|
برطانیہ
میں سابق وزیراعظم ٹونی بلیر کو امریکہ کے
سابق صدر بش کے ساتھ ملکر بغدا و کابل پر قبضہ
کرنے اور پھر برطانوی فوجیوں کی پے درپے
ہلاکتوں پر عوامی غیض و غضب کا سامنا کرنا پڑا
۔ابتدا میں یورپی باشندوں کا احتجاج نحیف تھا
کیونکہ صہیونیت کے سرمائے کی چھتر چھاوں تلے
صف بستہ مغربی میڈیا نے زہریلے پراپگنڈے کا
سہارا لیکر القاعدہ اور طالبان کے خلاف جھوٹی
خانہ استعجاب خیز کہانیوں کی بھر مار سے مغربی
لوگوں کے دلوںپر خوف کے سائے مسلط کررکھے تھے۔
جوں جوں عراق و افغان جنگ کے حقائق منکشف ہونے
لگے تو برطانویوں نے جنگ اور بلیر کے خلاف
احتجاجوں اور ریلیوں کے ریکارڈ قائم
کرڈالے۔برطانیوں کا غم و غصہ ہی ٹونی بلیر کی
10 ڈاوئنگ سٹریٹ سے بیدخلی کا سبب بن گیا۔
کابل و عراق میں 20لاکھ سے زائد معصوم
مسلمانوں کو بش و بلیر کی بھڑکائی گئی اگ نے
جلا کر بھسم کردیا۔ دونوں بد نصیب ملکوں میں
انسانوں پر جبر و الم کے ایسے گھناوئنے پہاڑ
ڈھائے گئے کہ خود انسانیت ہی شرمانے
لگی۔برطانیہ میں ہزاروں باضمیر انسان ٹونی
بلیر کو انصاف کے کٹہرے میں لانے اور لاکھوں
لوگوں کو ہلاک کرنے کے جرم میں زمہ داران کو
سنگین سزائیں دلوانے کے لئے صف ارا ہوچکے ہیں۔
شرف ادمیت کے بہی خواہوں میں ایک نام لندن کے
سماجی و سیاسی رہنماGEORGE MOON BELT ہے جنہوں
نے ٹونی بلیر کو جنگی ملزم ڈیکلیر کروانے کے
لئے انٹرنیٹ پر عطیات جمع کرنے کی مہم پورے
خشوع و خضوع سے کرررکھی ہے۔ جارج مون کی اپیل
پر جنوری کے مہینے میں دس ہزار پاونڈ جمع
ہوچکے ہیں۔جارج نے میڈیا کو بتایا کہ معصوم
عراقیوں کے قتل انبوہ کو فراموش نہیں کیا
جاسکتا ۔انہوں نے اقوام عالم اور برطانوی
حکومت سے اپیل کی کہ ٹونی بلیر کے دوروں پر
ایک طرف پابندی عائد کردیں تو دوسری جانب نوٹی
بلیر کو جنگی ملزم نامزد کرکے عالمی عدالت
انصاف کے حوالے کردیا جائے تاکہ انصاف کے
تقاضے کے پورے ہوجائیں۔ٹونی بلیر کو سزا دینے
کے عوامی مطالبے پر انگلش وزیراعظم گورڈن
براون نے تحقیقاتی کمیشن قائم کیا تھا۔ کمیشن
کے اراکین نے15 جون2009 کو گورڈن براون کی
ہدایت پر یہ انکوائری شروع کی تھی کہ کیا عراق
جنگ میں برطانوی فوج کی شمولیت کا حکومتی
فیصلہ غلط تھا یا درست؟ کمیشن میں پریوی کونسل
کے نمائندگان بھی شامل ہیں۔تحقیقاتی کمیشن
کوchilkot inquiryکا نام دیا گیا تاہم
انکوائری رپورٹ کا اعلان برطا نوی انتخابات
منعقدہ3 جون2010 کے بعد کیا جائیگا۔جارج مون
اور ساتھیوں نے انکوائری کمیٹی پر عدم اعتماد
کرتے ہوئے کہا کہ عراق جنگ سیاسی ایشو نہیں ہے
بلکہ اسکی نوعیت مجرمانہ ہے۔یوں اس جنگ میں
ٹونی بلیر کے علاوہ جتنے لوگ ملوث ہیں انہیں
سزا ملنی چاہیے اور ملزموں کے گلے میں نیور
مبرگ ٹریبونل کی طرز پر مقدمے کا شکنجہ کسا
جائے۔ جارج اور ساتھیوں نے انکوائری کمیشن کی
تفتیش پر خدشات اٹھائے ہیں۔انکا خیال ہے کہ
کمیشن میں حکومتی افراد شامل ہیں اور وہ کسی
صورت میں حکومتی گائیڈلائن اور لائحہ عمل کو
مسترد نہیں کرسکتے۔ایسا ہی خدشہ ٹریبونل میں
شامل جج نے ظاہر کیا کہ حکومت چاہتی ہے کہ جنگ
کا فیصلہ درست تھا اسی لئے اسکا جواز بھی
موجود تھا۔گورڈن براون کے حکومتی وزرا اور
مشیر کہتے ہیں کہ عراق جنگ قانونی تھی۔اپوزیشن
ارکان بھی بادل ناخواستہ حکومتی نقطہ نظر کی
حمایت کر تے رہتے ہیں کیونکہ اپوزیشن نے بھی
جنگ کی حمایت میں ووٹ کاسٹ تھا۔ برطانوی میڈیا
میں یہ سوال گردش کررہا ہے کہ کوئی یہ بتائے
ایا عراق جنگ قانونی تھی یہ نہیں؟ جارج مون
کہتے ہیں کہ اراکین اس جانب نہیں اتے کیونکہ
انہیں ان سوال کا جواب معلوم ہے مگر دوسروں کو
نہیں روکا جاسکتا۔حکومت اور اپوزیشن تو اس
معاملے کو دبانے کے چکر میں ہے تاہم سول
سوسائٹی کو تو اواز حق بلند کرنے سے نہیں روکا
جاسکتا۔ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس لارڈ
سٹین کی سربراہی میں جنوری کے اوائل میںاسی
سوال کا جواب رتلاش کر نے کے لئے ڈچ انکوائری
کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس نے رپورٹ جاری کہ
کہ جنگ کو بین الاقوامی قوانین کی رو سے جواز
حاصل نہ تھا اور عراق کے متعلق پاس کی
جانیوالی uno کی قرارداد غیرقانونی تھی۔سابق
چیف جسٹس لارڈ بنگ ہم نے لارڈ سٹین کی ہاں میں
ہاں ملاتے ہوئے کہا کہ عراق پر حملہ قانون کی
حاکمیت کے منافی تھا۔ اب ہم جنگی جواز کا uno
چارٹر سے موازنہ کرتے ہیں۔ جنگ شروع کرنے کے
لئے دو حالتوں کا ہونا ضروری ہے۔ uno کے
چارٹر4 کی رو سے دو دشمن ملکوں دو مخالف
ریاستوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنے
تنازعات مذاکرات اور دوستانہ سفارت کاری سے طے
کریں۔اگر ایک ملک دوسرے پر حملہ کرتا ہے تو تب
دوسرا سلامتی کونسل سے اجازت لینے کا پابند
نہیں رہتا کیونکہ فریق اول کے اچانک شب خون
مارے جانے کے بعد فریق دوم کو اپنے دفاع کے
لئے ہتھیار اٹھانے کا حق حاصل ہے مگر سچ تو یہ
ہے کہ امریکہ اور برطانیہ نے صدام گورنمنٹ کے
ساتھ مذاکرات کی پیشکش کو کئی مرتبہ رد کردیا
تھا۔دوسری حالت بھی موجود نہیں تھی کیونکہ
عراق کی بجائے اتحادیوں نے پہل کی تھی۔
نیویارک ٹائمز نے دو سال پہلے یہ خبر شائع کی
تھی کہ برطانوی حکومت خود اس نقطے سے اگاہ تھی
کہ عراق جنگ جائز نہیں۔برطانوی وزارت خارجہ
نے2003 مارچ میں میڈیا کو پریس ریلیز جاری کیا
تھا کہ عراق میں ابھی تک کوئی جواز نہیں مل
سکا جسکی بنیادوں پر اسے نشانہ بنایا
جائے۔جولائی2002 میں گورے اٹارنی جنرل گولڈ
سمتھ نے ٹونی بلیر کو بتایا تھا کہ جنگ کے لئے
صرف تین اپشن ہیں۔ جنگ اپنے دفاع میں کی جائے
یا انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے۔تیسرا یہ کہ
uno حملے کی اجازت دے۔گولڈ سمتھ نے بلیر کو
اگاہ کیاکہ unoکی قرارداد میں بلیر اور بش کا
نام لیا جارہا ہے کہ دونوں اپنے اثر رسوخ سے
uno کو استعمال کررہے ہیں۔وزارت خارجہ کی لیگل
ایڈوائزرایلی زبیتھ لم شرسٹ نے محض اس وجہ سے
استعفی دے دیا تھا کہ وہ چیخ چیخ کر وزیراعظم
کو باور کرواتی رہیں کہ عراق پر حملہ جارہیت و
وحشت ہوگا جب تک uno دوسری نئی قرارداد پاس نہ
کرے۔نیور برگ نے1945 میں جرم جارہیت کی تفصیلی
تشریح کردی تھی اب یہ عالمی قانون ہے۔جارج مون
کا کہنا ہے کہrome statue کے تحت جب عالمی
عدالت کا قیام عمل میں ایا تو ٹونی بلیر نے
خود اسکی توثیق کی تھی اور اٍسی قانون کے تحت
بش و بلیر جنگی مجرم ہیں۔برطانوی حکومت کو
کوئی دلچسپی نہیں کہ وہ بلیر کو جنگی ملزم
نامزد کرے یا بین الاقوامی قانون کی رو سے
بلیر پر مقدمہ قائم کیا جائے۔برطانوی قوانین
کے مطابق لندن سمیت پورے ملک میں ایسی کوئی
شرٹ استعمال کرنے پر پابندی ہے جو لوگوں کو
خوف زدہ کرے یا وہ جارہیت کامنظر پیش کرے تاہم
برطانیہ میں یہ قانون موجود نہیں کہ اگر کوئی
برطانوی بیرون ملک کسی کو قتل کرڈالے تو اسے
سزا دی جاسکے۔یوں برطانوی قانون اور حکومت
ٹونی بلیر کو بچانے کے لئے کافی ہیں تاہم بش
اور بلیر چاہے جتنے پاک صاف بنتے رہیں وہ پوری
انسانیت کے قاتل ہیں۔دونوں کے چہروں سے پر بیس
لاکھ بے گناہوں کا خون لالی بن کر ٹپک رہا
ہے۔دونوں دنیاوی قوانین کی زد سے تو گلوخلاصی
کرواسکتے ہیں مگر قہر خدا وندی سے نہیں۔جہاں
تک جارج مون اور حق پرست و انصاف پرور شخصیات
کی بلیر کے خلاف مساعی جلیلہ کا تعلق ہے تو
دنیا بھر کے مسلمان اور جنگوں کے مخالفین اہل
مغرب جارج مون کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں کہ
وہ ظلمت کے خلاف جہاد کررہے ہیں اور یہی جہاد
انہیں تاریخ کے ابواب میں ہمیشہ امر رکھے
گا۔uno اور عالمی عدالت انصاف کو چاہیے کہ وہ
دونوں قاتلوں قصابوں بش و بلیر کو عدالتی
کٹہرے میں کھڑا کریں ورنہ ضمیر کی ایک دلدوز
چیخ پورے عالم کے سکون کو ملیامیٹ کردے گی۔
ویسے عالمی عدالت عدل انصاف کی قاتل ہے کیونکہ
یہاں بیٹھنے والے امریکہ اور بڑی طاقتوں کے
ایجنٹ ہوتے ہیں۔یہاں امریکہ مخالفین کو سزائیں
ملتی ہیں۔یوں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ عالمی
عدالت انصاف بانجھ ہے۔جو عورت بچہ پیدا نہیں
کرسکتی وہ بانجھ پن میں مبتلا ہوتی ہے بعین
اسی طرح وہ عدالتیں اور ادارے جو انصاف کی
فراہمی کے لئے بنائے جاتے ہیں مگر وہ ظالم کو
شریف و پاکباز جبکہ مظلوموں کو مجرم بنادیتے
ہیں وہ بھی بانجھ پن کے نام سے پکارے جائیں تو
غلط نہیں۔
|