اعوذ             باالله من             الشيطن             الرجيم                بسم الله             الرحمن             الرحيم                الحمد لله              رب             العالمين .             الرحمن             الرحيم . ملك             يوم الدين .             اياك نعبد و             اياك             نستعين .             اهدناالصراط             المستقيم .             صراط الذين             انعمت             عليهم '             غيرالمغضوب             عليهم             ولاالضالين

WWW.URDUPOWER.COM-POWER OF THE TRUTH..E-mail:JAWWAB@GMAIL.COM     Tel:1-514-970-3200 / 0333-832-3200       Fax:1-240-736-4309

                    

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

Telephone:-919811231871

Email:-sa.sagar7@gmail.com

کالم نگار کے مرکزی صفحہ پر جانے کے لیے کلک کریں

تاریخ اشاعت:۔2011-08-03

اقتصادی بحران سے ملے ترقی کے مواقع
کالم ۔۔۔۔۔۔۔ ایس اے ساگر
بین الاقوامی مارکیٹ میں امریکی بانڈ کو سونا سمجھ کر خریدنے والے ہی جانتے ہیں کہ وہ خوف اور خدشہ کے کس دور سے گذرے ہیں۔ذرائع پر یقین کریں توایسے میںدنیا کے کئی ممالک اب سرمایہ کاری کے لئے ہندوستان اور چین جیسی ترقی پذیر معیشتوں کو اہمیت دے رہے ہیں۔ عالمی بحران کے باوجود ہندوستان اور چین کی مستقل ترقی کی شرح ان کے لئے پرکشش ثابت ہوئی ہے۔ سرمایہ کاری کے محفوظ ٹھکانے کے طور پر امریکی معیشت میں اس کا بھروسہ تو پہلے ہی ٹوٹ چکا تھا ، اب یوروپی ممالک بھی امریکہ کی غلطیوں کا خمیازہ بھگتنے سے کترا رہے ہیں۔ وہ اپنے سرمایہ کاروں کو نئے ٹھکانے تلاش کرنے اور امریکہ سے تجارت کے معاملہ میں بھی احتیاط برتنے کی تاکید کر رہے ہیں۔ وہ دور ختم ہو رہا ہے جب بھاری بھرکم سرمایہ کاری ،برآمدات کے وسیع بازار اور مالیاتی نظام کو نئی سمت دینے کے معاملے میں امریکہ سب کا قائد تھا۔ اس سے ہندوستان جیسے ممالک کے لئے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ ان کے لئے موقع یہ ہے کہ جو سرمایہ کاری ادھر امریکی ڈالر کی ڈوبتی کشتی کی وجہ سے سونے اور سوئس فرانک میں بڑھنا شروع ہوا ہے ، اسے وہ اپنی پائیدار منڈیوں کی طرف موڑ لیں۔ پر اس کے لئے ضروری ہے کہ ہندوستان اس سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے کے اقدامات کرنے کے ساتھ امریکی منڈیوں پر انحصار اپنے برآمد کے لئے بھی نئے ٹھکانے تلاش کرے۔ جیسے کہ آئی ٹی سیکٹر کو صرف امریکہ اور اس کے پیش رو یوروپی ممالک کا محتاج بنا کر رکھنے میں سمجھداری نہیں ہے۔چھوٹے ایشیائی ممالک کے بازاروں میں بھی ہندوستان کو اچھے مواقع مل سکتے ہیں۔ پڑوسی ممالک پاکستان ، سری لنکا یا بنگلہ دیش کے بازاروںمیں ہندوستانی مصنوعات کے لئے مواقع کی کمی نہیں ہے۔ آئی ٹی کی ہماری برتری کا فائدہ اٹھنے کے لئے یہ ممالک متوجہ ہو سکتے ہیں۔ آئی ٹی سیکٹر میںہندوستانی مہارت کاجو فائدہ اب تک امریکی یا یوروپی ملک صرف اپنی مضبوط کرنسی کے بوتے پر اٹھاتے رہے ہیں کچھ کم قیمت میں ویسا ہی فائدہ پڑوسی ملکوں کو میسر کروایا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اپنے ایجوکیشن اور ہیلتھ سیکٹر کو مزید دلکش بنا کر برتری حاصل کی جاسکتی ہے۔ اس سے نہ صرف ملک کی تجارت بڑھے گی بلکہ پڑوسیوں سے تعلقات بھی بہترہوںگے۔دوسری جانب آج اگر امریکی خزانے میں کہیں سے ادھار کی رقم نہیں آ جاتی تو دنیا میں ٹرپل اے کی کیا ساکھ رہ جاتی؟تاہم آج سینیٹ میں بھی اس سمجھوتے کی منظوری کا یہ مطلب نہیں ہو گا کہ قرضوں کے سلسلے میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے اہل اور قابل اعتبار ہونے کے درجے میں ممکنہ کمی کا معاملہ حتمی طور پر ختم ہو جائے گا۔ اسی لیے بڑی بے چینی سے ریٹنگ ایجنسیوں کے رد عمل کا انتظار کیا جائے گا جنہوں نے امریکہ کے ذمے واجب الادا بھاری قرضوں کے پیشِ نظر دھمکی دی تھی کہ وہ امریکہ سے AAAکا اعلیٰ درجہ واپس لے لیں گی۔ چین پہلے ہی اسے اپنے آجروں کے مفادات کے تحفظ کی وارننگ دے چکا ہے۔امریکہ بھلے ہی دنیا کا سب سے امیر ملک ہے لیکن اگلے سال جولائی میں ہونے والے صدارتی انتخابات کی گہما گہمی اور اس آلودہ سیاست نے وہاں کی معیشت کوزوال سے دوچار کیا ہے۔ اب تو یہ بھی کہا جانے لگا ہے کہ یہاں کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں؛ حکمراں ڈیموکریٹس اور اہم حریف رپبلکنس کے درمیان اگر یوں ہی بندربانٹ کا کھیل چلتا رہا تو ممکن ہے کہ چین جلد ہی امریکہ کی معیشت پر حاوی ہو جائے جبکہ فی الحال وہ دوسرے نمبر پر کھڑا ہے۔گزشتہ چار سال سے امریکہ کو کساد بازاری نے گھیر رکھا ہے۔ اس سے معیشت میں بہتری آنا تو دور کی بات ‘یہاں کل ملکی پیداوار جی ڈی پی یعنی کل آمدنی میں بھی اضافہ نہیں ہو رہا ہے لیکن ا خراجات حسب سابق ہوئے ہیں۔ اس پر بھی تیوریاں چڑھی ہوئی ہیں۔ اب جبکہ صدر کا انتخاب سر پر آن کھڑا ہوا ہے تو روایت پسندوں کی اور دولت مندوں کی گرینڈ اولڈ پارٹی جی اوپی عام آدمی سے وابستہ اوباما کی ڈیموکریٹ حکومت کو آنے والے انتخابات میں جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے چانکیہ کی طرح چالیں چل رہی ہے ۔اب یہ کسی سے پوشیدہ نہیںرہا ہے کہ افغانستان اور عراق کے دو جنگوں میں کھربوں ڈالر جھونک دینے والی دونوں ہی جماعتوں کی حکومتوں نے یعنی پہلے ری پبلیکن اور پھر ڈیموکریٹس نے محض ناک کے سوال کے نام پر یہاں کے عوام کے مفادات کی ہی قربانی دی ہے۔ اوباما کے دور اقتدار کی 30 ماہ کی مدت میں تقریبا سوا کھرب ڈالر مزید خرچ ہوئے ہیں۔ اس خرچ کا امریکی معیشت کو پٹری پر لانے میں کوئی استعمال نہیں ہوا۔ ہاں اتنا ضرور ہے کہ اس خرچ نے ری پبلیکن لیڈروں کو اوباما کی پالیسیوں پر تنقید کا ایک کارگر موقع ضرورفراہم کر دیا ہے۔ حالانکہ سچ تو یہ ہے ، اور اسے وہ بھی جانتے ہیں کہ عراق اور افغانستان میں جنگ کی آگ انہی کی دہکائی ہوئی تھی۔دوسرے یہ کہ مندی کا آغاز اور امیروں کو ٹیکس میں راحت اور غریبوں اور متوسط طبقے پر ٹیکس کی مزید مار بھی ری پبلیکن صدر بش کی حکومت کی ہی دین ہے لیکن یہ بھی اتنا ہی سچ ہے کہ اوباما ملک کو کساد بازاری سے ابھار نے میں ناکام رہے ہیں۔ ان کے دور حکومت میں ملک میں بے روزگاری 8 فیصد سے بڑھ کر 9.2 فیصد ہو گئی ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ اوباما نے افغانستان اور عراق سے فوج کی واپسی کا فیصلہ لینے میں بہت تاخیر کی ہے۔ تاخیر کی وجہ لادن کو ڈھونڈ نکالنے اور اسے مار کر دہشت گردی کو ختم کرنے کاسرکاری دعوی بھی فی الحال امریکی عوام کے گلے نہیں اتر رہا ہے۔آج امریکہ کی وفاقی حکومت پر 14.29 کھرب ڈالر کا قرض ہے یعنی ہر ایک شہری پر 46 ہزار ڈالر کا قرض لدا ہوا ہے۔ یہ رقم امریکی جی ڈی پی کے 95 فیصد کے برابر ہے۔ ایسی حالت میں جب سرکاری خزانہ سے خسارہ کم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے تو اس وقت اوباما حکومت ایک حد میں رہ کر ہی اخراجات میں کمی کر سکتی ہے۔ حالانکہ اوبامہ نے دس برسوں کی مدت میں قریب دو کھرب ڈالر کی کمی کرنے اور اتنی رقم کی ٹیکس وصولی بڑے امیروں اور کارپوریٹ گھرانوں پر ٹیکس لگا کر حاصل کرنے کی پیش کش کی ہے۔ اوباما کے اپنے دور حکومت میں امریکہ کا قرض بھی اتنا ہی یعنی تقریبا 2.4 کھرب ڈالر ہی بڑھا ہے لیکن ری پبلیکن اسے ہضم نہیںکر پا رہے ہیں۔ سینیٹ میں ان کا اکثریت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ واشنگٹن کی وفاقی حکومت عزت میں رہنا سیکھے ، وہ اسے سرکاری خزانے کو من چاہے خرچ کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ حالانکہ موجودہ قرض کا ایک تہائی حصہ یعنی6.1 کھرب تن تنہا صدر بش کے دور حکومت میں جمع ہوا ہے لیکن رپبلکنس اس لیے دباو ¿ بنا رہے ہیں کیوںکہ وہ اپنے سرمایہ کاروں پر ٹیکس میں اضافہ نہیں چاہتے۔ وہ اس پیشکش سے بھی خوش نہیں ہیں کہ قرض کی حد طویل مدت کے لئے بڑھائی جائے۔ اس کے پیچھے چال یہ ہے کہ اوباما کو اگلے 18 ماہ کی باقی مدت میں ایک بار پھر ری پبلیکن کے سامنے ہاتھ پھیلانا پڑے تاکہ اگلے سال جولائی میں جب انتخابی عمل شروع ہو تو وہ صدر کی جم کر کھنچائی کر سکیں۔ اب دونوں ہی جماعتوں کے رہنماو ¿ں کے درمیان قرض کی حد بڑھائے جانے کی آڑ میں شک اور شکست کا کھیل جاری ہے۔ بہرکیف قرض کی حد تو بڑھے گی ہی ‘اب اہم بات یہ ہے کہ اس کی قیمت کیا ادا کرنی پڑتی ہے۔ماہرین اقتصادیات کہتے ہیں کہ اخراجات میں کمی ہوگی تو بے روزگاری بڑھے گی۔ ریاستوں کو وفاقی حکومت سے کم گرانٹ پر مبنی امدادی رقم ملے گی اور فوجی اخراجات میں کمی سے نئے ہتھیار وں کےکارخانوں پرمنفی اثر پڑے گا ، اس سے معیشت میں الٹا پہیہ گھومنا شروع ہو جائے گا۔ ٹرےژری سیکرٹری یا وزیر خزانہ ٹموتھی نے کانگریس میں بیان دیا ہے کہ اگر خزانہ میں مزید دولت نہیں آئی تو اگست 2011 میں باقاعدہ خرچ چلانے کے لئے بھی 134 ارب ڈالر کی کمی ہی نہیںپڑ جائے گی بلکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی بھی رک جائے گی۔اس جائزہ کے ساتھ ٹموتھی نے کانگریس کو قرض کی حد بڑھانے کا مشورہ دیا تھا۔ اوباما کی فیڈرل حکومت کے سامنے 2 اگست 2011 تک ٹریژری کو بھرنے یعنی قرض کی حد بڑھانے کا آخری موقع تھا۔ لوگوں کو بھروسہ تھا کہ قوم پرستی اور سیاست کے نام پر دونوں پارٹیاں کسی نہ کسی طرح کا جوڑ توڑ کرکے ایسے کسی معاہدے پر پہنچ ہی جائیں گی لیکن قرض سے دبی یہ معیشت اور اونچی ناک رکھنے والا مزاج کب تک اس ملک کو نمبر ون کی کرسی پر بیٹھنے دے گا۔
 
 

Email to:-

 
 
 
 
 
 

© Copyright 2009-20010 www.urdupower.com All Rights Reserved

Copyright © 2010 urdupower.o.com, All rights reserved