اعوذ             باالله من             الشيطن             الرجيم                بسم الله             الرحمن             الرحيم                الحمد لله              رب             العالمين .             الرحمن             الرحيم . ملك             يوم الدين .             اياك نعبد و             اياك             نستعين .             اهدناالصراط             المستقيم .             صراط الذين             انعمت             عليهم '             غيرالمغضوب             عليهم             ولاالضالين

WWW.URDUPOWER.COM-POWER OF THE TRUTH..E-mail:JAWWAB@GMAIL.COM     Tel:1-514-250-3200 / 0333-585-2143       Fax:1-240-736-4309

                    

 
 

Email:-raufamir.kotaddu@gmail.com 

Telephone:-       

 

تاریخ اشاعت03-02-2009

 کراچی کے خونی قاتل

روف عامر پپا بریار

دہشت گردی کی وحشت خود کش بمباروں کی سفاکیت اور فرقہ وارانہ عصبیت کی دہشت نے ایک طرف معصوم لوگوں کی زندگیوں کی روشن قندیلوں کو بجھانا شروع کررکھا ہے تو دوسری طرف ان وباوں نے اہل ملک کی پرسکون ساعتوں کو بے یقینی خوف و حزن میں بدل دیا ہے۔امن و امان کے مخدوش اور بیوہ کی اجڑی ہوئی کلائی کی طرح خونریز حالات نے ہماری معاشی سیاسی تہذیبی و معاشرتی بنیادوں کو لرزا دیاہے۔ہر طرف خون انسانیت بہہ رہا ہے۔ایک طرف خود کش حملہ اور شہروں کی ہنستی بستی رونق کو اجاڑنے میں محو ہیں تو دوسری جانب تخریب کاروں نے روشنیوں کے چمکتے دمکتے شہر کراچی کو ٹارگٹ کلنگ کے نام پر مقتل گاہ بنادیا۔اب سوال تو یہ ہے کہ کیا یہ افتاد عذاب الہی ہے یا ہماری بداعمالیوں کا نتیجہ؟ کیا یہ فساد دین الہی کے مبلغین کا کارنامہ ہے یا غیر ملکی ایجنسیوں کا؟ کیا فسادی و فتنہ گر ہماری پہنچ سے دور ہیں یا پھر طاقتور و خفیہ ہاتھوں نے ملزمان کو شہہ دے رکھی ہے؟ وجہ کچھ بھی ہو قاتلوں کی سینہ زوری کا یہ عالم ہے کہ انکی استبدادیت و ابلیسیت سے کوئی شعبہ دور نہیں وہ جہاں چاہیں جس وقت چاہیں کسی کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔انکی بہیمت سے سیاست دان بچے ہوئے تھے مگر پنڈی میں شیخ رشید پر گولیاں برسا کر انہوں نے کھلا اعلان جنگ کردیا ہے۔ہم تو اتنے شقی القلب واقع ہوئے کہ ہم نے ابھی تک اپنا احتساب کرنے کی زحمت گوارہ نہیں۔کوئی اللہ کے قہر کا نام لے رہا ہے تو کوئی امریکی جنگ اور ڈرون حملوں کو اس ظلمت کا زمہ دار ٹھراتا ہے۔شہروں کی بربادی اور گروہ در گروہ قتل کی وارداتوں کی لرزہ خیز داستانوں سے تاریخ بھری ہوئی ہے۔مختلف مذاہب کے دیوانے افتوں و تباہیوں کو اللہ کے غضب سے تعبیر کرتے ہیں جبکہ وابستگان سائنس مختلف توجیہات پیش کرتے ہیں۔ انسان کے ہاتھوں اشرف المخلوق کا قتل اور ظلم و بربریت ایسے صدمے ہیں جنکی توضیح و تشریح سیاسی روایات معاشی کشمکش مخصوص مفادات اور گروہی و نسلی کشا کش کی روشنی میں کی جاتی رہی ہے۔دنیا میں ایک گروہ تو ایسا بھی ہے جو فسادوں افتوں و بلاوں پر کنٹرول کو انسانی زہن کی پلاننگ کا درجہ دیتا ہے مگر کامیابی کو خدا کی نصرت اور رحمت کا نتیجہ کہا جاتا ہے۔ان کا نظریہ قران کریم کی اس ایت سے لگا کھاتا ہے کہ اللہ کی مرضی کے بغیر کوئی افت ،عذاب و بلا نازل نہیں ہوتی۔اللہ کے نبی کا فرمان ہے ڈرو اس فتنے سے جسکا شکار صرف وہ نہ ہونگے جنہوں نے اسے برپا کیا۔ میری امت پر عذاب وباوں عذابوں کی شکل میں نہیں ائیگا بلکہ مسلمان ہی ایک دوسرے کا خون بہا کر عذاب کا مزہ چکھیں گے۔ صاحبان بصیرت اور مردانٍ توکل لمبے عرصے سے چیخ چیخ کر ہمارے منجمد ضمیروں میں یہ ارتعاش پیدا کرنے کی صدائیں دیتے رہے ہیںکہ اللہ کے خوف سے ڈرو اور اسی سے مدد طلب کرو جو دلوں میں محبت کے پھول اگا تا ہے جسکی خوشبو خون کے پیاسوں کو بھائی بھائی بنادیتی ہے ہے۔ ہمیں بار بار بتایا گیا کہ گناہوں سے توبہ کرو استغفار پڑھو مگر ہم مٹی کے مادھو بنکر غیر ملکی طاقتوں کے تلوے چاٹتے رہے۔ہم نے غیروں کی غلامی اپنا کر یہ سمجھ لیا کہ ہمارا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ہم دہشت گردوں کو فنا کردیں گے اور حکومتی اتھارٹی کا علم بلند کردیں گے۔ رب العالمین کسی شہر پر بلاوجہ افتیں، خونی طوفان ڈر خوف، دہشت اور قتل و غارت مسلط نہیں کرتا بلکہ حقائق سے روگردانی، حکمرانوں کی ظلم سے چشم پوشی، کمزوروں پر توڑے جانیوالے مظالم، بے گناہوں کے خون کی فراوانی، فرامین خدا کی پامالی اور غنڈوں کی بدمعاشی اور معاشرتی بے حسی، خود غرضی نفسا نفسی فطرت کے قہر کا بنیادی سبب ہیں۔ازمنہ قدیم سے لیکر نزول اسلام تک1910 کی دہائی والے نیویارک سے لیکر ساٹھ کی دہائی والے شگاگو جزیرہ سسلی اور دوسری جنگ عظیم تک جہاں خدائی عذاب نازل ہوا تو یہی عوامل جوبن پر تھے۔ہر جگہ کی اقدار مشترک ہیں۔ فطرت یذداں کے عذاب کا طوفان جہاں برسا وہاں حکومتی و سیاسی اداروں پر چند مخصوص گروہ قابض تھے۔یہ گروہ ایک ہی شہر کے مختلف علاقوں محلوں پر اپنی حاکمیت جمائے ہوئے تھے۔یہی غنڈے ایک طرف لوگوں سے بھتے وصول کیا کرتے تو دوسری طرف وہ مخالفین کے علاقوں میں جلاو گھیراو شرپسندی، فرقہ وارانہ فسادات کو ہوا دیا کرتے۔جب ان گروہوں کے مابین تصادم ہوتے تو وہ ایک دوسرے پر موت بنکر ٹوٹ پڑتے مگر ہلاک شدگان کی غالب اکثریت بے گناہ ہوا کرتی ۔ان گروہوں کے نہ صرف قوانین خود ساختہ تھے بلکہ وہ اپنی نجی عدالتوں میں مرضی کی سزائیں دیا کرتے۔یہ سلسلہ مدتوں چلتا رہا مگر شہر اس وقت قتل و غارت کی اماجگاہ بنے خوف و بربریت اس وقت چھائی جب قاتل سینہ زور ہوگئے۔قاتل اور انکے سرپرست دیدہ دلیری سے گھوما کرتے۔ قانون انکے پیروں کی خاک تھا۔ وہ قتل و غارت اور جلاو گھیراو کو رعایاکے دلوں پر اپنی دہشت کا سکہ بٹھانے کے لئے استعمال کرتے تاکہ کوئی انکے خلاف گواہی نہ دے سکے۔بدقسمتی سے شہر قائد اج ایسی وحشت و بربریت کا نشامہ بنا ہوا ہے۔ ٹارگٹ کلنگ اور فرقہ وارانہ جھگڑوں اور لسانی تخریب ہر روز درجن بھر لوگوں کو موت کی بھٹی میں جھونک ر ہی ہیں۔خوش قسمتی سے کبھی کبھار دو چار د نوں کا وقفہ اتا ہے مگر پھر اچانک بم پھٹتے ہیں۔عمارتوں مارکیٹوںہسپتالوں اور سرکاری دفاتر میں اگ و خون کا رقص بسمل شروع ہوجاتا ہے۔قاتلوں کی گرفتاری اور سزاوں کے اعلانات ہوتے ہیں مجرموں کے فوٹو میڈیا میں شائع کئے جاتے ہیں مگر نتیجہ صفر بٹہ صفر برامد ہوتاہے۔کراچی روئے ارض کا واحد شہر ہے جہاں غنڈے قاتل اور مجرم اپنے سیاسی سرپرستوں کی اشیر باد سے کھلے عام گھومتے ہیں ۔المیہ تو یہ بھی ہے کہ دادا گیر و بھائی لوگ اسمبلیوں میں رونق افروز ہیں۔اب سوال تو یہ ہے کہ کیا سیکیورٹی ایجنسیاں اور حکمران ملزمان کی شناخت میں ناکام ہیں؟ سچ تو یہ ہے کہ ہر خاص و عام مجرموں جابروں اور فسادیوں اورقاتلوں کے چہروں سے شناسا ہے مگر کوئی بولنے کی ہمت نہیں رکھتا ۔ عوام خوف کے ڈر سے سیاست دان پارٹی مجبوریوں کے کارن، پولیس والے منتھلی کے چکر میں اور دانشور قتل کردئیے جانے کے خوف سے مجرموں کے خلاف لب کشائی کرنے سے قاصر ہیں۔یوں ایسی بے حسی ڈر و خوف اور سیاسی عصبیت کی وجہ سے شہر قائد کے ہر چوراہے پر بے گناہوں کے لاشے روزانہ سسکتے ہیں۔بے کسوں و مظلوموں کی اہیں و صدائیں خدا کے غضب کو دعوت دیتی ہیں ۔ ظلم کا گراف جب نقطہ انجماد کو چھونے لگے تب ایک ایسا یوٹرن اتاہے جہاں فطرت عذاب کا ایسا طوفان برپا کرتی ہے کہ ہر کوئی سونامی کی طرح خش و خاک بن جاتا ہے۔جبران نے کہا تھا جب بستیاں خدا کے غضب کی بجائے انسانوں کے خوف سے لرزنے لگیں تو پھر تباہی و بربادی لازم ٹھہرا کرتی ہے۔کراچی میں ایسا یوٹرن الم نشرح ہوچکا جہاں خدائی غضب اظہر من التمش ہوتاہے۔حکمرانوں پولیس والوں سیکیورٹی ایجنسیز سیاست دانوں دانشوروں اور عام لوگوں کا اولین فرض تو یہ ہے کہ وہ ڈر خوف، سیاسی مجبوریوں اور داداگیروں کی دہشت کو بالائے طاق رکھ کر قاتلوں ،فرقہ واریت کے علمبرداروں ،لسانیت کے پیش اماموں اور نوگوایریاز کے معماروں کی گریبانوں پر جبران کے قول کی روشنی میںہاتھ ڈالیں ورنہ یاد رکھیے کہ عرش والے کا قہر ٹھاٹھیں مار رہا ہے کیونکہ جہاں لوگ غنڈوں کے خوف سے کانپتے ہوں تو وہاں فطرت کا جوش اپنا زور دکھاتا ہے اور جب فطرت جوش مارے تو وہاں معافی کے دروازے بند ہوجایا کرتے ہیں۔ دوسری طرف ارباب اختیار سے لیکر عوام تک اور سیاست دانوں سے لیکر مذہبی رہنماوں کو دہشت گردی اور خود کش حملوں کے طوفانی جھکڑ کو روکنے کے لئے خدائی تعلیمات اور اسوہ حسنہ سے رجوع کرنا چاہیے کیونکہ ملک و قوم کو درپیش ہر مرض کی مکمل شفایابی اور یہود و ہنود کی غلامی سے نجات دلانے کا واحد حل فرامین رب العالمین اور اسلامی روایات میں پنہاں ہے۔
 

 

E-mail: Jawwab@gmail.com

Advertise

Privacy Policy

Guest book

Contact us Feedback Disclaimer Terms of Usage Our Team