اعوذ             باالله من             الشيطن             الرجيم                بسم الله             الرحمن             الرحيم                الحمد لله              رب             العالمين .             الرحمن             الرحيم . ملك             يوم الدين .             اياك نعبد و             اياك             نستعين .             اهدناالصراط             المستقيم .             صراط الذين             انعمت             عليهم '             غيرالمغضوب             عليهم             ولاالضالين

WWW.URDUPOWER.COM-POWER OF THE TRUTH..E-mail:JAWWAB@GMAIL.COM     Tel:1-514-970-3200 / 0333-832-3200       Fax:1-240-736-4309

                    

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

Telephone:-+919868985692

Email:-zainabzinnira@gmail.com

کالم نگار کے مرکزی صفحہ پر جانے کے لیے کلک کریں

تاریخ اشاعت:۔2011-08-01

نئے زمانے کی جان لیوا ایجادات
کالم ۔۔۔۔۔۔۔ زینب زنیرا
آج کے سائنسی دور میں نت نئی ایجادات نے بظاہرمعاملات زندگی بہت آسان کردیئے ہیں۔ تفریح کیلئے سرکس بینی قصہ پارینہ بنتی جارہی ہے۔ شہروں میں قائم اکھاڑے جو نوجوانں کو شہ زوری کی طرف آمادہ کرتے تھے ‘آہستہ آہستہ مفقود ہوتے جارہے ہیں۔ مواصلات میں لینڈ لائن کی جگہ موبائل فونوں نے لے لی ہے۔سینما ہالوں اور ٹی وی کے شدید نقصانات جھیلنے کے بعد اب تھری ڈی کا مضر رواج زور پکڑ رہا ہے۔ پرانی سواری کی جگہ نئی سواریوں نے لے لی ہے مگر جوانوں کے شوق آج بھی اپنی جگہ پر جوں کے توں ہیں۔ عید ہو یامیلہ ، ہر تہوار نوجوانوں کی سرگرمیوں سے بھرپور ہوتا ہے ان سرگرمیوں میں چند ایک مشاغل ایسے بھی ہیں جو بعض اوقات جان لیوا ثابت ہوتے ہیں۔
تھری ڈی فلموںکا زہر
تھری ڈی فلموں کا ذکر یوں تو عرصے سے ہورہاہے اور بعض موقعوں پر محدود پیمانے پر ان کی نمائش بھی کی جاتی رہی ہے لیکن عام سینما گھروں میں، عام پبلک کے لیے پیش کی جانے والی پہلی تھری ڈی فلم اواتارنے کامیابی اور ریکا رڈ بزنس حاصل کیا جسے دیکھتے ہوئے اب فلمی مبصرین کہہ رہے ہیں کہ آنے والے وقت میں نہ صرف تھری ڈی فلموں کی مانگ اور پروڈکشن بڑھے گی بلکہ تھری ڈی ٹیلی ویژن کوبھی اپنی جگہ بنانے میں مدد ملے گی۔سائنس فکشن کی اس فلم نے جیمز کیمرون کے لیے گولڈن گلوب ایوارڈز میں بہترین ڈائریکٹر اور بہترین ڈرامہ کے ایوارڈز جیتے ہیں لیکن یہ سب باتیں ایک طرف یونیورسٹی آف کیلی فورنیا برکلے کے پروفیسر مارٹن بینکس کا کہنا ہے کہ تھری ڈی فلموں سے آنکھوں پر برا اثر پڑتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ جب ہم قریب کی چیزوں کو دیکھتے ہیں تو ہماری آنکھیں ایک جگہ پر مرکوز ہو جاتی ہیں اور دور کی چیزوں کو دیکھنے کے لیے اس کا عمل اس کے الٹ ہوتا ہے۔بصارت کے پروفیسر مارٹن بینکس کا کہنا ہے کہ تھری ڈی فلمیں ہماری آنکھوں کو بیک وقت دور اور نزدیک دیکھنے پر مجبور کرتی ہیں جسے ورجنس اکوموڈیشن کانفلیکٹ کہتے ہیں‘جس کی وجہ سے سر درد اور نظر کی دھندلاہٹ ہوتی ہے۔مارٹن بینکس کا کہنا ہے کہ آپ اپنے دماغ میں بصارت کیلئے برسوں سے قائم ایک اصول کو بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کی وجہ سے آنکھوں پر بوجھ پڑتا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ کم عمر کے فلم بینوں میں اس مرض میں مبتلا ہونے کے امکانات زیادہ ہو تے ہیں۔ جب کہ 50 /60 سال کی عمر میں بصارت کو نقصان پہنچنے کے خطرات کم ہوجاتے ہیں لیکن کم عمر نوجوانوں کے لیے یہ خطرہ بہر حال موجود رہتا ہے۔پروفیسر بینکس کا کہنا تھا کہ انھوں نے فلم پروڈیوسرز سے بات کی ہے اور وہ تھری ڈی فلموں میں کچھ تبدیلیوں کے لیے آمادہ ہیں جس سے آنکھوں پر پڑنے والے اثر کو کم کیا جا سکے لیکن ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس سے شاید خطرات کم ہو جائیں لیکن ختم نہیں ہوں گے۔ کچھ بھی ہو تھری ڈی فلمیں بنتی رہیں گی اور ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے پانچ برسوں میں تھری ڈی ٹیلی ویژن کے رحجان میں بھی واضح اضافہ ہو گا۔اس بات کا علم تو سب ہی کو ہے کہ تھری ڈی فلمیں نہ صرف درد شقیقہ کا سبب بنتی ہیں بلکہ بصارت کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو تی ہیں لیکن سائنسدانوں کی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق تھری ڈی فلمیں دماغ کے لیے بھی نقصان دہ ہیں۔یونیو رسٹی آف برکلے کے سائنسدانوں نے تھر ی ڈی فلموں اورسردرد کے تعلق پر اپنی تحقیق میں اس با ت کا انکشاف کیا ہے کہ تھری ڈی فلموں سے آنکھوں پر دبا و ¿ پڑتا ہے جس سے سر میں درد شروع ہوجاتا ہے۔تحقیق کے سربراہ پروفیسر مارٹن بنکس کا کہنا ہے کہ ہم اس چیز کو معمو لی سمجھتے ہیں لیکن کی تھری ڈی فلموں کا دیکھنا زندگی میں بڑے مسئلے کا باعث بنتا ہے۔ تھری ڈی فلمیں بچوں اور نوجوانوں پر زیادہ نقصان پہنچاتی ہیں کیونکہ وہ تھری ڈی کے مضر اثرات کا مقابلہ نہیں کر پاتے اور یوں سر درد کے ساتھ دماغی مسائل کا بھی شکار ہوجاتے ہیں۔
کمپیوٹر اور پرنٹرز سے نکلنے والی نقصان دہ حرارت
آسٹریلوی طبی ماہرین نے کہا ہے کہ دفاتر اور گھروں میں استعمال ہونے والے کمپیوٹر اور پرنٹروں سے نکلنے والی حرارت اسی طرح نقصان دہ ہے جس طرح سگریٹ نوشی سے ہونے والے مضر صحت اثرات کس طرح خطرناک ہوسکتی ہے۔کوئین لینڈ یونیورسٹی آف ٹیکنالوجیز اور انٹرنیشنل لیبارٹری فار ایئرکوالٹی اینڈ ہیلتھ نے 62 مختلف پرنٹر مشینوں پر تجربات کئے۔ان تجربات کرنے کے بعد نتیجہ اخذ کیا کہ 30 فیصد کمپیوٹر پرنٹرز میں’ ٹونر‘ کو چلنے سے جو حرارت اور گیس خارج ہوتی ہے وہ پھیپھڑوں کیلئے ایسے ہی نقصان دہ ہوتی ہے جیسی کہ سگریٹ کی ایک ڈبیہ۔ماہرین کی اس تحقیق کے بعد کمپیوٹر پرنٹرز کو زیادہ محفوظ بنانے کی طرف توجہ دلائی جارہی ہے۔
ٹیلی ویژن اور کمپیوٹرا سکرین کے مضر اثرات
ایک تازہ ترین جائزے سے ظاہر ہوا ہے کہ جو بچے دن میں دو گھنٹے سے زیادہ ٹیلی ویژن دیکھتے ہیں ان کی صحت کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ طبی ماہرین کو معلوم ہوا ہے کہ جو بچے مسلسل کئی گھنٹے ٹیلی ویژن دیکھتے ہیں یا کمپیوٹر پر گیمز کھیلتے ہیں‘ وہ ان بچوں کی نسبت کم صحت مند ہوتے ہیں جو ایسا نہیں کرتے۔اس جائزے میں 11 سے 15 سال تک کے 2750 بچوں کی مجموعی صحت کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ بچوں کے سانس لینے کے عمل کی درستگی کا براہ راست تعلق اس بات سے تھا کہ انہوں نے کتنا وقت ٹیلی ویژن یا کمپیوٹر کی اسکرین کے سامنے گذارا۔اس جائزے سے پتہ چلا کہ 13 سے 15 سال کی جن لڑکیوں نے چار گھنٹے سے زیادہ وقت ٹیلی ویژن یا کمپیوٹر کی ا سکرین کے سامنے گذارا، وہ اپنی ان ہم عمر لڑکیوں کی نسبت کم صحت مند تھیں جو زیادہ سے زیادہ دو گھنٹے ٹیلی ویژن یا کمپیوٹر کے سامنے رہیں۔عمومی طورپر جن لڑکیوں نے ٹیلی ویژن زیاد ہ دیکھا یا زیادہ دیرتک کمپیوٹر گیمز کھیلیں وہ ان لڑکیوں کی نسبت نمایاں طورپر کم صحت مند تھیں جنہوں نے ایسا نہیں کیا تھا۔جائزے میں شامل لگ بھگ دو تہائی بچوں نے تسلیم کیا کہ وہ روزانہ دوگھنٹے سے زیادہ ٹیلی ویژن دیکھتے تھے۔اس مطالعے کے دروان وقفوں وقفوں سے بچوں کو ٹی وی کے سامنے سے اٹھا کر ایک خاص وقت کے لیے بھاگنے کو کہا گیا اور ان کے سانس لینے کے عمل کا مطالعہ کیا گیا۔ پھر ان طالب علموں سے پوچھا گیا کہ وہ کتنا وقت کمپیوٹر پر گیمز کھیلنے یا پھر ہوم ورک کرنے میں گذارتے ہیں۔یہ مطالعاتی جائزہ یونیورسٹی آف سڈنی کے وزن کی زیادتی اور موٹاپے سے متعلق مرکز کے ڈاکٹر لوئیس ہارڈی کی قیادت میں ہوا۔ وہ کہتی ہیں کہ جائزے کے نتائج سے ظاہر ہوا کہ بچوں کوا سکرین کے سامنے زیادہ سے زیادہ دوگھنٹے گذارنے چاہئیں۔اگر وہ اس سے زیادہ وقت کے لیے ایسا کریں تو ان کی صحت متاثر ہوسکتی ہے۔ڈاکٹر ہارڈی کہتی ہیں کہ زیادہ تر بچوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ زیادہ وقت بیٹھے نہ رہیں بلکہ کھیل کود میں بھی حصہ لیں۔ان کا کہنا تھا کہ اپنے بچوں کے کمروں سے ٹیلی ویژن اور کمپیوٹر نکال دیں اور کھانا کھاتے وقت ٹیلی ویژن بند رکھیں اور یہ اصول صرف ٹیلی ویژن ہی نہیں بلکہ ان چیزوں پر بھی لاگو کریں جن میںا سکرین کا استعمال ہوتا ہے۔ بہتر تو یہ ہوگا کہ بعض اوقات بچوں کوا سکرین سے کئی کئی روز تک دور رکھا جائے۔یہ تحقیق اس کے بعد سامنے آئی ہے جب برطانیہ میں والدین کو خبردار کیا گیا تھاکہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ اپنے لاڈ پیار میں غیر صحت مند خوراک کھانے اور کمپیوٹر گیمز کھیلنے کی اجازت دے کر ان کی جانیں خطرے میں نہ ڈالیں۔سرکاری اعدادوشمار کے مطابق برطانیہ میں ہر چار میں سے ایک بچہ جب اسکول جانے کی عمر کو پہنچتا ہے تو وہ وزن کی زیادتی کا شکار ہوتا ہے اور ہر تین میں سے ایک جب پرائمری پاس کرتا ہے تو اس وقت وہ موٹاپے کے مرض کا شکار ہوچکا ہوتا ہے۔ڈاکٹر ہارڈی کہتی ہیں کہ بچوں میں اسکرین کے سامنے زیادہ وقت گذارنے کے نتیجے میں نہ صرف یہ کہ وہ موٹاپے کا شکار ہوجاتے ہیں یا ان کی صحت خراب ہوجاتی ہے بلکہ اس سے ان کی نشوونما کے اہم ترین وقت کے دوران ان کی ہڈیوں کی مناسب نشوونما بھی نہیں ہوپاتی۔آسٹریلیا میں کیے جانے والے اس مطالعاتی جائزے سے جو امریکی طبی جریدے ’پری ونٹیو میڈیسن‘ میں شائع ہوا، معلوم ہوا کہ جائزے میں شامل 60 فی صد سے زیاد بچے روزانہ دو گھنٹے سے زیادہ وقت ٹیلی ویژن یا کمپیوٹرکی اسکرین کے سامنے گذارا کرتے تھے۔ ان 60 فیصد میں چھ فی صد سے زیادہ بچے روزانہ چھ گھنٹے سے زیادہ وقت چھوٹی ا سکرین کے سامنے بیٹھ کر گذارتے تھے۔
موٹر سائکلوں پر جان لیواکرتب
نئی دہلی کے انڈیا گیٹ سے لے کر پاکستان کی سڑکوں تک ہند-پاک میں موٹرسائیکلوں کے کرتب دکھانا عام سی بات ہوگئی ہے۔جوانی دیوانی ہوتی ہے اور اپنے راستے میں آنے والی کسی رکاوٹ کی پرواہ نہیں کرتی چاہے اسے اپنی جان سے ہی کیوں نہ ہاتھ دھونے پڑجائیں۔ صدیوں سے نوجوان گھڑ سواری میں آگے نکلنے کے ساتھ ساتھ فن و طاقت کا مظاہرہ کرنے کا شوق پالے ہوئے ہیں۔ون ویلنگ آج کے دور کا ایک غمناک المیہ ہے۔پاکستان کی ایک اخباری رپورٹ کے مطابق جشن آزادی، 14 اگست 2009 کے موقع پر ملک کے مختلف شہروں میں موٹرسائیکل کو ایک پہیہ پر چلانے کے باعث ہونے والے حادثات میں 14 افراد ہلاک ہوئے جبکہ ہوائی فائرنگ‘ موٹرسائیکلوں کے ٹکرانے اور سلپ ہونے سے 300 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔جبکہ دیگر علاقوں میں بھی ایک پہیہ پر موٹرسائیکل چلاتے ہوئے 3 افراد ہلاک ہوگئے۔ فیصل آباد میں تیز رفتاری اور ون ویلنگ کرتے ہوئے 4 افراد ہلاک اور 98 زخمی ہوگئے۔ادھر لاہور کے علاقے ماڈل ٹاون میں 17 سالہ نوجوان ایک پہیہ پر موٹرسائیکل چلاتے ہوئے فٹ پاتھ سے ٹکرا گیا اور موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔ گجرات میں بھی ایک نوجوان ون ویلنگ کے باعث ہلاک ہوا۔ سرگودھا میں ایک پہیہ پر موٹرسائیکل چلانے والوں کے خلاف پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 80 نوجوانوں کو گرفتار کرلیا۔علاوہ ازیں کراچی کے مختلف علاقوں میں جشن آزادی کی تقریبات منانے کے دوران ہونے والی ہوائی فائرنگ کے نتیجے میں100 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔63 ویں جشن آزادی کی تقریبات کے موقع پر منچلے نوجوانوں کی جانب سے موٹر سائیکل ریلیاں نکالی گئیں جس کے دوران متعدد مقامات پر ہوائی فائرنگ بھی کی گئی جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت100 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔کراچی میں جشن آزادی کی تقریبات منانے کے دوران نوجوانوں کی جانب سے اہم شاہراہوں اور سڑکوں کو بلاک کرکے رقص بھی کیا گیا جس کے باعث ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوگیا۔آج نوجوان سڑکوں پر گھڑ سواری نہیں کرسکتے البتہ موٹر سائیکل یا بائیسکل سے اپنی تشنگی پورا کرتے ہیں۔ ماضی میں گھڑ سوار جو فن و طاقت کا مظاہرہ کرتے تھے آج کا نوجوان موٹر سائیکل کو اس مقصد کے لئے استعمال کرنا چاہتا ہے۔ نوجوان موٹر سائیکل کو تیز چلانے کے دوران اچانک اگلا پہیہ ہوا میں اٹھا دیتے ہیں اور سارا وزن پچھلے پہیے پر ڈال دیتے ہیں اور اس طرح موٹر سائیکل ایک پہیہ پر چلتی ہے۔اس عمل کو ون ویلنگ کہا جاتا ہے۔ ایک طرف اگر دورے دیکھنے والے یہ منظر بڑا دلربا محسوس ہوتا ہے تو دوسری طرف موٹر سائیکل چلانے والے کو ایک انجانی لذت کا احساس ہوتا ہے جواسے بار بار اس موت و زندگی کا کھیل کھیلنے پر مجبور کرتا ہے۔ ون ویلنگ کرنے والے کو اس کا انجام معلوم نہیں کہ کھیل ہی کھیل میں کیا نقصان ہوسکتا ہے۔ نوجوان ایک دوسرے سے بازی لے جانے کے شوق میں اکثر اپنے ہنستے بستے خاندان کو غمناک المیہ سے دوچار کر جاتے ہیں۔ موٹر سائیکل کا توازن اگر برقرار نہ رہے تو اس کی انتہائی قیمتی جان پلک جھپک میں موت کا شکار ہوجاتی ہے۔حکومت کی طرف سے ۱س موت و زندگی کے کھیل کو روکنے کی کوئی خاطر خواہ کوشش نہیں کی گئی لہذا جب کبھی کوئی تہوار، عید و میلہ کا موقع ہوتا ہے من چلے کوئی بھی موقع اپنے ہاتھ سے جانے نہیں دیتے اور اپنا ون ویلنگ کا شوق ضرور پورا کرتے ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ اس عمل سے نوجوانوں کو کیسے روکا جائے انسانی جان سے زیادہ قیمتی چیز اس دنیا میں کوئی نہیں قوم کے نئے معمار اگر اسی طرح اپنی جانیں گنواتے رہے تو اسکا کون ذمہ دار ہوگا ؟ نوجوان بچے ، والدین یا یہ معاشرہ ، یا قانون نافذ کرنے والے ادارے؟ اس عمل کو روکنے کے لئے ہر فرد کو اپنی سطح پر رہتے ہوئے کوشش کرنی ہوگی۔ متبادل میں بہت سے صحت مند کھیل ایسے بھی ہیں جو نوجوان اپنا کر اپنا شوق پورا کرسکتے ہیں۔ مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ اس موت کے کھیل کو روکنے کیلئے انتہائی سخت اقدامات ہونے چاہیں اور اسطرح کے اقدامات کئے جائیں کہ آئندہ کوئی بھی نوجوان غلطی سے بھی ون ویلنگ کا تصور نہ کر سکے۔ علاوہ ازیں والدین اور دیگر افراد بھی اس کے تدارک کا خاطر خواہ حل کریں کہ ایک صحت مند معاشرہ ہی صحت مند عوامل کا محرک ہوسکتا ہے۔
موبائل فون سے کینسر کے خطرات
عالمی ادارہ صحت نے انتباہ کیا ہے کہ موبائل فون کا استعمال خاص قسم کے برین ٹیومرز یا دماغی رسولیوں کا سبب بن سکتا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے ماہرین نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ موبائل فون کا استعمال کم سے کم کریں۔چودہ ممالک سے تعلق رکھنے والے 31 طبی ماہرین نے حال ہی میں ڈبلیوایچ او کی انٹر نیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر

IARC

 کے ایک اجلاس میں حصہ لیا۔ موبائل فون کے صحت پر رونما ہونے والے ممکنہ مضر اثرات کے بارے میں ہونے والی بحث میں ان طبی ماہرین نے کہا کہ اب تک انہیں جتنے بھی سائنسی شواہد ملے ہیں، ا ±ن سے یہی پتہ چلا ہے کہ موبائل فون ممکنہ طور پر سرطان کی بیماری کا موجب بن سکتا ہے۔اس ضمن میں عالمی ادارہ صحت کی انٹر نیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر کی طرف سے تیار کی گئی کینسر کے ممکنہ خطرات کی حامل اشیاءکی فہرست میں سیسہ یا الیکٹرانک آلات میں استعمال ہونے والا دھاتی کنیکٹر، کلوروفام یا بیہوش کرنے کے لیے استعمال کیا جانے والا بھاری مائع اور کافی شامل تھی۔ اب اس میں موبائل فون کا نام بھی شامل ہو گیا ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ڈبلیو ایچ او کو اب موبائل فون کے بارے میں اپنی گائیڈ لائنز پر نظر ثانی کرنی ہوگی۔ تاہم ماہرین نے کہا ہے کہ ابھی اس بارے میں بہت تفصیلی ریسرچ کی ضرورت ہے۔قبل ازیں عالمی ادارہ صحت نے کہا تھا کہ موبائل فون کے کینسر کے مرض سے تعلق کے بارے میں کوئی جامع ثبوت نہیں ملا ہے۔

IARC

 کے چیئرمین جوناتھن سمٹ نے ایک ٹیلی بریفنگ میں کہا کہ موبائل فون اور کینسر کے عارضے کے مابین تعلق کے بارے میں تمام ضروری شواہد پر دوبارہ غور و خوض کے بعد ایجنسی کے ورکنگ گروپ نے یہ اندازہ لگایا ہے کہ ریڈیو فریکونسی الیکٹرو میگنیٹک فیلڈزممکنہ طور پر انسانوں کے اندر سرطان کا موجب بن سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے شواہد ملے ہیں، جو موبائل فون کے استعمال سے

Glioma

 کے خطرات کی طرف نشاندہی کرتے ہیں۔ یہ ایک خاص قسم کا برین کینسر یا دماغی سرطان ہوتا ہے۔ 1980میں موبائل فون متعارف کرائے جانے کے بعد سے اس کا استعمال بہت تیزی سے بڑھا ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں کم از کم پانچ بلین موبائل فون زیر استعمال ہیں۔ یہ روز مرہ زندگی کا ایک ایسا اہم حصہ بن چکا ہے کہ صنعتی ماہرین کے خیال میں صحت کو لاحق خطرات کے باجود صارفین اس کے استعمال سے باز نہیں آئیں گے۔ موبائل فون کمیونیکیشن کے علاوہ ویب سرفننگ کے لیے بھی بہت زیادہ بروئے کار لایا جانے لگا ہے۔موبائل فون بنانے والی ایک معروف پرائیوٹ کمپنی

Avian Securities

کے ایک تجزیہ نگار میتھیو تھورنٹن کے بقول ’ صارفین کے رویے میں تبدیلی کے لیے قائل کرنے والے ٹھوس دلائل کی ضرورت ہے‘۔ادھر موبائل فون کی صنعت ڈبلیو ایچ او کی اس نئی تحقیق کے اثرات کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ سرطان زدہ اشیاءمیں اور بھی چیزیں شامل ہیں مثلاً سبزیوں کا اچار اور کافی وغیرہ۔امریکہ میں قائم وائرس ایسوسی ایشن

CTIA

 کے پبلک افیئرز شعبے کے نائب صدر جان والز نے تاہم کہا ہے کہ

IARC

 کے بیانات کا یہ مطلب نہیں کہ موبائل فونز کینسر کا باعث بنتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ایجنسی نے اس بارے میں کوئی نئی ریسرچ نہیں کی ہے بلکہ پہلے شائع ہونے والی رپورٹ پر نظر ثانی کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے کہا ہے کہ موبائل فون کے صحت پرمضر اثرات کے بارے میں ٹھوس سائنٹیفک شواہد نہیں پائے جاتے ہیں۔
زیادہ ٹی وی دیکھنا موت کو دعوت دینا
ملک کے دیہاتوں سے لے کر شہروں تک ٹی وی دیکھنے کا رواج دن بدن فروغ پارہا ہے جبکہ ایک امریکی تحقیق کے مطابق ٹی وی کے سامنے زیادہ وقت گزارنے سے دل کی بیماریوں، ذیابیطس اور موت کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ایک امریکی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ جو افراد زیادہ ٹی وی دیکھتے ہیں ان میں ذیا بیطس، عارضہ قلب حتیٰ کے موت تک کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ ہارورڈ اسکول آف پبلک ہیلتھ کی تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ روزانہ محض دو گھنٹے ٹی وی دیکھنے سے بھی صحت پر برا اثر پڑتا ہے۔تحقیقی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکی شہری ہر روز عمومی طور پر پانچ گھنٹے ٹی وی کے سامنے گزارتے ہیںجبکہ آسٹریلوی اور یوروپی باشندے ساڑھے تین سے چار گھنٹے یومیہ ٹی وی دیکھتے ہیں۔تحقیقی کمیٹی کے سربراہ فرانک ہو کا کہنا ہے کہ ان کا پیغام بالکل واضح ہے کہ ٹی وی دیکھنے میں کمی کی جائے تو ذیا بیطس اور دل کی بیماریوں میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ جو لوگ ٹی وی کے سامنے بیٹھے رہتے ہیں وہ نہ صرف یہ کہ کم ورزش کرتے ہیں بلکہ وہ مضر صحت غذا کا استعمال بھی زیادہ کرتے ہیں۔ ان سب چیزوں سے بیماریوں کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔‘یہ اس نوعیت کی پہلی تحقیق نہیں ہے۔ زیادہ ٹی وی دیکھنے، موٹاپے اور فشار خون سے متعلق تحقیقیات بھی وقتاً فوقتاً سامنے آتی رہی ہیں۔مذکورہ تحقیق جرنل آف امیریکن میڈیکل ایسوسی ایشن میں چھپی ہے۔ اس تحقیق کے لیے سات سے دس سال تک دو لاکھ افراد کا مطالعہ کیا گیا۔ اس میں جن افراد کا مطالعہ کیا گیا وہ پہلے سے کسی بیماری کا شکار نہیں تھے۔ تحقیق کے مطابق یہ بات تو درست ہے کہ ٹی وی دیکھنے سے خطرناک بیماریاں جنم لے سکتی ہیں تاہم یہ طے نہیں ہے کہ محض زیادہ ٹی وی دیکھنے ہی سے یہ بیماریاں ہوتی ہیں۔

 
 

Email to:-

 
 
 
 
 
 

© Copyright 2009-20010 www.urdupower.com All Rights Reserved

Copyright © 2010 urdupower.o.com, All rights reserved