|
مغرب
کے بصیرت خیز دانشور اور دفاعی امور کے تجزیہ
نگار فلپ سٹیفن کہتے ہیں فغان جنگ میں فتح صرف
اور صرف افغانوں کے نام لکھی جا چکی ہے۔
امریکن فورسز اتحادی فوج کے ساتھ ملکر جنوبی
افغانستان میں جارہانہ کاروائی کررہی ہیں جسے
اپریشن مشترک کا نام دیا گیا ہے۔مغربی میڈیا
امید کررہا ہے کہ اتحادیوں کے پاس اتنی فوجی
قوت موجود ہے جو طالبان کے پاوں اکھاڑنے اور
علاقے پر کنٹرول کرنے کی صلاحیتوں سے مالا مال
ہے۔ ملا برادر کی گرفتاری کو فتح سے موسوم کیا
جارہا ہے مگر سچ ےو یہ ہے کہ اتحادی افغانی
بچوں عورتوں اور جوانوں پر ایٹمی ہتھیاروں کی
چاند ماری سے لاشوں کے ڈھیر تو لگاسکتے
ہیں۔ہلاکو کی طرح کھوپڑیوں کے مینار بھی کھڑے
ہوسکتے ہیںتاہم تاریخی سچ تو یہ ہے کہ ہنوز
دلی دور است کے مصداق افغان قوم کو سرنگوں
کرنا ناممکنات کا کھیل ہے۔مغربی دانشور فلپ
سٹیفنز نے تازہ ترین مضمون> جنگ افغانستان
افغانوں کے علاوہ کوئی اور جیت ہی نہیں سکتا <میں
لکھتے ہیں ہوسکتا ہے اوبامہ کی فورسز کچھ رنگ
دکھانے والی ہوں مگر اپریشن مشترک کی جنگی
چالوں کی کامیابی کو تزیرواتی کامیابی سمجھنے
کا خدشہ بحرحال موجود رہے گا؟ روئے ارض کے
عسکری تجزیہ نگار اور افغان جنگ میں شرکت کرنے
والی نیٹو اور امریکہ کے جنگ باز چیخ چیخ کر
صدائیں ہانک رہے ہیں کہ اتحادی کابل چھوڑ دیں
وہ افغان قوم پر تسلط جمانے میںکامیاب نہیں
ہوسکتے۔FLIP STEPHENS پینٹاگون اور وائٹ ہاوس
کی توجہ اس نقطے پر مرکوز کرواتے ہیں ابھی وہ
وقت نہیں ایا کہ افغانستان کا گہرائی میں اتر
کر جائزہ لیا جائے بلکہ ہمیں سب سے زیادہ توجہ
ا واپسی کے ٹائم ٹیبل پر توجہ دینی
چاہے۔اپریشن مشترک میں برطانیہ کے لئے خیر کا
تھوڑا بہت عنصر پنہاں ہے کیونکہ ہلمند میں
انگلش فوج طالبان کے گھیرے میں اچکی
تھی۔برطانوی فوجی پے درپے ہلاک ہورہے تھے جنکے
تابوتوں نے برطانیہ میں اودہم مچادیا۔اپریشن
مشترک کی روشنی میں کہا جارہا ہے کہ برطانوی
فوج کی ہلاکتوں میں کمی ہوگی۔برطانوی حکومت
عوامی حمایت سے تہی داماں ہوچکی۔ برطانوی
گورڈن براون پر اگ بگولہ بنے ہوئے ہیں کہ
حکومت نے فوج کوغیر موثر اور پرانے اسلحے سے
جنگ کی بھٹی میں جھونک دیا۔کساد بازاری نے
معیشت کا کچومر نکال دیا۔فوجی اخراجات میں
ہوشربا اضافے نے سرکاری خزانے کو دیوالیہ
بنادیا۔2010 اور2011 کے یک سالہ فوجی بجٹ کا
بل6 بلین پاونڈ ہے جو زمانہ امن میں دفاعی بجٹ
کا20 فیصد ہے۔براون اپنی عزت سادات کے بچاولئے
محاز جنگ سے اچھی خبروں کے منتظر ہیں۔فلپ
لکھتے ہیں۔کامیابی کی بے سروپا و طفلانہ اور
من گھڑت خبروں، فوجی پیش رفت اور کامیابی کی
چکاچوند میں تصادم کی تہہ میں موجود مضر حقائق
سے نظریں چرانا ممکن نہیں۔یہ اپریشن اسی صورت
میں نتائج دے سکتا ہے جب مغربی دنیا حقائق کی
بنیادوں پر نتائج اخذکرے۔کابل میں ناٹو فتح سے
بہت دور ہے جیسے وہ ہفتہ مہینہ یا سال پہلے
تھی۔بموں اور میزائلوں کی بھرمار سے زمین پر
فوجی قبضہ توممکن ہے مگر اسے سیاسی رضامندی
کہنا نادانی ہوگی۔سیاسی استحکام سیاسی مفاہمت
اور مذاکرات سے ممکن بنتے ہیں۔فلپ رائے زنی
کرتے ہیں امریکہ کرزئی کو مجبور کرے کہ وہ
اپنے مخالفین سے مکالمہ کرے۔مسلح افواج میں
اضافہ تب باراور ثابت ہو سکتا ہے جب کابل میں
مخلوط سرکار وجود میں ائے اور تمام گروپ اسکا
حصہ ہوں۔برطانیہ واپسی کے شیڈول پر توجہ
دے۔برطانوی فوج کی واپسی کے مرحلے کو افغان
نیشنل فورس کے ساتھ نتھی کردیا جائے کہ وہ
انخلا کے بعداپنی سیکیورٹی کا انتظام و انصرام
خود کریں۔اس سلسلے میں سیاستدان اپنا کردار
ادا کریں کیونکہ قومی مفادات کی نگہبانی کرنا
انکے فرائض کا حصہ ہے۔براون نے پاک افغان
سرحدی علاقوں کو دہشت گردی کے گڑھ اور شدت
پسندی کے انکوبیٹرکا نام دیا ہے مگر کیا براون
اس سوال کا جواب دے پائیں گے کیا قابض افواج
کی موجودگی سرحدی علاقوں میں انتہاپسندی کی
شدت میں اضافے کا باعث ہوگی یا کم کرنے کا؟
برطانیہ کی دو بڑی جماعتوں نے قوم سے وعدہ کیا
ہے کہ مئی کے الیکشن کے بعد برطانیہ کی دفاعی
و خارجہ پالیسیوں کو تبدیل کیا جائے گا اور اس
بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ خطرات کی دنیا
میں گھری ہوئی برطانوی مملکت کس طرح اپنی
دفاعی و سلامتی کا فریضہ خود انجام دے سکتی ہے؟
ڈیوڈ کیمرون کے قدامت پسند پیروکار اور براون
کی لیبر پارٹی اس لا یخل جنگ کے حمایتی ہیں
مگر دونوں نتائج سے نااشنا ہیں؟ افغان فورس کو
خواہ کیسی فوجی تربیت کیوں نہ دی جائے وہ
طالبان کے سامنے ریت کی دیوار ہی رہیں گے۔فوج
میں پشتونوں کا حصہ پانچ فیصد ہے۔جنوبی
افغانستان میں پشتونوں کی اکثریت ہے جو طالبان
کے بیانگ دہل سپورٹرز ہیں۔افغان پارلیمنٹ کے
ایک رکن کا کہنا ہے کہ سرکاری فوج ہلمند میں
اتحادیوں کے بغیر چوبیس گھنٹے بھی نہیں نکال
سکتی۔امریکی دو ہزار گیارہ میں کابل خالی کرنے
کا ارادہ رکھتے ہیں۔فلپ اور ہمنواوں کا فلسفہ
ہے کہ برطانیہ کو بھی امریکہ کے ساتھ ہی واپسی
کا شیڈول بنانا چاہیے ۔اگر برطانیہ نے کابل کو
امریکہ سے پہلے خالی کیا تو شکست کا زمہ
برطانیہ کے سر تھوپا جائیگا جیسا کہ عراق میں
قبل از وقت واپسی سے برطانیہ کو کوسننے دئیے
جارہے ہیں۔فلپ نے تمام عوامل پر غور و خوض کے
بعد جنگ کے انجام کے متعلق چشم کشا و بصیرت
افروز پیشین گوئی کی ہے کہ افغانستان میں
افغانوں کے علاوہ کوئی اور جنگ جیت جائے یہ
خام خیالی نادانی اور خوش گمانی ہوگی۔اوبامہ
سمیت سنٹرل کمان کے پیٹر یاس پینٹاگون کے
پالیسی میکرز اور براون گورنمنٹ کے جنگ بازوں
کو فلپ سٹیفنز کے محولہ بالا تجزئیے کی روشنی
میں افغانستان میں جنگی بھٹی بجھا کر افغان
قوم کی ازادی کو تسلیم کرلینا چاہیے ورنہ یہ
بھٹی روز بروز شعلہ جوالہ بن رہی ہے جو اب
طالبان کی بجائے اتحادی فوجیوں کو بھسم کرنے
والی ہے۔
|