اعوذ             باالله من             الشيطن             الرجيم                بسم الله             الرحمن             الرحيم                الحمد لله              رب             العالمين .             الرحمن             الرحيم . ملك             يوم الدين .             اياك نعبد و             اياك             نستعين .             اهدناالصراط             المستقيم .             صراط الذين             انعمت             عليهم '             غيرالمغضوب             عليهم             ولاالضالين

WWW.URDUPOWER.COM-POWER OF THE TRUTH..E-mail:JAWWAB@GMAIL.COM     Tel:1-514-250-3200 / 0333-585-2143       Fax:1-240-736-4309

                    

 
 

Email:-raufamir.kotaddu@gmail.com 

Telephone:-       

 

 

تاریخ اشاعت26-02-2009

 گیلانی کی تلخ مگر کھری باتیں

یوسف رضا گیلانی نے21 فروری کو حمید نظامی کی یاد میں منعقد ہونے والی تقریب میں تلخ سچ کو زبان پر لاتے ہوئے اپیل کی کہ جمہوریت کو چلنے دیا جائے اگر کہیں جمہوریت کا متبادل ہوتوا قوم کے سامنے لایا جائے۔ چیف ایگزیکٹو نے غیر جمہوری و سیاسی اداکاروں کو تنبیہ کی کہ وہ حکومت کے چل چلاو کی تاریخیں دینا بند کردیں۔گیلانی صاحب نے یقین دہانی کروائی کہ صدر قومی اسمبلی میں سالانہ تقریر کے موقع پر 17 ویںترمیم کے خاتمے کا اعلان کریں گے۔ وزیراعظم نے کہا بڑی قربانیوں کے بعد جمہوریت بحال ہوئی ہے۔پی پی نے بینظیر بھٹو کی جان کا نذرانہ دیکر امریت کی شب دیجور کو صبح صادق کے خون سے منور کیا ہے۔پرائم منسٹر نے نواز شریف کی جلاوطنی اور قید و بند کی صعوبتوں کو داد دی۔یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پرائم منسٹر کی باتیں پند و نصائح حقیقت بر مبنی ہیں۔قوم سمیت ریاست کی ساری سیاسی جماعتوں کا فریضہ ہے کہ وہ ان باتوں کو حرز جان بنائیں۔پاکستان کی تاریخ کا بڑا حصہ امریت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں گزرا ۔امریتوں کے دور میں ملک و قوم نے جو دکھ اٹھائے ہیں وہ ناقابل بیان ہیں جنکا مداوا کیا جانا چاہیے اور یہ صرف جمہوریت کی چاندنی سے ممکن ہے۔گیلانی نے مڈٹرم الیکشن کی غوغہ ارائی کو مسترد کردیا ۔ اگر وسطی مدتی الیکشن منعقد ہوں تو یہی لوگ دوبارہ منتخب ہوجائیں گے۔میڈیا اور اینکرز پر بھی کڑی زمہ داریاں عائد ہوتی ہیں کیونکہ زرائع ابلاغ کے توسط سے ہی جمہوریت دشمن عناصر کا بودا پروپگنڈہ اور سیاست دانوں کی بنارسی ٹھگی عوامی حلقوں میں بے چینی و بے یقینی پیدا کرتی ہے جو جمہوریت کے لئے مضر ہے۔یوں ساری جماعتوں کی اولین ڈیوٹی ہے کہ وہ جمہوریت کے سفر کو جاری رکھنے کے لئے اپنا کردار نبھائیں تاہم بہتری کی سبیل نکالنا بھی لازم ہے۔ موجودہ حکومت ائینی و قانونی حق رکھتی ہے کہ اسے 5سال کی مدت پوری کرنے کا موقع دیا جائے۔ اگر موجودہ بری بھلی جمہوریت کسی کے سینے پر دال مل رہی ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ تبدیلی ناگزیر ہے تو ایسے لال بھجکڑ بوکھلاہٹ کی بجائے 3 سال انتظار کریں اور اگلے الیکشن میں قسمت ازمائی کریں۔یقین جانیے کہ اگر جمہوری حکومتوں کو جرنیلوں کی طرح10 سال کام کرنے کی ازادی دی جائے تو جمہوریت کا کملایا ہوا پودا خوشبودار اور تبومند درخت میں بدل جائے گا۔گیلانی اور زرداری کی 22 ماہ پہلے قائم ہونے والی مرکزی حکومت نے بیشک کوتاہیاں کی ہیں مگر حکومت کے چند تاریخ ساز کارنامے ایسے بھی ہیں جنہیں داد نہ دینا زیاتی ہوگی۔ مشرف کا دھڑن تختہ، گلگت صوبے کا قیام این ایف سی ایوارڈ پر سارے صوبوں کا اتفاق، دہشت گردی کے خلاف جنگ حکومتی کامرانیوں کی فہرست ہے تاہم عوامی نقطہ نظر سے حکومتی کارکردگی کو مثالی و شاندار نہیں کہا جاسکتا۔پنڈی کے قومی حلقےna 155 کے بائی الیکشن میں مسلم لیگ ن کے شکیل اعوان کی بے مثال جیت سے عوامی موڈ کا پتہ لگایا جاسکتا ہے۔پی پی کو اپنا امیدوار نامزد کرنا چاہیے تھا تاکہ عوامی حمایت کے گراف اور پی پی کے ووٹ بنک کا پتہ چل جاتا۔پارٹی کارکنان کو واضح گائیڈ لائن نہ مل سکی اور وہ دھڑوں میں بٹ گئے مگر جیتنے اور ہارنے والی جماعتوں نے پی پی کی میسر حمایت سے یکسر انکار کردیا اور فریقین نے کھل کر کہا پی پی نے مخالف امیدوار کی سپورٹ کی۔ حکومت کو ایسے نادان مشیروں سے بچنا چاہیے جو احمقانہ فیصلوں کے تخلیق کار ہوتے ہیں۔ حکومت کو ضمنی الیکشن کے نتائج پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کیونکہ انکے تیور بدل چکے ۔ حکومت اپنی لغزشوں سے عبرت پکڑے ۔سپریم کورٹ نے نیب کے چند افسران کو تبدیل کرنے کا حکم دیا تھا مگر یہ تبدیلی عدلیہ کی جھاڑ پٹی کے بعد ہی ممکن ہوئی۔عدلیہ کی مداخلت سے پہلے یہ کام کرلیاجاتا تو انصاف کے تقاضے پورے ہوجاتے۔ پی پی نے ججز کی بحالی ،نئے ججز کی تعیناتی اور ججز کی رہائی اور چیف جسٹس کی بحالی کے خوش کن اقدامات کئے۔یو سف رضا نے جسطرح ائینی بحران کو منٹوں میں حل کرکے اداروں کے تصادم کو روک دیا تالیف قلب ہے مگر کڑوا سچ تو یہ ہے کہ اتنا کچھ کرنے کے باوجود حکومت عدلیہ کی بحالی و خود مختیاری کے احیا کا کریڈٹ حاصل نہ کرسکی ۔حکومتی حلقوں میں بروقت منصوبہ بندی کے فقدان اور نااہل مشیروں کی ناعاقبت اندیشی سے یہ ممکن نہ ہوسکا۔ حکومت نے روز اول سے سترہوں ترمیم کے خاتمے کا اعلان کیا تھا۔یہ اعلانات صدر اور گیلانی نے درجنوں مرتبہ کئے مگر اس نیکی میں اب تک اتنی تاخیر کیوں؟ میثاق جمہوریت جو جمہوری استحکام کے لئے نادر نسخہ ہے پر کوئی پیش رفت دیکھنے کو نہیں ملی۔بی بی سی نیوز کا تبصرہ درست ہے کہ اگر میثاق پر عمل ہوجاتا تو حکومت و عدلیہ کے درمیان پائی جانیوالی عداوت اور ئینی بحران کا نام و نشان تک نہ ہوتا ۔ چارٹر اف ڈیموکریسی میں ججز کی تقریوں کا کلیہ موجود ہے۔ملک میں مالیاتی صورتحال خوشگوار نہیں۔مہنگائی غربت بیروزگاری اور ناانصافی نے عوام کو خون کے انسو رلادئیے۔لوڈ شیڈنگ بجلی و گیس نے عوام کا جینا دوبھر کررکھا ہے۔سبزیوں و دالوں کی قیمتیں اسمان کو چھو رہی ہیں۔معاشی مسائل نے لوگوں کو خود کشیوں کی طرف راغب کردیا۔بجلی اور گیس کے نرخ روز بروز بڑھائے جاتے ہیں۔عوام کی زندگی جہنم بن چکی۔ حکومت اگر عوامی مصائب کے زخموں کا اندمال نہیں کرپاتی تو مرچیں چھڑکنے سے تو باز رہے۔ حالات چاہیے جتنے گھمبیر ہوں حکومت کو کام کرنے کی ازادی ملنی چاہیے۔مڈٹرم کی سوچ کو دبا دینا چاہیے۔حکومتی خاتمے کی تاریخ دینے کا مکروہ عمل بند کیا جائے۔ صدر کی زات پر تنقید بند ہونی چاہیے مگر عوامی مسائل کے لئے ٹھوس اقدامات کوئی نتیجہ خیز سعی اور مشکلات کو کم کرنے کے لئے اتنا کچھ تو کیا جائے کہ عوام کو لو کی بجائے ٹھنڈی ہوا کا جھونکا تو محسوس ہو۔ جمہوریت کی پختگی کے لئے میثاق جمہوریت کی روح اپنانا ناگزیر ہے۔یاد رہے اگر پی پی پی نے عوام سے کئے گئے وعدوں کو پورا نہیں کیا میثاق کو اولیت نہ دی تو یاد رہے اگلے الیکشن میں پنڈی کے بائی الیکشن کا طوفان اپنی راہ میں انے والی ہر شے کو خش و خاک و تنکوں کی طرح بہا لے جائیگا۔پاکستان کی وہ تمام دینی و سیاسی جماعتیں جو جمہوریت کع پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتے ہیں وہ صبر و تحمل و نیک نیتی سے موجودہ جمہوریت کا ساتھ دیں

 

E-mail: Jawwab@gmail.com

Advertise

Privacy Policy

Guest book

Contact us Feedback Disclaimer Terms of Usage Our Team