اعوذ             باالله من             الشيطن             الرجيم                بسم الله             الرحمن             الرحيم                الحمد لله              رب             العالمين .             الرحمن             الرحيم . ملك             يوم الدين .             اياك نعبد و             اياك             نستعين .             اهدناالصراط             المستقيم .             صراط الذين             انعمت             عليهم '             غيرالمغضوب             عليهم             ولاالضالين

WWW.URDUPOWER.COM-POWER OF THE TRUTH..E-mail:JAWWAB@GMAIL.COM     Tel:1-514-250-3200 / 0333-585-2143       Fax:1-240-736-4309

                    

 
 

Email:-raufamir.kotaddu@gmail.com 

Telephone:-       

 

تاریخ اشاعت01-02-2009

 مظالم کا نوحہ امریکہ سے اسرائیل تک

روف عامر پپا بریار

حال ہی میں اوبامہ کا یہ بیان نظر سے گزرا کہ امریکہ قیام امن کے لئے اپنا جاندار کردار انجام دیتا رہے گا۔امریکہ سمیت یورپی ریاستیں روزانہ ایسی پھلجھڑیاں چھوڑتی رہتی ہیں مگر سچ تو یہ ہے کہ حقوق انسانی کے حق میں اودہم مچانے والا مغرب اسرائیل و امریکہ نہ صرف انسانیت کے سنگ دل قاتل ہیں بلکہ یہی دنیا کے سکون کو خون امن کو جنگ و جدال شانتی کو وحشت و بریت میں بدلنے کے مجرمان ہیں۔امریکہ کی سرداری میں مغربی حکمرانوں نے دنیا میں ظلم کا بازار گرم کررکھا ہے۔ عراق و افغان میں جاری خون ریزی کے المناک سانحے کوئی نودوگیارہ کے بعد وجود نہیں ائے بلکہ یہ مشرقانہ کھیل صدیوں سے جاری ہے۔تاریخ کے چند اوراق پر نظر دوڑانے کے بعد ہمیں ان گورے نوٹنکیوں کے اصل چہرے کو دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ مسلم امہ میں پھیلی ہوئی افراتفری خون ریزی اور لاقانونیت کے زمہ دار بھی امریکہ اور اسکے یورپی پٹھو ہیں۔یہ گروہ نہیں چاہتے کہ مسلمان یک جان ہوجائیں کیونکہ اگر ایسا ہوگیا تو پھر یہود و ہنود کو سر چھپانے کی جگہ تک میسر نہ ہوگی۔1950 کی دہائی جنوبی و شمالی کوریا اور چین کے لئے موت کا پیغام ثابت ہوئی۔شمالی و جنوبی کوریا کی جنگ میں 20 لاکھ کوریائی باشندے اور 2 لاکھ چینی موت کا لال کفن پہن کر عدم راہی ہوئے۔ اکثر ہلاکتیں امریکی فوجیوں کا کارنامہ ہیں جو شمالی کوریا کے حملے کو روکنے کے لئے جنگ میں کود پڑیں۔وائٹ ہاوس نے1964 میں اپنی تینوں فورسز کو ویت نام پر چڑھا دیا۔امریکہ نے دو من گھڑت الزامات کی آڑ لیکر ویت نام کو تختہ مشق بنایا۔ امریکی دشنام تھا کہ حکمران ایک طرف شمالی ویت نام میں دہشت گردی کو پروان چڑھا رہے ہیں تودوسری طرف امریکہ کے سمندری جہازوں پر حملوں کو ویت نامیوں کے سر تھوپ کر جارہیت کا جواز تراش لیا۔ویت نامی جنگ میں 20 لاکھ ویت نامی شہری ہلاک ہوئے جبکہ اتنی ہی تعداد میں فوجی مارے گئے۔امریکہ نے عراق کے مصلوب صدر صدام حسین کو تھپکی دے کہ وہ ایران پر حملہ کردے۔امریکہ اور مغرب نے صدام کو جدید ترین اسلحہ اور ڈالروں کی بوریاں دیں۔عراق ایران جنگ میں22 لاکھ عراقی ایرانی شہری اور فوجی لقمہ اجل بن گئے۔امریکہ کی سابق وزیرخارجہ میڈم البرائیٹ اپنی خود نوشت میں رقمطراز ہیں کہ میں نے صدام نے ملاقات کی اور امریکی انتظامیہ کا یہ پیغام پہنچایا کہ اگر عراق کویت پر حملہ کرے گا تو انہیں کوئی اعتراض نہیں۔امریکیوں نے صدام حسین کو جھانسہ دیکر پھانس لیا۔عراق نے کویت پر قبضہ کرلیا۔امریکہ کو خلیج میں اپنے پاوں جمانے کے لئے اسی نادر لمحے کا انتظار تھا۔امریکہ اپنے وعدے دے مکر گیا اور کویت میں فوجیں اتار کر پہلی خلیجی جنگ کا اغاز کیا۔کویت ازاد ہوگیا مگر جنگ کا سارا خرچہ کویت نے ادا کیا۔امریکہ نے ٹوئن ٹاور کی تباہی اور صدام حسین کے جراثیمی ہتھیاروں کا ناٹک دکھا کر بغداد و کابل کو ہولناک میزائلوں گولے بارود سے ملیامیٹ کردیا۔بیس لاکھ عراقی اور پانچ لاکھ افغانی ان امریکی مہم جوئیوں کے جوف جہنم کا ایندھن بن گئے۔یہ لڑائی تاحال جاری ہے مگر اتنا لمبا عرصہ گزرجانے کے باوجود امریکہ القاعدہ کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا اور عراق کے طول و عرض میں کیمیائی ہتھیاروں کا کوئی سرا سامنے نہیں ایا۔اب امریکہ کی نظریں سوڈان یمن اور ایران پر اٹکی ہوئی ہیں کیونکہ تینوں ملک تیل و گیس کے لامحدود خزانوں کے مالک ہیں۔ایران کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لئے ہے مگر امریکہ و یورپ اعتبار کرنے پر راضی نہیں۔مغربی میڈیا ایران کے خلاف زہر اگل رہا ہے۔unoمیں انگلش سفیرmark grant نے کہا کہ اگر ایران نے عالمی برادری کی اپیل پر جوہری پروگرام کے پرامن ہونے کے ثبوت نہ دئیے تو پھر مذید پابندیاں عائد کی جائیں گی۔یواین او میں فرنچ سفارت کار کیراڈا راوڈ نے اپنے تعصب کو یوں بیان کیا کہ تہران اقوام عالم کی اواز پر لبیک کہے ورنہ فرانس سلامتی کونسل کے اجلاس میں تہران کے خلاف ووٹ دیگا۔ امریکن سفیر سوسان نے اپنے من کا بوجھ ہلکا کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری عزم کرے وہ ایران کو اپنے مطالبات منوانے پر مجبور کردے گی۔امریکی جنرل ڈیوڈ پیٹر یاس نے cnn کو انٹرویو دیا کہ امریکہ و اسرائیل ملکر ایران پر ہلہ بول دیں گے۔اسرائیل اور امریکہ کی مشترکہ مشقیں جاری ہیں۔ایران پر حملے کے جواز کے لئے فریب کاری سے کام لیا جارہا ہے۔یوں یہ حقیقت الم نشرح ہے کہ امریکہ کذب بیانی اور بناوٹی الزامات کی اڑ میں مخالف ملکوں پر چڑھائی کا جواز خود گھڑ لیتا ہے۔امریکہ کی طرح اسرائیل بھی انسانیت کے منہ پر خون ناحق کی لالی ملنے اور جبر و استبداد کرنے خون بہانے ظلم و تعدی کے میدان میں امریکہ سے کم نہیں۔الجزیرہ اخبار نے رپورٹ شائع کی ہے کہciaاور موسادنے مغربی کنارے پر نجی جیلیں و عقوبت خانے قائم کررکھے ہیں جہاں حماس کے کارکنوں پر بدترین تشدد کیا جاتا ہے۔گارڈین نے تصدیق کرتے ہوئے لکھا ہے کہ عقوبت خانوں میں ایک ماہ کے دوران حماس کے تین رجال کاروں کو ہلاک کیا گیا فلسطین میں حقوق انسانی کے لئے نادر خدمات انجام دینے والے شوان جبران نے گارڈین کو بتایا کہcia اسرائیلی بندی خانوں میں حماس پر توڑے جانیوالے چنگیزی مظالم سے اگاہ ہے مگر وہ خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔المیہ تو یہ بھی ہے کہ یاسر عرفات کی الفتح اسرائیل کا ساتھ دے رہی ہے۔امریکہ و اسرائیل کی کوشش ہے کہ وہ فلسطینیوں کو گروہوں میں تقسیم کردیں تاکہ وہ اپس میں لڑتے رہیں۔cia کو فلسطین میں یہ ٹاسک دیا گیا ہے کہ حماس کو کچل دیا جائے اور الفتح کو مذید مضبوط کیا جائے۔موساد اور cia الفتح کے غداروں کو ٹرینگ دی ہے۔دسمبر2009 میں گارڈین نے cia link to phalestine شائع کی تھی کہ سی ائی اے حماس کو تہہ خاک بنانے کے لئے الفتح کو فوجی ٹرینگ دے رہی ہے اوcia اپنے عقوبت خانوں میں ظلمت ڈھارہی ہے۔ مسلمان افریقہ سے لیکر ایشیا تک اور برطانیہ سے لیکر عرب خطے تک زوال پزیر ہیں۔امہ کا اتحاد پارہ پارہ ہوچکا۔بے گناہ مسلمانوں کے خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں۔کوئی ظالموں کا ہاتھ روکنے پر تیار نہیں۔ایسی زلت امیز صورتحال کے باوجود مسلم حکمران خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ مسلم دنیا کو بیدار ہونا چاہے کہیں ایسا نہ ہو کہ امہ کے ورثا ٹامک ٹوئیاں مارتے رہیں اور امریکی و یہودی کسی تیسرے مسلمان ملک پر حملہ کردیں۔
 

 

E-mail: Jawwab@gmail.com

Advertise

Privacy Policy

Guest book

Contact us Feedback Disclaimer Terms of Usage Our Team