|
تلسی داس نے
صدیاں قبل یہ جملہ کہا تھا کہ غریب و مقہور و
بھوکے لوگوں کی اہ خدا سے بھی نہیں سہی جاتی
کیونکہ مردہ کھال کے پھونکنے سے لوہا بھی پگھل
جاتا ہے۔بھارت نے پاکستان کو خارجہ سیکریٹریوں
کی سطح پر مذاکرات شروع کرنے کی دعوت دی ہے جو
خطے میں قیام امن کے کے لئے نیک شگون ہے۔یوں
دونوں ممالک کے درمیان نومبر2008 میں منقطع
ہوجانے والی بات چیت کے نتیجے میں جوسیاسی
تعطل پیدا ہوا تھا کے خاتمے کی امید منصفہ
شہود پر ائی ہے۔اس ضمن میں فوری چیلنج درپیش
ہے کہ ایسا سیاسی راستہ تلاش کیا جائے جو
متصادم ہائے نقطہ نظر کے مابین مفاہمت پیدا
کرکے ایک فارمولے کی بنیاد رکھے کہ مذاکرات
کیسے شروع کئے جائیں؟ بھارتی روئیے میں لچک نے
باہمی مذاکرات کی تجدید تو کردی ہے مگر سوال
تو یہ ہے کہ کیا پاک بھارت بات چیت خطے میں
قیام امن اور دوستانہ و برادرانہ تعلقات کے
احیا کا سبب بنے گی؟ یاد رہے پاکستان اور
بھارت کے درمیان2004 میں کمپوزٹ ڈائیلاگ کا
آغاز ہوا تھا جسے نیو دہلی نے نومبر2008 میں
بمبئی بم دھماکوں کے فوری بعد معطل کردیا تھا۔
دوہفتے قبل انڈین سیکریٹری خارجہ نیرہ پیما
راو نے پاکستانی ہم منصب سلیمان بشیر کو فون
پر نہ صرف دہلی یاترا کی دعوت دی بلکہ مذاکرات
شروع کرنے کا عندیہ دیا تھا۔ پاکستان نے
بھارتی پیشکش کا خیر مقدم کرکے مذاکرات کی
بابت وضاحت طلب کی ۔ پاکستان میںسفارتی
سرگرمیاں شروع ہوچکی ہیں جنکا مقصد ٹائم ٹیبل
،مقام کا تعین اور چارٹر کی تیاری شامل
ہے۔بھارت نے چودہ ماہ پہلے ڈائیلاگ کو بیک
جنبش قلم منسوخ کردیا تھا جسکی وجہ سے خطے میں
امن کا عمل منجمد ہوکر رہ گیا تھا اور بھارتی
نیتاوں اور فوجی اصحاب کہف کے بیانات میں تلخی
و ترشی شامل تھی۔بھارتی جرنیلوں نے ایک طرف
اشتعال انگیز بیانات کی بھرمار سے جنگی ماحول
پیدا کرنے کی کوشش کی تو دوسری جانب پاکستان
کو انڈر پریشر کرنے کے لئے فوجی نظریات اور
کولڈ سٹارٹ مشقوں کا پرچار کیا گیا۔پچھلے
دسمبر میں بھارتی چیف دیپک کپور نے پاکستان و
چین کے ساتھ دو دوہاتھ کرنے کا نعرہ بلند کیا
جسکا فوری و مسکت جواب جنرل کیانی نے اسی
پیرائے میں دیا۔ پچھلے دنوں باونڈری لائن پر
دونوں اطراف سے فائرنگ کے واقعات نے سرحدی
علاقوں کی کشیدگی میں اضافہ کردیا۔پاکستان نے
تناو بھرے ماحول میں بار بار مذاکراتی عمل کی
بحالی کی اپیلیں کیں جو نیودہلی کی پیشگی
شرائط عائد کرنے کی وجہ سے رائیگاں ہوگئیں۔
رنجشوں کے دور میں بھارتی رویوں میں تبدیلی
زہن میں کئی خدشات و وسوسوں کو جنم دیتی
ہے۔کیا بھارتی نیت میں بدلاو واقعی بھارتی سوچ
میں مثبت تبدیلی کا پیش خیمہ ہے یا بھارت
عالمی برادری پر واضح کرنا چاہتا ہے کہ نیو
دہلی فراخ دلی سے پاکستان کے ساتھ گفت و شنید
کرنے میں مخلص ہے؟ کیا تبدیلی نیک نیتی کا
شاخسانہ ہے یا کوئی نیا ہتھکنڈہ ہے۔ان سوالات
کا جواب سابق سفیر ڈاکٹر ملحیہ لودھی نے اپنے
مضمون > بھارت کے ساتھ مذاکراتی عمل< میں دیا
ہے۔وہ لکھتی ہیں کہ تین امور پر دھیان دینا
چاہیے اور یہی امور بھارتی روئیے میں ناقابل
یقین لچک کا سبب بنے ہیں۔1 انڈیا کی جبری
پالیسی کی ناکامی۔ بھارت نے ڈائیلاگ کا عمل رد
کیا تو بھارتی پارلیمنٹ پر دہشت گردانہ حملہ
اور سانحہ بمبئی رونما ہوا۔بھارت عالمی حمایت
میں کمی واقع ہوجانے کے خدشے کے پیش نظر
پاکستان کو دعوت دینے مجبور ہوا ہو2۔پاک بھارت
افغان پالیسی میں تفاوت۔ امریکہ افغانستان میں
اپنی پالیسیوں کے اجرا میں پاک بھارت افغان
پالیسیوں میں تفاوت کی وجہ سے کامیاب نہیں
ہوسکتا۔ہوسکتا ہے امریکہ نے دباو ڈالا ہو کہ
ڈائیلاگ شروع کئے جائیں تاکہ پاکستان مشرقی
سرحدوں اور فاٹا میں دہشت گردی کو کچلنے کی
طرف یکسوئی سے راغب ہو۔پاک بھارت کشیدگی خطے
میں امریکی سٹریٹجی کی کامیابی میں رکاوٹیں
ڈال سکتی ہے۔جنوری میں رابرٹ گیٹس پاک بھارت
دورے پر ائے اور مذاکرات کی کوششوں کو پروان
چڑھایا حالانکہ انہوں نے متنازعہ بیان دیا تھا
کہ اگر بمبئی سانحات دوبارہ وقوع پزیر ہوئے تو
بھارت برداشت نہیں کرے گا۔بھارت کی طرف سے
دعوت عالمی برادری کے دباو کو ختم کرنے میں
مضمر ہے۔مغربی حکام نے جئب یہ دیکھا کہ افغان
مسئلہ فائنل راونڈ میں داخل ہوچکا ہے تو انہوں
نے مذاکراتی عمل شروع کروانے کی مہم شروع
کردی۔بھارتی اپوزیشن نے کانگرسی حکومت پر
تنقید کے نشتر چلانے کا دھندہ اپنا رکھا ہے کہ
بھارت نے پاکستان کے سامنے ہتھیار ڈال دئیے
ہیں۔3 تیسری وجہ یہ ہے کہ بھارت طالبان کے
ساتھ اتحادیوں کی مفاہمت پر چیں بچیں ہے۔بھارت
سمجھتا ہے کہ جب ناٹو نے کابل چھوڑا تو پورے
خطے کا سیاسی منظر و ہیت تبدیل ہوجائے
گی۔طالبان اور اتحادیوں کے مابین متوقع مفاہمت
میں پاکستان کے کلیدی کردار نے بھارتی قیادت
کو مجبور کردیا ہے کہ وہ پاکستان کو بات چیت
کی فوری دعوت دے تاکہ خطے میں سفارت کاری کے
توازن کو متوازن رکھا جائے۔ڈائیلاگ کا کیا
نتیجہ نکلے گا یہ تو انے والا وقت بتائے
گا؟پاکستان و بھارت کے درمیان اس وقت دوحل طلب
ایشو ایسے ہیں جو خطے کے امن سکون و شانتی کے
لئے لازم و ناگزیر ہیں جن میں مسئلہ کشمیر اور
پانی کا تنازعہ سرفہرست ہیں مگر بھارت دونوں
پر لچک دکھانے پر تیار نہیں۔بھارت کشمیر کو
اپنا اٹوٹ انگ سمجھتا ہے۔بھارتی ائین کی رو سے
بھی کوئی حکومت کشمیر سے دستبردار نہیں
ہوسکتی۔اگر مسئلہ کشمیر حل نہیں کیا جاتا تو
پھر مذاکرات کا اغاز ہی وقت کا ضیاع ہوگا۔ویسے
اس سچ میں بھی کوئی ملاوٹ نہیں کہ بھارت نے ہر
موڑ پر پاکستان کو زک پہنچانے کا دقیقہ
فروگزاشت نہیں کیا۔دونوں کے مابین دوستی و
تعلقات ناگزیریت سے بھی بڑھ کر قیمتی ہیں۔تاہم
حد سے بڑھی ہوئی خوش گمانی درست نہیں۔بھارت
پاکستانی دریاوں کا پانی روک کر دھرتی کی
سرسبز کھیتی کو بنجر بنانے کی خواہش میں مبتلا
ہے۔یہ ہوائی یا بے پرکی نہیں۔اسکا اعتراف خود
بھارتی دانشور کرتے ہیں۔بھارتی مصنف بانڈے او
پدھائے اپنی کتاب
ECOSYSTEM AND SOCITY
میں بھارتی چیرہ دستیوں کا
چہرہ بے نقاب کرتے ہیں۔وہ رقمطراز ہیں کہ
بھارت اپنی زراعت و ماحولیات کو بہتر بنانے
اور بھارتی عوام کے روشن مستقبل کے لئے
پاکستانی دریاوں کے پانی کو اپنے کنٹرول میں
لاکر ناانصافی کی مرتکب ہورہی ہے۔
indian agency for water
develpment
نے ایسا سائنسی پلان
بنایا ہے جو پہاڑوں سے انے والے پانی کو
پاکستان کی بجائے بھارتی استعمال میں لائے
گا۔بھارت برسات میں بھی پاکستانی پانی کو
استعمال کرلے گا۔گو پاک بھارت واٹر کمیشن کی
بات چیت شروع ہوگئی جس میں پانی کی تقسیم کو
سندھ طاس معاہدے کی رو سے نپٹانے کے وعدے کئے
گئے مگر حقیقت تو برعکس ہے۔ابی قذاقی کا سلسلہ
جاری و ساری ہے۔دس فروری کو انڈین ٹائمز نے
رپورٹ شائع کی کہ بھارت چناب پر648 فٹ اونچے
نئے ڈیم کی تعمیر کررہا ہے ۔ڈیم کا نام سوال
کوٹ ہے جو پاکستان کے بھاشا ڈیم سے تیرہ گنا
زیادہ پانی سٹور کرے گا اور یہاں بارہ سو
میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی۔بھارت مذاکرات کی پر
خلوص کامیابی کے لئے پاکستانی دریاوں کے پانی
کی لوٹ مار سے فوری طور پر تائب ہو۔بھارت کی
نیک نیتی کا انحصار اس دو حرفی اعلان میں
پنہاں ہے کہ بھارتی پالیسی ساز دیگر متنازعہ
امور کے ساتھ ساتھ مسئلہ کشمیر کے تنازعہ پر
بات چیت کرنے پر امادہ ہیں۔پاکستانی قائدین
ایک طرف اپنی نااہلیوں و نالائقیوں کو تسلیم
کریں ۔ بھارت ہمارے پانی کو ہڑپ کرتا رہا اور
ہم خواب خرگوش کے مزے لیتے رہے۔دوسری طرف
عوامی حکومت کا اخلاقی قانونی و اسلامی فریضہ
ہے کہ وہ کشمیر کو ایجنڈے میں سرفہرست رکھے
ورنہ یہ ساری مشق بیکار ہوگی۔ پاکستان و بھارت
نے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے کھربوں
ڈالر جوہری ہتھیاروں اور انسانیت کش اسلحے کے
ڈھیر لگارکھے ہیں۔دونوں کے درمیان دشمنی کے
کارن کئی جنگیں ہوچکیں۔دونوں حکومتیں عوام کے
خون پسینے کی کمائی یہودیوں کے اسلحے کے انبار
خریدنے میں راکھ کردی جاتی ہے۔برصغیر کی جو
دولت غربت و بھوک ننگ و حسرت کے خاتمے میں خرچ
کی جانا تھی وہ اگ و بارود کی خرید میں جھونکی
جارہی ہے۔عسکری طاقت میں اضافے کی ہوس نے
باونڈری لائن کے ار پار کروڑوں مقہوروں و ستم
رسیدہ انسانوں کو دو وقت کی روٹی سے محروم
کردیا ہے۔پاک بھارت پالیسی ساز تلسی داس کے
محولہ بالا قول کی روشنی میں اپنے دفاعی بجٹ
میں نصف کی کمی کردیں اور یہ رقم شکستہ دل
پاکستانیوں و بھارتیوں کی دال روٹی اور بنیادی
انسانی حقوق کی بحالی اور معاشی و معاشرتی
مظالم کی چٹان تلے اہ و بکا کرنے والے انسانوں
کے زخموں کے اندامال پر خرچ کر دیں۔مردہ کھال
کے پھونکنے سے لوہا تک پگھل جاتا ہے مگر حیف
ہے جنگی جنون کے فرزانوں پر جو بے بس و بے کس
اور لاچار لوگوں کی اہیں صدائیں اور سسکیاں تو
روز سنتے ہیں مگر انکا پتھر دل موم نہیں بنتا۔
|