|
جہاں
حکمران طاقت و گھمنڈ کے نشے میں کمزور ملکوں
کے وسائل پر ہاتھ صاف کرنے کے شوقین ہوں
جہاںامیر ترین اور سرمایہ دار خلق خدا کو کیڑے
مکوڑے سمجھتے ہوں جہاں جمہوریت کے نام پر
عوامی خواہشات کا قتل کیا جاتا ہو۔ لوگوں کو
سیاسی یتیم سمجھا جائے اور جہاں حکمران زندہ
لاشوں پر بادشاہی کرتے ہوں جہاں دہشت گردی کے
خاتمے کے نام پر انتہاپسندی میں اضافے کے
احمقانہ اقدامات کی پیروی کی جاتی ہو تو وہاں
دہشت گردی و انتہاپسندی کی افزائش فطری عمل ہے۔
پاکستان پر امریکہ دہشت گردی کی دشنام طرازی
کرتا ہے مگر سچ تو یہ ہے کہ امریکہ خود شدت
پسندی کا گڑھ بن رہا ہے۔ریاست چاہے سپرپاور ہو
یا پاکستان کی طرح پسماندہ جب حالات ایسے ہوں
تو پھر سارے ایک سطح پر کھڑے ہوتے ہیں۔پاکستان
میں بقول بابا عبیر ابوزری دھماکوں کی شب برات
مسلسل ہے لیکن وہ جو ہماری حالت زار پر خندہ
استہزا کرتے ہیں انکا حال بھی زیادہ مثالی
نہیں۔ ٹیکساس کے شہر اسٹن میں18 فروری کو
عمارت پر جوزک سٹیک نامی بمبار کے کئے
جانیوالے خود کش حملے نے ہمارے مابین درد کے
رشتوں کا انکشاف کیا ہے۔ جوزف سٹیک لاچار و بے
کس امریکی شہری تھا جس کی فیملی کو اقتصادی
بدحالی نے بہت پہلے سے گھیر رکھا تھا۔وہ
اعصابیت نامی بیماری کا زخم خوردہ تھا۔ وہ
اپنے بچوں اور اہل خانہ کو درپیش معاشی و
سماجی مصائب پر غمناک و شکستہ دل بن چکا تھا ۔یوں
وہ جنگ پر اتر ایا۔جوزف نے پہلے اہل خانہ کو
بند کرکے مکان کو اگ لگائی اور پھر جہاز کو >
انٹرنل ریونیو سروسز< کی عمارت سے ٹکرا دیاجس
نے اسکی زندگی اجیرن کردی تھی۔ یہ ادارہ
ابراہیم لنکن کے دور میں بنا تھا جو ٹیکس
وصولی کا کام کرتا ہے اور کرپشن کے حوالے سے
امریکہ کا بدنام ترین شعبہ ہے ۔irs کے ساتھ
criminle
investigation
ڈویژن نامی
ادارہ منسلک ہے جس کو لامحدود اختیارات حاصل
ہیں۔یہ شعبہ نادہندگان کی املاک ضبط کرتا ہے
اور اسے کسی جائیداد پر قبضہ کرنے کے لئے
عدالت کی اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ جوزف کا
استحصال اسی ادارے نے کیا۔امریکن وزارت خزانہ
کے سابق افیسر
PAUL GREEK
کا کہنا
ہے حکومتی ادارے جوزف پر دہشت گردی کی اصلاح
لاگو کرنے سے انکاری ہیں کیونکہ یہ لفظ
مسلمانوں کے لئے مختص ہوچکاہے۔ جوزف کی تخریب
کاری نے پاکستانیوں کو تڑپا دیا کہ کہیں حادثے
کا تعلق پاکستان کے ساتھ نہ جوڑ دیا
جائے۔پاکستانیوں کی انکھوں سے خوف اور ماتھے
سے خدشات کا پسینہ ٹپک رہا تھا مگر معاملہ اور
نکلا۔ جوزف کی انتہاپسندی کی جو وجہ سامنے ائی
یہ ہے سرمایہ دارانہ نظام ہی امریکہ کو
STRIPTEESE
کررہا
ہے۔یہ مغرب کا ایک رقص ہے جس میں رقاصہ ایک
ایک کرکے اپنے کپڑے اتار دیتی ہے اور برہنہ
ناچ دکھانے لگتی ہے۔ رقص کے دلدادہ سمجھتے ہیں
طوائف نے اپنی مرضی سے یہ کیا مگر ایسا نہیں
ہوتارقاصہ کو بے لباسی پر مجبور کردیا جاتا
ہے۔سرمایہ داریت بھی ننگ کا نام ہے جو نچلے
طبقات کو بے لباس کردیتا ہے۔ یہ بلائی طبقات
کو اپنے پیش بہا حمام میں ننگا کردیتا ہے مگر
زیردست لوگوں کو سربازار ننگا کرتا ہے۔ علاقہ
تبدیل ہو تو ننگے پن کا عمل دوسری کیفیت میں
شروع ہوتا ہے جیسا بے لباسی کہیں زوق و شوق کا
درجہ رکھتی ہے اور کہیں بے غیرتی کا مظہر بن
جاتی ہے۔ ری میسن نامی ادارے کے تازہ ترین
سروے میں امریکی حکومت کو غیر زمہ داری اور بے
حسی کی گالیاں دینے والے لوگوں کی تعداد 79
فیصد جبکہ حکومت کی حمایت کرنے والے21 فیصد
ہیں۔21 فیصد طبقہ اشرافیہ سرمایہ داروں اور
سیاست دانوں کا ہے جو امریکہ پر راج کرتا ہے۔
امریکہ سے ملتی جلتی صورتحال کی سچی تصویر
پاکستان میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں
دیکھی جا سکتی ہے ہمارے سیاست دان مسائل کا
زمہ سابق حکومت کے سرتھوپتے ہیں جو اج حکومت
پر برستے ہیں کل وہی حکمران بنکر سابقین کو
دوشی ٹھرائیں گے۔ری میسن کا تجزیہ بتاتا ہے کہ
امریکہ میں حاکموں اور محکوموں کے درمیان
تفاوت برطانوی سامراجیت کے دور سے ملتا جلتا
ہے۔ امریکی حکمران اور سرمایہ دار لوٹ مار میں
پاکستانیوں افغانیوں بھارتیوں اور خود
امریکیوں کے ساتھ ایک جیسا سلوک کرتے ہیں۔ناگن
کو بھوک ستائے تو وہ اپنے سنپولوں کو ہڑپ
کردیتی ہے۔سرماداریت کے ادم خور ناگن کی طرح
اپنے لوگوں کو ڈسنے سے دریغ نہیں کرتے۔ جوزف
نارمل انسان تھا مگر حوادث زمانہ نے اسے
ابنارمل بناڈالا۔جب کسی شخص کو چاروں اطراف سے
مایوسی دکھائی دے اور جب کسی کو غیر مسلح کرکے
مشکلات کے مقابلے میں اتار دیا جائے تو نتیجہ
خود کش بمباری کی شکل میں برامد ہوگا۔بلی بے
ضرر اور بزدل جانور ہے جب اسے چاروں کونوں سے
گھیر لیا جائے تو شیر سے زیادہ خطرناک بن سکتی
ہے۔ جوزف نے حملے سے پہلے خط لکھا جس میں جلی
حروف کے ساتھ درج تھا تشدد کا بدلہ صرف تشدد
سے ممکن ہے۔ ایک اور واقعے میں امریکی شہری
ٹیری پر قرضے کی ادائیگی کے لئے بنک انتظامیہ
نے اپنا گھر نیلام کرنے کا دباو ڈالا۔ٹیری نے
اپنے گھر کو نیلام کرنے کی بجائے راتوں رات
مسمار کرڈالا۔ ایک سروے میں90 فیصد امریکیوں
نے ٹیری کے عمل کی حمایت کی۔ امریکہ میں
انسانی زندگی پر سود خوری کو فوقیت دی جارہی
ہے۔ فلوریڈا کے ساحلی علاقوں میں لینڈ مافیا
نے ہاہاکار مچا رکھی ہے۔حکومت نے وہاں تعمیرات
پر پابندی عائد کررکھی ہے مگر بڑی تعمیراتی
کمپنیوں و بلڈرز کو لائسنس جاری کئے جارہے
ہیں۔امریکہ کا جو امیج سوویت دور میں تھا اب
وہ ختم ہوچکا ہے۔ امریکہ70 کی دہائی میں
سوشلزم کی راہ روکنے کے جتن کررہا تھا تب اس
نے اپنا سفاک چہرہ شرافت کے نقاب میں چھپا
رکھا تھا۔ماضی میں انسانی حقوق کے بھاشن دینے
والا امریکہ طاقت کے نشے میں ایک طرف باولے و
بدمست ہاتھی کی طرح سب کچھ تلپٹ کررہا ہے تو
دوسری طرف وہ اپنی قوم کا خون چوسنے سے گریز
نہیں کرتا۔ امریکہ ڈالروں کے انبار امریکیوں
اور دنیا بھر کے انسانوں کے چمڑے پر چھاپ رہا
ہے۔نفرت کی جس لہر نے بش کے جنگی جنون سے جنم
لیکر پوری دنیا کو امریکہ مخالف بنادیا تھا
وہی نفرت کی لہریں امریکی قوم کے اندر پیدا
ہورہی ہیں۔ انسانی جذبات سے عاری کوئی نظام
کامیاب نہیں ہوسکتا۔امریکی اشراف کے چیرہ دست
تو فطرت کی تعزیر سے واقف نہیں۔درویش کا قول
ہے معاشرے ناانصاف بن جائیں تو ان میں بھپراو
اجاتا ہے۔ امریکہ کی بقا اسی میں ہے کہ وہ ایک
طرف امریکی قوم کی بے یقینی ختم کرے اور دوسری
طرف وہ اقوام عالم اور امت مسلمہ میں جنگ و
جدال، استحصال ا،فراتفری تخریب کاری اور دہشت
گردی کا دامن چھوڑ دے ورنہ ہر امریکی اور
جہادی جوزف کی طرح تشدد کا جواب رتشدد سے دیگا
جہاں تک امریکہ کی اندرونی سلامتی اور خارجی
پالیسیوں اور سرمایہ دار یت کا تعلق ہے تو یہ
کہنا غلط نہیں کہ امریکہ پاکستان بن رہا ہے۔
|