسئلہ بڑا پیچیدہ ہے اور ایسے جواس بات کا متقاضی ہے کہ دونوں فریقوں کے مفاد کوپیش نظر رکھا گیا ہو۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک تجویز یہ ہے کہ بے دخل ہونے والی دیہی بستیوں کو نئی صنعتوں میں حصے دار بنا لیا جائے۔یہ خیال بھی پایا جاتا ہے کہ ماو ¿ نواز باغی جنہیں ہندوستان کی داخلی سکیورٹی کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا ہے‘ دیہی علاقوں میں زمین کے حصول سے متعلق مسائل کی وجہ سے اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہے ہیں۔ ملک میں ان اطلاعات کی وجہ سے کہ مقامی حکام اکثر کاروباری اداروں کے ساتھ ساز باز کر لیتے ہیں تا کہ گاو ¿ں والوں سے ان کی مرضی کے بغیر زمینیں ہتھیائی جا سکیں جس سے ملک میں ناراضی اور غصے میں اضافہ ہو رہا ہے۔غذائی مسائل کے تجزیہ کاروں کو یہ تشویش بھی ہے کہ زمین کے بہت بڑے بڑے ٹکڑے جن پر کاشتکاری ہوتی ہے لہٰذاصنعتوں کو منتقل کرنے سے ملک میں غذائی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ہندوستان کی آبادی بہت زیادہ ہے اور وہاں غذائی اشیاءکی قیمتوں میں اضافے سے لاکھوں غریب گھرانوں کے لیے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔اس سے قبل وزیر مالیات پرنب مکرجی نے پارلیمنٹ میں کہاتھا کہ صنعت کی مانگ اور ہندوستان کے دیہی علاقوں کے مطالبات کے درمیان توازن ہی قائم نہیں رکھنا ضروری ہو گا بلکہ اس بات کوبھی یقینی بنانا ہوگا کہ کاشتکاروں کو پریشانی نہ ہو اور ان کے مفادات پر منفی اثر نہ پڑے کیوں کہ غذائی اشیاءکی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے انہیں انتہائی مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔ہندوستانی حکام تسلیم کرتے ہیں کہ کاشتکاروں کے مفادات کی حفاظت کے لیے ایک نیا قانون بنانا ضروری ہے جبکہ قانون کے دو مسودے پارلیمنٹ کے سامنے موجود ہیں۔ ان مجوزہ قوانین کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ کاشتکاروں کو مارکیٹ کی قیمت کے لحاظ سے ان کی زمین کی قیمت ادا کی جائے۔ان مسودوں میں متاثر ہونے والے کاشتکاروں کی دوبارہ آباد کاری‘ ان کیلئے روزگار کے مواقع اور تربیت شامل ہے جبکہ ترقیاتی تجزیہ کار وں کی مانیں تو حکومت کے پاس ان پیچیدہ مسائل پر توجہ دینے کے لیے بہت کم وقت ہے جس سے بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ چھوٹے کاشتکاروں کے اس ملک کو جدید معیشت میں ڈھالنے کا عمل کسی رکاوٹ کے بغیر پورا کیا جا سکے۔بہرکیف لہ آباد ہائی کورٹ نے گوتم بدھ نگر ضلع کے پتواری گاو ¿ں میں رہائشی استعمال کے لئے سینکڑوں ہیکٹر زمین حاصل کرنے کی نوٹیفکیشن کو منسوخ کر دیا ہے۔ کورٹ نے کہا کہ رہائشی استعمال کے لئے زمین ایکوائرمنٹ مناسب میں نہیں ہے۔ ساتھ ہی کسانوں کو سماعت کا موقع نہ دیا جانا بھی زمین حاصل قانون کی دفعات کے خلاف ہے۔پتواری گاو ¿ں کے ہرکرن سنگھ اور دیگر کسانوں کی جانب سے دائر درخواست پر جسٹس سنیل انبانی اور ایس ایس تیواری کی بینچ نے منگل کو یہ حکم دیا۔ ریاستی حکومت نے پتواری گاو ¿ں کی 589 ہیکٹر زمین کو ایکوائر کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔درخواستوں میں کہا گیاتھا کہ زمین کو تحویل ایکٹ کی دفعہ چار کے تحت 20 مارچ 2008 کو نوٹیفکیشن جاری ہوا تھا۔ اس کے دو ماہ بعد 26 مئی کو دفعہ چھ کے تحت حاصل کی نوٹیفکیشن جاری ہوا۔ کسانوں نے ان دفعات کو چیلنج کرتے ہوا تھا کہ زمین حاصل کئے جانے کی کارروائی میں انہیں سماعت کا موقع نہیں دیا گیا تھاجبکہ ان کی زمین بہت زرخیز ہے لیکن اس حساب سے زمین کا معاوضہ نہیں دیا جا رہا ہے بلکہ زمین کا حصول بھی غلط نوٹیفکیشن کے تحت کیا جا رہا ہے۔ کورٹ نے دونوں نوٹسوں کو منسوخ کر دیاہے جبکہ واضح الیکٹرانک میڈیاسے جاری رپورٹوں نے اس کی تائید میں کسانوں کے ایسے بیانات نشر کئے ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ معاوضہ بڑھنے کی صورت میں وہ اپنی زمینوں سے دستبردار ہوجائیں گے۔
 
 

Email to:-

 
 
 
 
 
 

© Copyright 2009-20010 www.urdupower.com All Rights Reserved

Copyright © 2010 urdupower.o.com, All rights reserved