اعوذ             باالله من             الشيطن             الرجيم                بسم الله             الرحمن             الرحيم                الحمد لله              رب             العالمين .             الرحمن             الرحيم . ملك             يوم الدين .             اياك نعبد و             اياك             نستعين .             اهدناالصراط             المستقيم .             صراط الذين             انعمت             عليهم '             غيرالمغضوب             عليهم             ولاالضالين

WWW.URDUPOWER.COM-POWER OF THE TRUTH..E-mail:JAWWAB@GMAIL.COM     Tel:1-514-970-3200 / 0333-832-3200       Fax:1-240-736-4309

                    

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

Telephone:-919811231871

Email:-sa.sagar7@gmail.com

کالم نگار کے مرکزی صفحہ پر جانے کے لیے کلک کریں

تاریخ اشاعت:۔2011-08-01

ڈاکیہ کے ڈاک لانا قصہ ہوا پرانا
کالم ۔۔۔۔۔۔۔ ایس اے ساگر
اس بات کو زیادہ عرصہ نہیں گذر جب فضاوں میں’ڈاکیہ ڈاک لایا کے صدائیں گونجا کرتی تھیں اور بسوں اور ریلوں میں پیشہ ور بھکاری’چٹھی آئی ہے وطن سے چئھی آئی ہے‘ گا کر مسافروں کو جیب سے پیسے نکالنے پر مجبور کردیا کرتے تھے۔آج کے اخبارات میںڈاکخانوں سے متعلق ایسی خبرشائع ہوئی ہے جس نے قارئین کو ماضی میں جھانکنے پر مجبور کردیا ہے۔کہا جارہا ہے کہ اب ملک میں تقریبا ڈیڑھ لاکھ ڈاکخانوں کوپوری طرح بینک بنانے کی تیاری چل رہی ہے۔وزیر مواصلات بینکنگ سہولیات پہنچانے کے خواہاں ہیں۔انھوں نے خبررساں ادارے سے کہا ہے کہ ہم لوگ اس محکمے کو کمرشلائز کرنا چاہتے ہیں۔ہم اپنے ڈاکخانوں کو بینک میں تبدیل کرنے کیلئے ریزرو بینک سے لائسنس طلب کریں گے ۔دیہی علاقوں میں جدید بینکنگ سہولیات کے فقدان اور قرضوں کیلئے دیگرذرائع پردیہی باشندوں کے انحصار کی وجہ سے حکومت پوسٹل بینک شروع کرنے کے منصوبے پر سنجیدگی سے غور کرہی ہے۔اس سلسلے میںآرکے نارائن کی کہانی ’ پوسٹ مےن‘ کی یاد ذہن میں تازہ ہو گئی جس میں ایک ڈاکیہ نے کسی کی موت کے بارے میں آئے ایک خط کو طویل عرصے تک اپنے پاس روکے رکھا تھا کیونکہ گاو ¿ں میں ایک لڑکی کی شادی کی تیاریاں چل رہی تھیں۔ ڈاکیہ کے اس دیہی معاشرے سے جذباتی تعلق نے ہمارے ادب اور سنیما کو ایک ایسا کردار دیا ہے جس کی نظیر آج تک نہیں ملتی لیکن یہی کردار اب بتدریج حقیقی زندگی سے ختم ہو رہے ہیں۔کبھی ڈاکیہ کی راہ تکنے والامعاشرہ آج اپنے اقربا کا حال جاننے کے لئے ای میل کے ان باکس اور ڈرافٹ پر کلک کر رہا ہے۔ ویسے ڈاکیہ اب بھی ڈاک لے کر آتا ہے لیکن اس کی آمدپر کسی کا دھیان بھی نہیں جاتا۔کوئی اسے دیکھ کر بے چین نہیں ہوتا۔ آج ای میل اور ایس ایم ایس کے بڑھتے رجحان کی وجہ سے عالمی سطح پر ای میل کے نظام کو شدید چیلنج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ جدید مواصلاتی ٹیکنالوجی کے پھیلاو ¿ کے بعد اس کے وجود پر ہی بحران پیداہوا ہے۔مسئلہ محض ملکی نہیں ہے بلکہ عالمی سطح پر اس تبدیلی کو محسوس کیا جارہا ہے جس کے تحت گزشتہ سال کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں 22 اور 23 ستمبر کو یونائیٹڈ نیشن پوسٹل یونین کی ایک میٹنگ منعقد ہوئی جس میں یہ بات سامنے آئی کہ ای میل کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی وجہ سے عالمی پوسٹل سروس میں 4 سے 6 فیصد تک کی گراوٹ آئی ہے۔ مثال کے طور پر امریکہ کی بات کریں تو 2006 سے 2009 کے دوران پوسٹل سروس میں 17 فیصد کی گراوٹ درج کی گئی۔ دراصل انسانی زندگی کی گہری سطحوں پر جڑی اس روایتی ڈاک کے نظام کو صرف ای میل سے ہی چیلنج نہیں مل رہا ہے بلکہ موبائل کی دستیابی نے بھی اسے کمزور کیا ہے۔اب لوگ کسی کو خط لکھنے اورمبارکباد کا خط بھیجنے کے مقابلے میں بات چیت کرنے اور ایس ایم ایس بھیجنے کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔ اس بات کو زیادہ عرصہ نہیں گذرا جب لوگ دہلی کے فٹ پاتھ پر اپنے اقربا کے لیے عید ‘بقر عید سے لے کرہولی دیوالی نیز سب سال کے آخری 15 دنوں میں نئے سال کے کارڈ خریدا کرتے تھے۔ اب دارالحکومت کی سڑکوں کے کنارے وہ نظارہ دیکھنے کو نہیں ملتا ۔اب تہواروں اور نئے سال پر موبائل فون یا ٹیلی فون پر بات چیت کرکے یا ایس ایم ایس بھیج کر مبارکباد دینازیادہ پسند کرتے ہیں۔ ایک وقت تھا جب اچھا خط لکھنے کو بھی ایک فن کے طور پرسمجھا جاتا تھا۔مرزا غالب کے خوط کو مشعل راہ بنایا جاتا تھااور خطوط کو مرتب کرکے محفوظ رکھا جاتا تھا۔ خطوط کے انتخاب کی کتاب شائع کرنے کا چلن تھا لیکن آج اس کی جگہ بہت حد تک جدید ای میل اور محفوظ کئے گئے ایس ایم ایس نے لے لی ہے۔میرے دیرینہ رفیق تعمیرکے ایڈیٹرڈاکٹر سلطان انجم نے تو ایک دن باتوں باتوں میںیہاں تک کہہ دیاکہ میل

Mail

سے میل بڑھتا ہے۔ اب تو اخبار یا مےگزین دیکھنے کے لئے بھی لائبریری جانے کی ضرورت نہیں رہ گئی ہے بلکہ انٹرنیٹ کی سہولت کی وجہ سے لائبریری پر بھی تھوڑا بہت منفی اثر پڑا ہے۔ آج انٹرنیٹ کی دنیا میں گوگل کو 21 ویں صدی کا جن کہا جاتا ہے۔ اس کے ذریعہ ہمیں کمپیوٹرا سکرین پر باقاعدہ ایک لائبریری ہی مل جاتی ہے۔ سرچ انجن کے سہارے ہم اپنی ضرورت کی چیزوں کو ڈھونڈتے ہیں۔ لیکن آج سے 10 سال پہلے لوگوں کو گزشتہ کئی برسوں کے اخبار دیکھنے کے لئے مہینوں لائبریری میں گذارنے پڑتے تھے۔ دی اکنامسٹ میںشائع ایک مضمون کے مطابق امریکہ میں 1994 سے 2009 کے دوران روایتی اخبار پڑھنے والے لوگوں کی تعداد 58 فیصد سے کم ہوکرمحض 34 فیصد رہ گئی ہے۔انٹرنیٹ ٹیکنالوجی نے دفاتر میں الماریوں کو کہیں کا کہیں پہنچا دیا ہے ۔ڈسک میں ڈاٹا جمع کرنے کی سہولت نے مزید غضب ڈھایا ہے۔الماریاں کہیں ندارد ہوگئیں تو کہیں کم ہوگئیں۔ حالانکہ اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ آنے والے وقت میں لائبریری معدوم ہو جائیں گی۔ کیونکہ جس طرح برگر کے آنے کے بعد بھی سموسوں کا وجود برقرار ہے ٹھیک اسی طرح انٹرنیٹ کے آ جانے کے بعد بھی لائبریری کا وجود اور اہمیت قائم رہے گا۔ گزشتہ 10 سال سے ٹیکنالوجی کی دنیا میں جو تبدیلی آئی ہے اس کا کافی فائدہ ہندوستانی ریلوے کو بھی ہوا ہے۔مواصلاتی ٹیکنالوجی سے پہلے ریلوے میں سیٹ ریزرویشن اور ٹکٹ کٹوانے کا انتظام کافی روایتی تھا۔ ریزرویشن کا کام دستی طورپر کیا جاتا تھا۔ اس کے لئے کئی طرح کی فائلیں رکھنی پڑتی تھیںلیکن 90 کی دہائی کے وسط میں ریلوے نے ’ون ونڈو پالیسی‘ کی شروعات کی۔ اس کے تحت پانچ ریلوے ریزرویشن مراکز کو آپس میں جوڑ دیا گیا۔ ان مراکز سے ہندوستان کے کسی بھی ریلوے اسٹیشن سے کہیں بھی دوسرے ریلوے اسٹیشن تک کی سیٹ ریزرو کرائی جا سکتی تھی۔ اس ٹیکنالوجی کا کافی فائدہ ہوا۔اس کے تحت آج پانچ لاکھ مسافر اپنی سیٹ روزانہ ریلوے میں محفوظ کروا رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے ہر ٹکٹ میں ریلوے کی جو لاگت صرف ہوتی تھی اس میں بھی کمی آئی ہے۔اس کے ساتھ ہی انسانی فعالیت اور غیر ضروری سرگرمیوں کی بھی بچت ہوئی ہے۔ اب مسافروں کے لئے متعددقسم کی سہولتیں میسر ہیں۔ انہیں لائن میں لگ کر ٹکٹ کٹوانے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ چاہیں تو ای ٹکٹ بک کروا سکتے ہیں۔انٹرنیٹ نے ریلوے کی دنیا کے ساتھ ساتھ ہندوستانی بینکوں کا بھی چہرہ بدل دیا۔ پہلے پیسے جمع کرنے یا نکالنے کے لئے بینک جانا ضروری تھا لیکن آج بدلے ہوئے تکنیکی ماحول میں اس کی کوئی ضرورت نہیں رہ گئی ہے۔ آپ اے ٹی ایم سے بھی پیسہ نکال سکتے ہیں۔ سن 1999-2000 میں محض دو بینکوں نے کور بینکنگ ٹرانسفرمشین ڈیل پر دستخط کئے تھے جبکہ 2009 تک 50 بینکوں کی 55 ہزار سیل کور بینکنگ کا حصہ بن چکی ہیں۔اس ٹیکنالوجی سے انتظامی سطح پر بھی کافی تبدیلی آئی ہے۔ کرناٹک کی حکومت نے زمین پروجیکٹ کے تحت ریاست کے 30ہزار گاووں کے صدیوں پرانے ہاتھوں سے تحریر کردہ لینڈ ریکارڈ کوکمپیوٹرائزڈ کر دیا ہے۔ اب کرناٹک کا کوئی بھی کسان تعلقہ دفتر میں 15 روپے دے کر اپنے لینڈ ریکارڈ کا پرنٹ آو ¿ٹ لے سکتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی نے پرنٹ میڈیا کا بھی چہرہ تبدیل کر دیا ہے۔ پہلے ٹےلی پرنٹر پر پیغام آتے تھے جس کی وجہ سے بہت سارا ردی کاغذ دفتر میں جمع ہو جاتا تھا لیکن آج ایسے حالات نہیں ہیں۔ آج ویب سائٹ پر نیوز آتی ہیں۔پیج بنانے کے لئے یا ترمیم کے لئے بھی کمپیوٹرا سکرین کا استعمال ہو رہا ہے لیکن اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ لوگ ویب سائٹ پر ہی اخبار پڑھنے لگے ہیں۔ نئی تکنیکوں نے ہماری زندگی کو آسان تو بنایا ہے لیکن معاشرے سے آپسی رشتہ بھی بدل ڈالا ہے۔ انٹرنیٹ کم وقت میں بہت ساری معلومات فراہم کرتا ہے لیکن لائبریری معلومات دینے کے ساتھ ساتھ معاشرے سے براہ راست بات چیت کا موقع دیتی ہے جس کی انسانی زندگی میں خصوصی اہمیت ہے۔ اب یہ معاشرے کو سوچنا ہے کہ وہ نئی ٹیکنالوجی اور سماجی تعلقات کے درمیان کس طرح مطابقت اور تال میل قائم کرتا ہے۔

 
 

Email to:-

 
 
 
 
 
 

© Copyright 2009-20010 www.urdupower.com All Rights Reserved

Copyright © 2010 urdupower.o.com, All rights reserved