اعوذ             باالله من             الشيطن             الرجيم                بسم الله             الرحمن             الرحيم                الحمد لله              رب             العالمين .             الرحمن             الرحيم . ملك             يوم الدين .             اياك نعبد و             اياك             نستعين .             اهدناالصراط             المستقيم .             صراط الذين             انعمت             عليهم '             غيرالمغضوب             عليهم             ولاالضالين

WWW.URDUPOWER.COM-POWER OF THE TRUTH..E-mail:JAWWAB@GMAIL.COM     Tel:1-514-970-3200 / 0333-832-3200       Fax:1-240-736-4309

                    

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

Telephone:-919811231871

Email:-sa.sagar7@gmail.com

کالم نگار کے مرکزی صفحہ پر جانے کے لیے کلک کریں

تاریخ اشاعت:۔2011-08-05

کیا پارلیمنٹ میں محض مذاکرات سے مہنگائی کم ہو جائے گی؟
کالم ۔۔۔۔۔۔۔ ایس اے ساگر
پارلیمنٹ میں ملک کی آزادی کے بعد مہنگائی پر متعددبحثیں ہوچکی ہیں جبکہ آج پہلی مرتبہ اصول 184 کے تحت پارلیمنٹ میں بحث کے بعد ووٹنگ ہوگی لیکن کیا اس سے مہنگائی کم ہوگی؟ماہرین کی مانیں تو بحث کے بعد مہنگائی پر بحث کے بعد کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ 184 ضابطے کے تحت اگر گفتگو ہو رہی ہے تو اس سے حکومت پر ایک طرح کا دباو ¿ قائم ہو گا وہیں بحث کے لئے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان معاہدے ہوا ہے۔ماہرین کی مانیں تو مہنگائی سے پریشان عام آدمی کی حکومت کی طرف دیکھتا ہے لیکن ریاستی حکومت مہنگائی کا ٹھیکرا مرکزی حکومت پر تو مرکزی حکومت اس کا ٹھیکرا ریاستی حکومتوں پر پھوڑ رہی ہیں جبکہ عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں۔مذاکرات سے مہنگائی پر بریک نہیں لگیں گے۔ہاں آنے والے وقت میں مہنگائی سے نمٹنے کی تیاری پر یقین دہانی ضرور مل سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نظام اور پالیسیاں شفاف نہیں ہوںگی تو گفتگو کا کیا فائدہ؟جبکہ ماضی میں جھانکیں تو پتہ چلتا ہے کہ کانگریس ، بی جے پی ، بائیں بازو کی جماعتوں سمیت تمام پارٹیوں کا مہگائی کے بارے میں اپنا اپنا موقف رہا ہے۔جب بھی بحث مہنگائی کی باری آتی ہے پارٹیاں ایک دوسرے پر الزام تراشیوں کا سلسلہ شروع کردیتی ہیںجبکہ کہ مہنگائی کے لئے کسی ایک جماعت ، ایک حکومت کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ اس کے لئے سب کو مل کر قدم اٹھانے ہوں گے۔ حالانکہ مہنگائی پرہر سال تشویش کی جاتی ہے اور گفتگو ہوتی ہے لیکن مہنگائی مسلسل بڑھتی رہی ہے۔ اس سے قبل بھی ہر سال ہر حکومت کے دور میں مہنگائی پر بحث ایک روایت سی بن گئی ہے۔ گزشتہ ساٹھ سال میں پارلیمنٹ میں 83 بار مہنگائی پر بحث ہو چکی ہے۔ اس دوران ہر پارٹی کی حکومت مرکز میں رہ چکی ہے۔ مہنگائی پر لگام کسنے کے لیے ہمیں کچھ مستقل قدم اٹھانے ہوں گے جن کی طرف لوگوں کا دھیان نہیں جا رہا ہے۔سب سے بڑی بات یہ ہے کہ شہروں اور دیہاتوں کا دائرہ وسیع ہوتا چلا جا رہا ہے۔ شہر پھےلتے جا رہے ہیں۔ نئے گھر ، نئے کالونیاں بنتی جا رہی ہیں۔اس سے گاو ¿ں کا بھی سائز بڑھتا جا رہا ہے کیونکہ آبادی بڑھنے سے مزید گھر چاہئیں اور کھانے پینے کی چیزوں کی کھپت بھی ویسے ہی بڑھتی ہے۔ملک میں نئے فارمولا ون سرکٹ، زمین فروخت کرنے والے خوش بھی اور پریشان بھی جبکہ ہندوستان میں رواں سال فارمولان ون کار ریسنگ منعقد ہونے جا رہی ہے۔ ریس کے سرکٹ کی تیاری کے لیے جن کسانوں نے اپنی زمینیں فروخت کی تھیں ان میں سے بہت سے خوش بھی ہیں اور کئی اپنے فیصلے پر پچھتا بھی رہے ہیں۔ہندوستانی دارالحکومت نئی دہلی کے نواح میں3.2 میل طویل سرکٹ کو بنانے کے لیے سینکڑوں کسانوں نے اپنی اراضی فروخت کی تھی لیکن بہت سے لوگ زمین بیچنے کے اپنے فیصلے سے خوش نہیں ہیں۔کسان سنجے سنگھ کا کہنا ہے کہ زمین کے اس چھوٹے سے ٹکڑے کے ساتھ ان کی زندگی مشکل تو تھی لیکن سادہ اور آسان بھی تھی۔وہ اپنے چھ بچوں کے ساتھ مشکل سے گزارا کرتا تھا۔30 اکتوبر کو نئی دہلی کے قریب اس نئے روٹ کا افتتاح ہو گا۔ کار ریسنگ کا یہ سرکٹ تین ملین یوروکی لاگت سے تعمیر کیا گیا ہے۔ سنگھ کا کہنا ہے اس تعمیری کام نے ان کی زندگی کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔” ہمیں زمین کے بدلے رقم تو ملی لیکن بہت کم یعنی یہ ایک گھاٹے کا سودا تھا۔ اب ہمارے پاس نیا گھر ہے، گاڑی ہے لیکن ہم خوش نہیں ہیں کیونکہ کاشتکاری ہماری گزر بسر کا ذریعہ تھا اور جو اب ہم سے چھین لیا گیا ہے۔“ دارالحکومت دہلی سے 80 کلومیٹر دور ان کسانوں نے اپنی بستی آباد کی ہے جنہوں نے فارمولا ون کی انتظامیہ کے ہاتھوں اپنی زمینیں فروخت کی ہیں۔ پانچ سو چھوٹے گھر نئے مکانات میں تبدیل ہوگئے ہیں۔ ہر جانب تعمیر جاری ہے اور دھول مٹی،شورشرابے اور خام مال لانے والے ٹرکوں نے علاقے کا حسن برباد کر دیا ہے۔سنگھ کا مزید کہنا تھا کہ اس صورتحال نے گاو ¿ں کے لوگوں کو ایک طرح کا ذہنی مریض بنا دیا ہے۔ لوگ ایک دوسرے پر شک کر رہے ہیں اور حسد کرنا شروع کر دیا ہے۔ خاندانوں میں لڑائی جھگڑے شروع ہوگئے ہیں۔ لڑائی صرف فارمولا ون سرکٹ کے لیے زمین فروخت کرنے والوں میں ہی نہیں ہو رہی بلکہ ہندوستان کے دیگر علاقوں میں جہاں صنعت کار اپنی فیکٹریاں لگانے کے لیے زمینیں خرید رہے ہیں وہاں بھی صورتحال کوئی زیادہ مختلف نہیں ہے۔کسانوں کو شکایت ہے کہ ان کی زمین سے بے دخل کیا جا رہا ہے جو سراسر غیرمنصفانہ رویہ ہے جبکہ کاروباری افراد کا کہنا ہے کہ وہ ان کو روزگارفراہم کرنے کا موقع دے رہے ہیں۔ اس کے باوجود غیر تعلیم یافتہ کسان پریشان ہیں کہ بےشک ان کو زمین کے بدلے اچھا معاوضہ مل گیا ہے لیکن ان کا مستقبل اور زمین کے ساتھ جذباتی وابستگی کا کیا ہوگا؟ اس گراں پری سرکٹ کا نام ’بدھا انٹرنیشنل‘رکھا گیا ہے۔
اب ایک طرف تو کھیتی کی زمین کم ہوتی جا رہی ہے اس پر گھر ‘کارخانے اور ترقی کی نئی چیزیں بنتی جا رہی ہیں ، دوسری طرف آبادی بڑھتی جا رہی ہے جبکہ اس بڑھتی ہوئی آبادی کی صلاحیتیں استعمال کرنے سے حکومت قاصر ہے۔صلاحیتیں اگر استعمال ہوتی ہوئی ہوتیں تو بے روز گاری نہ ہوتی۔ایسی صورتحال میںفطری چیزہے کہ کھانے پینے کی چیزوں کی پیداوار گھٹتی جائے گی۔ اس لئے حکومت کی ذمہ داری بن جاتی ہے کہ جتنی ترقی کرنی ہے ، نئے گھر ، صنعت و حرفت ، ٹانشپ اور ترقی کے دیگر کام ممکن ہو تو مواقع اور بنجر زمین کوکارآمد بنانے کے عملی اقدامات کئے جائیں اور کھیتی کے لائق زمین کو بچایا جائے۔ آج کوئی کارخانہ لگاتا ہے تو ہزاروں ایکڑ کھیتی کی زمین اس کے لئے دے دی جاتی ہے۔ اسی پلانٹ کو ہم ایسی زمین پر لگا سکتے ہیں جہاں کھیتی نہیں ہوتی۔ اگر ہم پالیسی میں تبدیلی لا کر کاشت کی زمےن پر نئی تعمیر پر روک نہیں لگائیں گے تو کوئی مہنگائی کو نہیں روک سکے گا اور ہر سال ہمیں لاکھوں کروڑ روپے کا اناج درآمد کرنا پڑے گا۔دوسرا قدم کھانے کی بربادی کو روکنا ہے۔ روزانہ لاکھوں دعوتیں ہوتی ہیں اور ان میں ہزاروں کوئنٹل کھانا ضائع ہوتا ہے۔ ہوٹلوں سے لے کر کر ہر تقریب میں کھانے کی جم کر بربادی ہوتی ہے۔ ریاستی حکومتوں کو سوچنا ہوگا کہ اسے کس طرح روکا جائے۔ اس سمت میں تیسرا قدم یہ اٹھانا ہوگا کہ پورے ملک میں جگہ جگہ کثیر تعداد میں کولڈا سٹورےج بنائے جائیں جن میں اناج ، سبزیاں اور کھانے کا دیگر سامان مہینوں تک رکھا جا سکے۔ ابھی لاکھوں ٹن ایسا سامان سڑکر بربادہو جاتا ہے اور اسے پھینکنا پڑتا ہے۔ گزشتہ کچھ ماہ سے چونکہ کھانے پینے کی چیزوں کی قیمتیں تیزی سے بڑھی ہیں اس لئے کافی شوروغل سنائی دے رہا ہے۔ اس کی چار وجوہات ہیں۔ ایک تو پوری دنیا میں اناج کی کمی ہے ۔عالمی بینک کے مطابق دنیا بھر میں ایک ارب لوگ فاقہ کشی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔ پاکستان ، بنگلہ دیش ، سری لنکا ، برما وغیرہ ممالک میں ہندوستان سے زیادہ تیزی سے مہنگائی بڑھ رہی ہے۔ دوسری وجہ گزشتہ سال پڑے سوکھے سے کئی فصلیں کافی متاثر ہوئی ہیں۔ تیسرا سبب گیہوں ، چاول اور گنے کی امدادی قیمت کا بڑھنا ہے۔ مطلب کہ حکومت نے کسانوں کو دینے والی قیمت بڑھا دی تو فطری بات ہے کہ ان اناجوں کی قیمت کھلے بازار میں خود بخودبڑھ جائے گی۔گذشتہ دنوں گیہوں پر چار سو روپے فی کوئنٹل بڑھا کر 1100 روپے کر دی گئی جبکہ دھان پر 600 روپے سے 1050 روپے فی کوئنٹل اور گنے پر 260 روپے کوئنٹل امدادی قیمت کسانوں کو دی گئی۔اس سے قیمتیں بڑھی ہیں لیکن اس کا فائدہ کسانوں کو ملنا ضروری تھا۔ آج بھی کسان کو اس کی پیداوار کی صحیح قیمت نہیں مل پا رہی ہے۔ بچولئے ضرورت سے زیادہ فائدہ اٹھا لیتے ہیں۔ اس کے لئے مرکزی حکومت سے مزید ذمہ داری اس ضلع کے انتظامیہ کی ہے۔ مہنگائی کا چوتھا سبب طلب کا زیادہ ہونا اور فراہمی میں کمی ہونا ہے۔ دالوں اور تیل کی پیداوار مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے۔ کسان ان دو فصلوں کو کم بوتا ہے۔ اس کا سارا زور گیہوں اور چاول پر رہتا ہے۔ حکومت آج سے نہیں دسیوں سال سے کھانے کے تیل کو درآمد کر رہی ہے۔ واجپئی حکومت میں بھی پام آئل کی خوب درآمد کی گئی تھی۔ آج بھی ملک میں دالےیںاور کھانے کے تیل کی پیداوار کافی کم ہے۔ جب تک اس کی درآمد نہیں کی جاتی تب تک اشیائے خوردونوش کی کمی رہنے سے قیمتیںبڑھیں گی۔ماضی میں حکومت نے تقریبا 90 لاکھ ٹن کھانے کے تیل کا درآمد کیا ہے اور 30 لاکھ ٹن دالوںکی درآمدکی ہے۔ جبکہ مہنگائی کو روکنا صرف مرکزی حکومت کی ذمہ داری نہیں ہے۔ ریاستی حکومتوں کی بھی اس میں برابر کا کردار اداکرنا چاہئے۔ مرکزی حکومت درآمد ات برآمدات کر سکتی ہے اوردیگر تمام پالیسیوں کو بنا سکتی ہے لیکن ریاستی حکومتوں کو اصل کام کرنا ہے جس میں جمع خوروں کے خلاف سخت کارروائی اور بچولیوں پر کنٹرول کرنا شامل ہے۔ یہی نہیں تمام ریاستی حکومتوں نے کھانے پینے کی اشیاءپر جم کر ٹیکس لگا رکھا ہے اس ٹیکس کو انھیں کم کرناہو گا۔ گجرات جیسی ریاستوں نے تو کھاد پر بھی مقامی ٹیکس لگا رکھا ہے جو دیگر ریاستوں میں نہیں ہے۔لہذا مہنگائی کے معاملے پر ایک دوسرے پر الزام لگانے کی بجائے اسے قومی مسئلہ سمجھتے ہوئے ہر پارٹی ، ہر ریاستی حکومت اور مرکزی حکومت ملکر تعمیری قدم اٹھائیں تو اس پر قابو پانا آسان ہو جائے گا۔
 
 

Email to:-

 
 
 
 
 
 

© Copyright 2009-20010 www.urdupower.com All Rights Reserved

Copyright © 2010 urdupower.o.com, All rights reserved