اعوذ             باالله من             الشيطن             الرجيم                بسم الله             الرحمن             الرحيم                الحمد لله              رب             العالمين .             الرحمن             الرحيم . ملك             يوم الدين .             اياك نعبد و             اياك             نستعين .             اهدناالصراط             المستقيم .             صراط الذين             انعمت             عليهم '             غيرالمغضوب             عليهم             ولاالضالين

WWW.URDUPOWER.COM-POWER OF THE TRUTH..E-mail:JAWWAB@GMAIL.COM     Tel:1-514-250-3200 / 0333-585-2143       Fax:1-240-736-4309

                    

 
 

Email:-raufamir.kotaddu@gmail.com 

Telephone:-       

 

 

تاریخ اشاعت26-02-2009

 ۔ چین امریکہ ناکام شادی شدہ جوڑا

برطانوی اخبار گارڈین میں لوالا ایڈ یسیوی کا مقالا شائع ہوا ہے جس میں صاحب مضمون نے امریکہ و چین کو ناکام شادی شدہ جوڑے کا نام دیکر دونوں کو کسی اچھے میرج بیورو سےconsult کرنے کا مشورہ دیا ہے تاکہ انکی ازواجی زندگی سکون سے گزرے۔ مستقبل کے عالمی قائد چین اور موجودہ سپرپاور امریکہ کے درمیان حالیہ دنوں میں سردجنگ کی چنگاریاں بھڑک چکی ہیں۔تبت کے روحانی پیش امام جنہیں بیچنگ کے نذدیک باغی و غدار تصور کیا جاتا ہے دلائی الامہ کی صدر اوبامہ سے ہونے والی ملاقات اور تائیوان کو دی جانیوالی امریکی امداد نے سرد جنگ کی چنگاریوں کو مذید دہکا دیا۔ اوبامہ اور دلائی لامہ کو پچھلے سال ملنا تھا مگر یہ ملن اوبامہ کے دورہ چین کی وجہ سے متروک ٹھرا۔امریکہ کو خدشہ تھا اگر اوبامہ دلائی لامہ کی میزبانی کریں گے تو چینی جنتا روٹھ کر سخت لب و لہجہ اختیار کرسکتی ہے تاہم عالمی ماہرین کا دعوی ہے کہ چین کسی صورت میں امریکہ کے ساتھ کسی قسم کا پنگا نہیں لینا چاہتا۔بھارتی مفکر سی راجہ موہن نے انڈین ایکسپریس میں شائع ہونے والے مکالے میں لکھا ہے کہ چین امریکہ کے ساتھ تصادم کا راستہ اپنانے کے موڈ میں نہیں ہے۔ تائیوان کو ملنے والی امریکی امداد نے چینی غم و غصے کو دوہری جلا بخشی۔چین کو خدشہ ہے کہ تائیوان کو فوجی امداد دینے کا مقصد چین کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی سازش ہے۔تائیوان چین کا حصہ ہے جسے مغربی استعمار نے جدا کردیا تھا۔ دلائی لامہ چین کا باغی ہے مگر امریکہ و مغرب میں دلائی لامہ کاخوب سواگت کیا جاتا ہے جو چین کے سینے پر دال ملنے کے مترادف ہے۔یوں مغرب کی دوغلی پالیسی پر چین تلملا ہٹ کا اظہار کرتا ہے۔راجہ موہن لکھتے ہیں کہ چین نے امریکی رویوں کے خلاف گرما گرمی اور تلخی میں نمایاں کمی کردی ہے۔چین بھی امریکہ کی طرح تصادم کا متحمل نہیں۔موہن کے اس تجزئیے سے چینی قیادت کی دور اندیشی اور دوربینی عیاں ہوتی ہے۔چین اپنے معاشی صنعتی دفاعی سیاسی اور عالمی مقاصد کے حصول تک کسی لڑائی و جنگ میں کودنے کاارادہ نہیں رکھتا۔اوبامہ نے تائیوان کو امریکی امداد ریلیز کی تو چین نے واشبگٹن کو سخت مضمرات کی دھمکی دی اور چین کے ارباب اختیار نے اپنی دھمکی کو عملی جامعہ پہناتے ہوئے ایک طرف امریکی کمپنیوں کو بین کردیا تو دوسری طرف حکومت نے چین امریکہ فوجی تبادلوں پر پابندی عائد کردی۔چین نے پچھلے دنوں امریکی جہاز ایس ایس نمیٹز کو ہانگ کانگ کے ساحلوں پر لنگر اندازی کی اجازت دی تھی ۔اس اجازت کو چینی پالیسی میں لچک کا نام دیا گیا ہے۔مغربی میڈیا اوبامہ دلائی ملاقات کو صرف چائے کافی سے منسوب کررہا ہے۔کہا جارہا ہے کہ ملاقات میں وہ محبتیں اور عقیدتیں دیکھنے کو نہ مل سکیں جو بش دور میں اسمانوں کو چھو رہی تھیں۔ہوسکتا ہے کہ ایسا ہی ہوا ہو تاہم یہ سمجھنا کہ امریکہ عالمی قیادت کے ٹریک پر چین کی برق رفتاری کو برداشت کرچکا ہے غلط ہوگا ۔ امریکی اپنے تئیں چینی عزائم کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی معمولی سیاہ کاری کا موقع مس نہیں کرتے۔راجہ موہن سمجھتے ہیں کہ دونوں کشیدگی ختم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔امریکی ہیر پھیر پر دلائی لامہ ناقابل رشک قسم کی صورتحال میں جکڑے ہوئے ہیں۔ امریکہ اوبامہ اور تبتی رہنما کی ملاقات سے کن فوائد کی امید کررہا ہے اسکا پتہ تو پیشین گوئیاں کرنے والے نجومیوں کو ہوگا؟ کیا امریکہ دلائی سے تعلق بنا کر مستقبل میں دلائی کے پیروکاروں کو چینی صوبے تبت میں فسادات کے لئے استعمال کرنے کا ارادہ تو نہیں رکھتا؟ استعماروں اور سامراجوں سے خیر کی توقع باندھنا خود شر کی امد کو یقینی بنانا ہے۔چین کو امریکی سازشوں سے بچنا چاہیے۔ایک طرف جہاں امریکہ و چین تلخیوں کو تصادم بنانے سے گریز کررہے ہیں وہاں خارجی امور پر دسترس اور عالمی تعلقات پر نظریں رکھنے والے ماہرین متضاد نظرئیے کا پتہ دیتے ہیں کہ امریکی دھونس اکڑ فوں اور دوغلی پالیسیوں کی ترجمانی چین کو تصادم کا خون بہانے کی جانب راغب کرسکتی ہیں۔چینی اخبار پیپلز ٹائم اپنے ادارئیے میں لکھتا ہے کہ مستقبل میں چین عالم اسلام اور بھارتی تہذیب کی طاقت کے صد فیصد اثار بے نقاب ہوچکے ہیں جس سے عالمی طاقت کے مراکز میں تبدیلی ہوگی۔چینی دانشور بین القوامی تعلقات کے حوالے سے چینی تھیوری تشکیل دینے میں جتے ہوئے ہیں جسے مشرقی تھیوری کا نام دیا جائے گا۔ امریکہ نے چند سال قبل بھارت کو جوہری بھائی بنادیا تھا تاکہ بھارت کو چین کے مدمقابل کھڑا کیا جاسکے مگر بھارتی وزیر دفاع انتھونی نے امریکی عزائم کے سامنے فل سٹاپ لگا دیا کہ بھارت اسلحہ اکٹھا کررہا ہے مگر بھارت کاچین کے خلاف جارہیت کا کوئی ارادہ نہیں۔ویسے اس معاملے پر چین کو تشویش نہیں۔وہ جانتا ہے جب تک بھارت کو پاکستان کا خطرہ لاحق ہے وہ چین کے ساتھ کوئی چھیڑ خانی کرنے کی ہمت نہیں رکھتا۔چینی ماہرین نے انڈیا روس اور امریکہ کے عسکری اور نیپال بھوٹان اور مالدیپ کے ساتھ ہونے والے دفاعی معاہدوں کی تفتیش کی ہے جسکے بعد چینی ماہرین نے یہ نتیجہ اخذ کیا بھارت چین کے ساتھ تصادم کرہی نہیں سکتا۔چین اور بھارت کے مابین مذاکراتی میچ بھی جاری ہے جس میں طرفین کے کھلاڑیوں کو جارہانہ انداز کرنے سے پہلے ہی شانت کردیا جاتا ہے۔گارڈین اخبار کے مقالہ نگار جس نے چین و امریکہ کو شادی شدہ جوڑے سے تشبیہ دی لکھتے ہیںکہ دلائی کے دورہ امریکہ اور تائیوان کو فوجی ایڈ کے علاوہ واشنگٹن اور بیچنگ کے مابین جس کشیدگی نے جنم لیا ہے اس میں امریکن تجارتی کمپنیوں پر پابندی کا عنصر بھی شامل حال ہے جن پر امریکہ تلملایا ہوا ہے۔ چین اور امریکہ کے درمیان کشیدگی ختم ہوگی یا نہیں امریکہ تائیوان کی دست گیری کرتا رہے گا یا اپنا ہاتھ اٹھا لے گا وائٹ ہاوس کی دلائی لامہ سے متعلق پالیسی میں تبدیلی ہوسکتی ہے یا نہیں اسکا فیصلہ تو مستقبل کا مورخ ہی کرسکتا ہے تاہم یہ حقیقت اظہر من التمش ہے کہ چین اور امریکہ کے درمیان کولڈ وار کا اغاز ہوچکا ہے اور یہ بات بھی نوشتہ دیوار بن گئی کہ اس نئی کولڈ وار میں ماضی کے برعکس امریکہ کو شکست ہوگی اور چینی تھیوری کا بول بالا ہوگا۔ جہاں تک چین و امریکہ کے ناکام شادی شدہ جوڑے کا تعلق ہے تو دونوں کو خوش کن ازواجی زندگی کے لئے اپنے بقیہ گھر والوں> دنیا< اور قریبی رشتے داروں اور دوستوں> خطے کے دوسرے ملکوں اور جنوبی ایشیا< کے لوگوں کے سکھ چین کے لئے عملی اقدامات کرنے ہونگے۔یاد رہے جس گھر میں اہل خانہ کو سکون میسر نہ ہو تو وہاں کوئی شادی شدہ جوڑا کامیاب ازواجی زندگی گزارنے کا تصور ہی نہیں کرسکتا۔
 

 

E-mail: Jawwab@gmail.com

Advertise

Privacy Policy

Guest book

Contact us Feedback Disclaimer Terms of Usage Our Team