اعوذ             باالله من             الشيطن             الرجيم                بسم الله             الرحمن             الرحيم                الحمد لله              رب             العالمين .             الرحمن             الرحيم . ملك             يوم الدين .             اياك نعبد و             اياك             نستعين .             اهدناالصراط             المستقيم .             صراط الذين             انعمت             عليهم '             غيرالمغضوب             عليهم             ولاالضالين

WWW.URDUPOWER.COM-POWER OF THE TRUTH..E-mail:JAWWAB@GMAIL.COM     Tel:1-514-970-3200 / 0333-832-3200       Fax:1-240-736-4309

                    

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

Telephone:-9320884970

Email:-

کالم نگار کے مرکزی صفحہ پر جانے کے لیے کلک کریں

تاریخ اشاعت:۔2011-06-14

مجھے یاد ہے! وہ ذرا ذرا!
کالم ۔۔۔۔۔۔۔ خالد احمد
ایک تھا بادشاہ! گھر سے میدانِ جنگ اور میدانِ جنگ سے محل تک اور پھر محل سے تخت تک پہنچتے پہنچتے اور اُس کے بعد لرزہ براندام تخت کے پائے مستحکم کرتے کرتے، ایک آنکھ اور ایک ٹانگ سے محروم ہو چکا تھا! اُس کے رُعب اور دبدبے اور سلطنت میں امن و آشتی کے بحال ہوتے ہی اُس کا دربار بھی اہلِ علم اور اہلِ فن کی ’پناہ گاہ‘ بن گیا! ایک دن اُس کے جی میں نجانے کیا آئی کہ اُس نے مصوروں کے درباری ٹولے سے بادشاہ کے شایانِ شان ایک ’خوبصورت سی تصویر‘ بنانے کی فرمائش کر دی! تمام مصور ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر رہ گئے! البتہ ایک نوجوان مصور نے ’ہامی‘ بھر لی! تصویر کی نقاب کشائی بادشاہ سلامت نے اپنے مبارک ہاتھوں سے آپ فرمائی اور تصویر کے سامنے کھڑے کے کھڑے رہ گئے! تصویر میں وہ جھاڑیوں کے پیچھے کھڑے ایک گھٹنا ایک پتھر پر ٹکائے، تیر کمان پر چڑھائے ایک آنکھ بند کئے اور دوسری نیلی نیلی چمکیلی چمکیلی آنکھ ہدف پر جمائے تیر چھوڑنے ہی والے تھے! ہر کوئی بادشاہ اور ’بادشاہ کی تصویر‘ کی طرف دیکھ رہا تھا، تصویر اُس کی ’قوت کی تصویر‘ تھی، کاش کوئی اُٹھے اور ’ہماری خامیوں‘ کی جگہ ہماری ’قوت‘ ہماری ’درپردہ قوتوں‘ کی تصویرکشی کرے اور ہمیں ہمارے ہونے کا احساس دلا سکے!
لاہور کے گلی کوچوں سے ایک آواز اُبھری اور ’کو بکو‘، ’قریہ بہ قریہ‘ گونجتے گونجتے اسلام آباد پہنچ گئی! ’جوہری دھماکوں‘ کی ’زلزلہ آگیں‘ گڑگڑاہٹ نے ہمیں ہمارے ’ہونے‘ کی خبر دی تو ایک اشارے پر یہ گڑگڑاہٹ ’معدوم‘ ہو گئی اور ’آواز‘ جلاوطن ٹھہر گئی! ’ہمارا بہت کچھ دا ¶ پر لگا ہے! پاکستان کو اس کا خیال رکھنا پڑے گا!‘ لنڈسے گراہم کراہے تو جان مکین نے جارج بش کی طرح للکارا ’پاکستانی فوج کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ ہمارے ساتھ ہے یا ہمارے دشمنوں کے ساتھ ہے!‘ جناب جان مکین نے افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا غیرضروری قرار دیتے ہوئے فرمایا ’ہم افغانستان میں حاصل ہونے والے فوائد سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے!‘ حالانکہ افغانستان کی جنگ میں امریکہ کے ہاتھ بھی وہی فوائد لگے جن فوائد کے ساتھ وہاں سے آخری سوویت سپاہی رُخصت ہوا تھا!‘ افغانستان کے ایک دہشت گرد گروپ نے افغان صوبے ارزگان میں زیرتعمیر چیک پوسٹ پر کارفرما 18 پاکستانی محنت کش نوجوان شہید کر دئیے! کسبِ حلال کے دوران مارے جانے والے یہ شہدا پاکستان میں سپردِخاک کئے جا رہے ہیں گذشتہ روز نوشہرہ سے تعلق رکھنے والے تین افراد اُن کے آبائی گا ¶ں میں سپردِخاک کر دئیے گئے!
لاہور کی گلیوں میں ایک بار پھر ایک درویش صدا لگاتا سنا گیا ’دھوکے کی سیاست کا دَور لد گیا! اتحاد، عظیم تر اتحاد! وقت کی پکار ہے!‘ ایک بار پھر اس فغانِ درویش کی گونج اسلام آباد تک سنائی دی اور ہمارے پیر سائیں ایک بار پھر جلال میں آ گئے ’نواز شریف عام انتخابات کی تیاری کریں! بلدیاتی انتخابات سے رُوگردانی کرکے اُنہیں کوئی فائدہ نہیں ہونے کا!‘ صوبائی حکومتیں ابھی تک فیصلہ نہیں کر پائیں کہ بلدیاتی اداروں کا دائرہ کار ’اٹھارویں ترمیم متعین کرے گی‘ یا، ’صوبائی خودمختاری کے تحت اُس کا دائرہ کار ہر صوبائی حکومت خود طے کرے گی؟‘ جبکہ چاروں صوبائی حکومتیں بلدیاتی اداروں کو ’بنیادی سہولتوں کی فراہمی‘ کے ذمہ دار مقامی اداروں کے طور پر کارفرما دیکھنا چاہتی ہیں اور ملک میں موجود ’بدانتظامی‘ کا حل ’کمشنریٹ‘ کے تحت کارفرما افسران کے ذریعے دور کرنا چاہتی ہیں! مگر ایم کیو ایم جنرل پرویز مشرف کے دئیے ہوئے پروگرام پر عمل پیرا رہنا چاہتی ہے! لیکن کسی ایک طرف ہو جانے کا فیصلہ کرنے سے ہر کوئی ہچکچا رہا ہے!
بجلی کے بحران پر ہاہا کار مچانے والوں پر پولیس فائرنگ سے ایک فرد ہلاک اور چار زخمی ہو گئے! .... بجلی کے بحران سے گزرتی قوم کے سامنے یہ ’احتجاج‘ اور اس ’احتجاجی جلوس‘ پر فائرنگ کا مظاہرہ! کیوں؟ اور کس بابت؟ کیا ہم لوگ سُدھرنے کے نہیں؟ یا، جناب شہباز شریف کے برطانیہ پہنچتے ہی ’پنجاب حکومت‘ ’چھٹی‘ پر چلی گئی! پانی سڑکوں پر ٹھاٹھیں مارتا رہا مگر اس کے نکاس کے ’ذمہ دار‘ کسی پوچھ گچھ کے ڈر سے آزاد پانی میں جیپیں دوڑاتے اور پانی اُچھالتے رہ گئے!
’وفاقی چھٹی‘ پر ’صوبائی وزیر‘ ایک بار پھر میڈیا کے گھیرے میں آ گئے تو اُنہوں نے فرمایا ’مجھے چھٹی پر بھجوانے والے خود ’چھٹی‘ کر گئے!‘ اور پھر ارشاد فرمایا ’اگر ڈنڈے چلانے کا حکم ملاتو بجا لا ¶ں گا!‘ تمام لوگ ڈنڈے بجا رہے ہوں تو چوہے بھی تھوڑی دیر بعد اس ’ہنگامے‘ کے ساتھ سمجھوتہ کر لیتے ہیں اور کونوں کھدروں سے نکل کر ’معمولاتِ زندگی‘ میں گُھل مل جاتے ہیں! کوئی گندم کی بوری کتر رہا ہوتا ہے، کوئی تیل کی بوتل میں دُم بھگو کر اپنے چہیتے بچے کی پرورش میں مشغول ہو جاتا ہے اور ڈنڈے بجتے، گولیاں چلتی اور لاشیں گرتی چلی جاتی ہیں۔ کراچی کو ’بیروت‘ بنانے کا منصوبہ ابھی تک ترک نہیں ہوا، حکیم محمد سعید شہید سابق گورنر سندھ کے طور پر بار بار یہ بات دہراتے رہے کہ وہ ہمارے ’سروں‘ سے فٹ بال کھیلنے کا پروگرام بنائے بیٹھے ہیں! بھارتی بنیا ابھی تک نہیں جان سکا کہ وہ ’دوستی‘ کرکے ہمیں رام کر سکتا تھا اور وہ ’وقت‘ وہ گنوا چکا ہے! اب ہم بھی اُس کے ’اصل چہرے‘ سے واقف ہو چکے ہیں اور پوری دنیا بھی! ہم نے جس دن اپنی تصویروں کی جگہ اپنی ’دَر پردہ قوتوں کی تصویریں‘ بنانا شروع کر دیں، اُس دن دُنیا ہمارے ساتھ ہو گی اور بھارت ’یکہ و تنہا‘ ہو گا! ابھی اُس نے اپنی ایک غلطی تسلیم کی ہے! اگر اُس نے ماضی پر نگاہ دوڑانے کی غلطی کر لی تو اُسے معلوم ہو گا کہ اُس کا ماضی ’سیاسی غلطیوں‘ سے عبارت ہے! اور یہ ’عبارت‘ جگہ جگہ سے ’کرم خوردہ‘ بھی ہے اور ’آب خوردہ‘ بھی اگر وہ یہ ’مخطوطہ‘ ہم سے پڑھوائیں تو ہم تمام معاملات کے حافظ ہونے کے ناتے اسے بہتر طور پر ’تدوین‘ اور ’ترتیب‘ کے مراحل سے گزار سکتے ہیں! ع
تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو!
 
 

Email to:-

 
 
 
 
 
 

© Copyright 2009-20010 www.urdupower.com All Rights Reserved

Copyright © 2010 urdupower.o.com, All rights reserved