|
چمگادر
ایک ایسا جاندار ہے جس کو نہ جانور کہا جا سکتا ہے اور نہ پرندہ ایک
دفعہ جنگل میں تمام جانوروں اور پرندوں کی میٹنگ ہو رہی تھی اس میں
چمگادر بھی تھا سب اپنے اپنے بیانات دے رہے تھے ،چمگادر بھی اپنے بیان
دیتا اس کے بیان ایسے ہوتے کہ کسی کی سمجھ میں نہ آتے کہ اس نے کس کی
حمایت میں بیان دیا ہے اس نے کس کی حمایت کی ہے ،اس بات کو کلیئر کرنے
کے لئے جب اس سے پوچھا جاتا کہ آپ نے یہ بات کی ہے اس کا کیا مطلب ہے
تو وہ حالت اور سوال کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے کہتا کہ میں نے یہ بیان
جانوروں کے حق میں دیا تھا کیونکہ میرا تعلق جانوروں سے ہے ،مگر وہی
سوال جب کوئی دوسرا اس سے پوچھتا کہ آپ نے یہ بیان کس کے حق میں دیا
تھا اس کی سمجھ نہیں آئی تو وہ کہتا کہ میں نے یہ بیان پرندوں کے حق
میں دیا تھا کیونکہ میرا تعلق پرندوں کے گروپ سے ہے،اس طرح وہ اپنی
دشمنی سے بچ جاتا اور اس پر تپصرہ کرنے والے کبھی اس کی بات کو جانوروں
کے گروپ میں لے جاتے اور کبھی اسے پرندوں کے حق میں ۔
ایسی ہی کچھ صورت حال آج کل ہمارے ملک کی سیاست کی بھی ہے سیاسی
پارٹیاں تو دور کی بات ہمارے ملک کے سربراہ کی تقریر سنیے اور پھر اس
پر آنے والے جوابات کو بھی ملاخطہ کیجئے،پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ
اور صدر پاکستان نے نوڈیروں میں بےنظیر بھٹو کی دوسری برسی کے موقع پر
خطاب کرتے ہوئے ،دھمکی آمیز لہجے میں کہا کہ میرے لئے دو ہی جگہ ہیں
جیل یا پریزڈنٹ ھاوس،ہم کسی سے نہیں ڈرتے، جمہوریت کی طرف جو میلی آنکھ
دیکھے گا اس کی آنکھیں نکال دے گے ،یہ تقریر تھوڑی اور دھمکیا زیادہ
تھی،اس ملک کی عوام کو تاریخ میں پہلی دفعہ ایک ایسی حکومت ملی ہے جس
کا کام عوام کی ٹانگیں توڑنا،ہاتھ کاٹنا،آنکھیں نکالینا ہے ،اس سے پہلے
تو جب کبھی ملک کا کوئی سربراہ تقریر کرنے آتا تھا تو عوام کے کان کھڑے
ہو جاتے تھے کہ اب کوئی عوام کے ریلیف کی بات ہوگی ،اب کوئی عوام کی
سہولت کی بات ہوگی ،اب کوئی مسائل کے حل کرنے کی بات ہوگی مگر یہ پہلی
بار ہو رہا ہے کہ جب بھی اس ملک کی عوام کے نمائندے بات کرتے ہیں تو وہ
دھمکیوں کی بات کرتے ہیں،اب سوچنے والی بات یہ ہے کہ ایک بر سر اقتدار
پارٹی جس کے پاس طاقت بھی ہے جس کے پاس اختیار بھی ہے جس کے پاس دولت
بھی ہے ،جس کے پاس کنٹرول بھی ہے وہ یہ کہتی ہے کہ ہمارے خلاف سازش ہو
رہی ہے ،ہمیں کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ،ہمیں گرانے کی بات ہو
رہی ہے انہوں نے کم از کم 38بار لفظ بے قصور کا استعمال کیا وہ اپنے آپ
کو مظلوم ظاہر کر رہے تھے ان کی یہ تقریر بھی اپنی روائتی تقایر کی طرح
بہت سے سوال پیدا کرتی ہے کہ ایسی کون سی ان دیکھی طاقت ہے جو یہ سب
کچھ کر رہی ہے جس کا مقابلہ یہ حکومت نہیں کر سکتی جو ہاتھ کاٹ سکتی ہے
،جو ٹانگیں توڑ سکتی ہے ،جوآنکھیں نکال سکتی ہے مگر اپنے خلاف ہونے
والی سازش کا مقابلہ نہیں کر سکتی ،واہ کیا اختیار ہے اور کیا طاقت ہے،
اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کسی ڈوبتی کشتی کے سوار ہیں اس ڈوبتی
کشتی کے سوار وں نے اپنی کشتی میںخود ہی سراغ کر دہیے ہیں مگر وہ یہ
الزام کسی اور پر لگا رہے ہیں،چلوں اس بات کو بول جاتے ہیں کہ یہ تقریر
کسی ملک کے صدر کی تھی اس کو ایک پارٹی کے سربرای کی تقریر کہہ دیتے
ہیں مگر سوال پھر بھی پیدا ہوتا ہے کہ دو سال ہوگئے ان کو ابھی تک اپنی
پارٹی کے قائد کا قاتل نہیں ملا ،یہ کبھی یہ کہتے ہیں کہ ہمیں پتہ ہے
کہ قاتل کون ہے ،کبھی یہ کہتے ہیں کہ ہم نے تلاش جاری رکھی ہوئی ہے ،کھبی
یہ کہتے ہیں کہ ہم جلد بے نقاب کرے گے ،اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ
سندھ کارڈ کی طرح یہ قتل بھی ایک کارڈ ہے جو با وقت ضرورت استعمال کیا
جاتا ہے،مگر کب تک یہ کارڈ کھلیں جائیں گے ؟؟؟۔ جب ان کے سپوک پرسن سے
یہ سوال کیا جاتا ہے کہ وہ تو اس ملک کے سربراہ ہیں ان کو ایسی تقریر
نہیں کرنی چاہئے تو اس کا جواب آتا ہے کہ وہ پیپلز پارٹی کے کو چیرپرسن
ہیں اس لئے انہوں نے ایسی بات کی ،جب ان کے سپوک پرسن سے پوچھا جاتا ہے
کہ انہوں نے اس تقریر کا انتخاب اسی موقع پر ہی کیوں کیا تو اس کا جواب
آتا ہے کہ وہ اس ملک کی عوام کے سربراہ ہیں اس لئے انہوں نے ایسا کیا
اب یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ وہ اصل میں ہیں کیا اور ان کی کس بات کا
یقین کیا جائے۔
یہ موجودہ حکومت کی عجیب چال ہے کہ کوئی اور بات کرے تو مجرم اور اگر
کوئی ان کا نمائندہ بات کرے تو جذبات ہیں کی بات کر کے ٹال دیا جاتا ہے
مگر ان کہ اہلکار جب بھی بولتے ہیں تو اپنی ہی باشا بولتے ہیں جو کسی
کی سمجھ میں نہیں آتا، سندھ پیپلز پارٹی کے سربراہ ذولفقار مرزہ نے کہا
کہ اگر آصف زرداری پاکستان کھپے کا نعرہ نہ لگاتے تو ہم پاکستان نہ
کھپے کا نعرہ لگا دیتے،واہ کیا خوب بات کی ار کیا سوچ پائی کہ ایک طرف
محب وطن ہونے کہ قصیدے پڑھے جا رہے ہیں ایک طرف اس ملک پر حکمرانی کرنے
کے اربوں کھربوں کی دولت لوٹی جا رہی ہے ،ایک طرف اس ملک پر حکمرانی کر
کے عوام پر بد معاشی کی جا رہی ہے اور دوسری طرف اس ملک کو توڑنے کی
بات بڑے فخر سے کی جاتی ہے ،اس ملک کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی بات کی جاتی
ہے ،یہ کیسے لوگ ہیں یہ کیسے سربراہ ہیں کہ اسی برتن میں کھاتے ہیں اور
پھر اسی کو توڑ کر کیک مار دیتے ہیں ،اگر کوئی دوسرا شخص اس ملک کے کسی
ادارے کے خلاف بات کر لے تو اسے پر غداری لا لیبل لگا کر اسے سزا دی
جاتی ہے مگر جو ملک توڑنے کی بات بڑے فخر سے کرتے ہیںان کو ملک کا ہیرو
کہا جاتا ہے یہ ایسے ہیرو ہیں ،لگتا یہ ہے کہ یہ بات کہنے والے کا منہ
تو اپنا تھا مگر اس کے الفاظ اپنے نہیں تھے اس کے پیچھے کوئی اور بول
رہا تھا، یہاں ان لوگوں کے خلاف بات کرنے والے کو غدار کہا جاتا ہے ،بولنے
والے کو غدار کہا جاتا ہے ،مگر ملک کو توڑنے کی بات فخر سے کرنے والے
کو تحفط دیا جاتا ہے اس کوبہادر بنا کر پیش کیا جاتا ہے، ان دھمکی سے
ڈرانے والوں سے کوئی یہ کہئے کہ یہ اس ملک کی مہربانی ہی ہے کہ اس نے
آپ جیسے مطلب پرست کو اپنا لیڈر بنا رکھا ہے جس نے اس ملک کی خاطر جان
دی خون دیا وہ آج بھی غلامی کی زندگی گزار رہے ہیں،۔
اس کے برعکس میڈیا میں اگر کوئی ان کے خلاف بات کر لے تو اس پر غداری
کا مقدمہ درج ہو جاتا ہے ،اس پر پابندی لگا دی جاتی ہے ،یہ کہا جاتا ہے
کہ یہ عوام میں انتشار پیدا کر رہا ہے مگر ان کو اپنے وہ بیانات سنائی
نہیں دیتے جن سے نہ صرف بغاوت کی بو آتی ہے بلکہ ان سے غداری کی کونج
بھی سنائی دیتی ہیں ،ایک طرف یہ کہنا کہ ہم کسی جرنیل کی گود میں بیٹھ
کر نہیں آئے اور ایک طرف یہ کہنا کہ ہم نے کسی ادارے کی بات نہیں کی ،ایک
طرف یہ کہنا کہ ہم نے عدلیہ کا احترام کیا اور دوسری طرف اس کے فیصلے
کو اپنے خلاف سازش قرار دینا ،حکومت کی یہ گاڑی جس طرف جا رہی ہے اس سے
تو صاف یہ اندازہ ہوتا ہے کہ کوئی اس کے خلاف کچھ کرے نہ کرے ،کوئی اس
کو کمزور کرے یا نہ کرے یہ اپنے آپ کو خود کمزور کر رہی ہے ،یہ اپنے
پاوں خود کاٹ رہی ہیں ،عوام میں اس کی ساکھ کوئی اور نہیں یہ خود خراب
کر رہی ہے ،اپنا نقصان خود کرنے والا اگر سمجھ نہ سکے تو کیا کیا جا
سکتا ہے،ان کو بچانے کے لئے کوئی کب تک ان کی مدد کرتا رہے گا۔
|