|
پاکستان
کا شمار ایسی ریاستوں میں ہوتا ہے جہاں قانون
کی حکمرانی غریب، بے آسرا، بے نوا اور سیاسی و
انتظامی چھتری سے محروم شہریوں کیلئے ہے،
صاحبان زو، اعلیٰ حکام، با اثر سیاستدان اور
با رسوخ شہریوں کیلئے قانون کی اہمیت کاغذ کے
ایک پر زے سے زیادہ نہیں ہے۔ تھانہ کلچر پہ ہر
سیاسی و فوجی حکمران نے تنقید کی ۔ پولیس
اہلکاروں کو عوام دوست بنانے کے ہر حکومت نے
دعوے کئے۔ مگر تھانے اور تفتیشی اداروں کے
مراکز عام ملزموں اور بیگناہ شہریوں کیلئے
عقوبت خانے اور با اثر شہریوں کیلئے گیسٹ ہاﺅس
بنے رہے ہیں اور بنے ہوئے ہیں۔ اس صورتحال کو
بہتر بنانے کی کسی دور میں کوئی سنجیدہ کوشش
نہیں کی گئی اور اس کی ایک وجہ حکمرانوں کا
پولیس کو سیاسی مقاصد، ہٹو بچوں اور وی آئی پی
کلچر کیلئے استعمال کرنا ہے۔ سیاسی مخالفین کو
پولیس کے ذریعے ہراساں کرنا بھی محکمہ پولیس
کی خود سری کی ایک وجہ ہے۔
مہذب ممالک میں تھانے اصلاح کا ذریعہ ہوتے ہیں
جہاں مجرم سے نہیں جرم سے نفرت کی جاتی ہے اور
مجرموں کی اصلاح کیلئے مختلف نوعیت کے اصلاحی
پروگرام متعارف کرائے جاتے ہیں ۔ جرم سے نفرت
اور قانون کے احترام کا سبق دیا جاتا ہے۔
ملزموں اور مجرموں کے بنیادی، آئینی اور
انسانی حقوق کا خیال رکھا جاتا ہے۔ سماجی
مرتبے اور دولت و حیثیت کی بناءپر کسی مجرم کو
چھوٹ نہیں دی جاتی۔ مشتبہ اور مشکوک افراد پر
جرم قبول کرانے کیلئے تشدد نہیں کیا جاتا ۔
مگر پاکستانی تھانوں میں یہ سارے کام بڑے
دھڑلے سے انجام پاتے ہیں۔ تھانہ کی سطح کے
پولیس افسر اور اہلکار دہشت کی علامت بن چکے
ہیں ۔ سرکاری وردی میں افسر اور اہلکار دراصل
ماہر نفسیات دان ہوتے ہیں ۔ تھانے آنے والوں
کو بغیر تشد د ہراساں کرنے کے جس قد رگر ان کو
آتے ہیں ۔ شائد کوئی ماہر نفسیات بھی ان سے
آگاہ نہ ہو۔ ایف آئی آر درج کرانے آنے والوں
سے ان کا رویہ المیا ہوتا ہے کہ شکائت لے کر
آنے والے ایف آئی آر درج نہ کرانے میں ہی
عافیت جانتے ہیں۔ حالانکہ پولیس اہلکار ایف
آئی آر کے اندراج سے انکار نہیں کرتے۔ مگر
ایسے حربے آزماتے ہیں کہ شہری اس چکر میں نہ
پڑنے کو ترجیح دیتے ہیں ۔ کسی بیگناہ اور
معصوم مشتبہ اور مشکوک شخص کے سامنے جن کے
بارے میں پولیس والوں کو یقین ہوتا ہے وہ
بیگناہ ہیں۔ مگر صرف اس سے بھاری رشوت ہتھیانے
کیلئے دیگر ملزموں کو اس قدر وحشیانہ انداز سے
تشدد کانشانہ بنایا جاتا ہے کہ بیگناہ شخص
اپنے گھر والوں کو بلا کرانہیں رشوت دے کر
تھانے سے نکلوانے پر اصرار کرتا ہے۔
پاکستان پولیس کو علم ہو جائے کہ کوئی شخص
بیگناہ ہے مگر ان کی جیب نہیں بھر سکتا تو اسے
فوری کسی مقدمے میں ملوث کر کے جیل بھجوا دیا
جاتا ہے ۔ پولیس کسی ایسے شخص کو پکڑے جو بعد
میں سفارش یا عدالتی ذریعہ سے پولیس کو تنگ کر
سکتا ہے ۔ تو یا تو اس سے فوری معافی مانگ کر
اپنے حق میں تحریر لے کر کسی معزز علاقائی
شخصیت کی اس ضمانت کہ گرفتار شخص کوئی
کارروائی نہیں کرے گا کو چھوڑ دیا جاتا ہے ۔
بعض اوقات بلا اپنے گلے سے اتارنے کیلئے جھوٹے
مدعیوں سے درخواستیں دلا کر اور جھوٹے گواہ
تیار کر کے کسی سنگین مقدمہ میں اس طرح جکڑ
لیا جاتا ہے کہ ملزم پولیس کیخلاف کارروائی
بھول کر اپنی جان چھڑانے کیلئے ہاتھ پاﺅں
مارنے لگتا ہے۔ اس صورتحال کی ایک وجہ تو
پولیس کا سیاسی استعمال ہے۔ سیاستدان، وزرا،
حکام جب اپنے سیاسی مخالفین کو غیر قانونی
انداز سے پولیس کے ذریعے ہراساں کراتے ہیں۔
اپنے غیر قانونی افعال پولیس کی سرپرستی میں
انجام دیتے ہیں تو پولیس اہلکار چارہا تو آ گے
جا کر خود بھی انہی حرکتوں میں ملوث ہو جاتے
ہیں اور ان سے غیر قانونی کام کرانے والے اعلیٰ
حکام ان کو روک نہیں سکتے۔ پاکستان میں پولیس
ملازمین کی اخلاقی تربیت کا کوئی نظام نہیں ہے
۔ جب ایک افسر اور اہلکار لاکھوں روپے رشوت دے
کر پولیس میں بھرتی ہوتے ہیں تو وہ دراصل
قانونکی حکمرانی اور جرم کے خلاف لڑنے کیلئے
ایسا نہیں کرتے۔ بلکہ دراصل وہ لاکھوں دے کر
لاکھوں کمانے کیلئے پولیس فورس سے وابستگی
اختیار کرتے ہیں۔ انسپکٹر کی سطح کا ہر افسر
سیاسی سرپرستی حاصل کر کے اپنے علاقے کا بے
تاج بادشاہ بنتا ہے۔ اس کا کام اپنے سیاسی
سرپرستوں کو خوش رکھ کر خود من مانی کرنا ہے ۔
اپنے سیاسی آقا کے کہنے پر وہ کسی بھی شریف
قانون پسند اور بیگناہ کو قاتل، ڈکیت اور
دہشتگرد بنا کر گرفتار کر سکتا ہے۔
ایک اور اہم بات جس پر پارلیمنٹ بھی جان بوجھ
کر توجہ نہیں دیتی۔ وہ ہے کرپٹ اور اختیارات
سے تجاوزکرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف
عدالتی کارروائی کیلئے قانون سازی ہے ۔ ہونا
تو یہ چاہیے کہ جب کوئی ملزم بیگناہ ثابت ہو
جائے اور عدالت اسے باعزت بری کر دے تو ایسے
شخص کو جھوٹے مقدمات میں پھنسانے والے پولیس
اہلکاروں کو عدالت موقع پر سزا دے ۔ لیکن
ارکان اسمبلی تو خود پولیس اہلکاروں کے جرائم
کی سرپرستی کرتے ہیں اور اس کے عوض اپنی
مجرمانہ سرگرمیوں کو قانون کی زد میں آنے سے
بچاتے ہیں۔ پاکستان میں بعض پولیس انسپکٹر، سب
انسپکٹر، اسسٹنٹ سب انسپکٹر اور تھانہ محرر
کروڑ پتی ہیں۔ عالی شان گھروں میں رہتے اور
قیمتی گاڑیوں میں گھومتے ہیں ۔ درجنوں پلاٹوں
پلازوں اور بھاری بنک بیلنس کےمالک ہیں ۔ اعلیٰ
پولیس افسران کے بارے میں بخوبی واقف ہیں۔ مگر
ان کے خلاف کارروائی نہیں کی جاتی اس لئے کہ
اس حمام میں سب ننگے ہیں اور سارے ننگے ایک
دوسرے کے ننگ کو چھپاتے ہیں۔ حال ہی میں فیصل
آباد کے نواحی علاقہ بھوانہ میں پولیس نے ن
لیگ کے ایک ایم پی اے شاہد محمود بھٹی کے حکم
پر کچھ بیگناہ ملزموں کو سر عام چھتر مارے۔ جن
لوگوں کو چھتر کا علم نہیں ان کی اطلاع کیلئے
تحریر ہے کہ چھترٹائر کی کانٹ چھانٹ کر کے
بنایا جاتا ہے۔ جس کی لمبائی ایک سے ڈیڑھ فٹ،
اگلی طرف سے چوڑائی 8 سے دس انچ اور موٹائی
ایک انچ کے قریب ہوتی ہے ۔ پکڑنے کیلئے لکڑی
کی گول مٹھ ہوتی ہے۔ چھتر ملزم کی پشت کو
برہنہ کر کے لگائی جاتی ہے ۔ اس دوران ملزم کو
الٹا لٹکا کر اہلکار اس کی ٹانگیں اور بازو
پکڑ کر اسے زمین سے تھوڑا اوپر اٹھا د یتے ہیں
۔ چھتر ننگی پیٹھ پر برسایا جاتا ہے جس سے
اندرونی چوٹ نہیں آتی ۔ البتہ جلد کی اوپری
تہہ اکھڑ جاتی ہے۔ چھترول کی ضربات کسی طبی
معائنے میں ظاہر نہیں ہوتیں ۔ اس تشدد کے
دوران ملزموں کے بازو کندھے سے اکھڑنے یا ریڑھ
کی ہڈی کے مہرے ہلنے کی بھی شدید خطرہ لاحق
ہوتا ہے۔
میڈیا میں جب اس واقعہ کو اچھا لا گیا تو
پولیس حکام نے عوام کی آنکھوں میں دھول
جھونکنے کیلئے پانچ اہلکاروں کو معطل کرکے
حراست میں لے لیا ۔ لیکن اس غیر انسانی فعل کا
حکم دینے والے ڈی ایس پی اور انسپکٹر پولیس کو
مقدس گائے سمجھ کر چھوڑ دیا گیا۔ انکوائری میں
شاہد محمود بھٹی ایم پی اے کو بھی نامزد کیا
گیا مگر خادم اعلیٰ پنجاب ہونے اور پولیس کو
نکیل ڈال کر عوام دوست بنانے کے دعویدار وزیر
اعلیٰ شہباز شریف نے شاہد محمود بھٹی کیخلاف
انکوائری رکوا کر تفتیشی کمیٹی تشکیل دیدی ۔
اور پاکستان میں کسی واقعہ کی تحقیقات کیلئے
قیام کا مطلب اس واقعہ پر مٹی ڈالنا ہے اور
خادم اعلیٰ نے اپنے رکن اسمبلی کو بچانے کیلئے
واقعہ پر مٹی ڈال دی۔ ایسا ہی ایک ننگ ان نیت
معاملہ ڈسکہ میں پیش آیا۔ جہاں ن لیگ سے
متعلقہ مقامی ایم پی اے کے دباﺅ میں پولیس ایک
محنت کش کے سات سالہ بچے سے زیادتی کا مقدمہ
درج کرنے سے انکاری ہے ۔ جبکہ اس محنت کش کی
مدد کرنے پر انہی با اثر غنڈوں نے ایک صنعتکار
سماجی ورکر کو اغوا کرنے کے بعد اس کی ٹانگیں
توڑ دیں۔ مگر مقدمہ تاحال درج نہیں ہو سکا اور
اس تمام واقعہ کے سرپرست حکومتی جماعت کے رکن
صوبائی اسمبلی ہیں۔
فیصل آباد میں گزشتہ دنوں ایک کالعدم مذہبی
تنظیم نے مخالف فرقہ کی مسجد پر حملہ کر کے
توڑ پھوڑ کی۔ جس کے خلاف اہلسنّت کی تنظیموں
نے ملک بھر میں احتجاج کیا۔ مگر کالعدم تنظیم
کے عہدیداروں اور کارکنوں کے خلاف کوئی
کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ اس لئے کہ
پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناءاللہ اس تنظیم
کے سرپرست ہیں۔ اور یہ تنظیم ان کی سیاسی
اتحادی ہے۔ پولیس فورس جب حکمرانوں کے جرائم
کی سرپرستی کریگی اور حکمران پولیس کے جرائم
کی پردہ پوشی کرینگے تو پولیس فورس سے کسی
نیکی یا قانون کی عملدرای کی توقع رکھنا فضول
اور احمقانہ ہے۔ سچ یہ ہے کہ پاکستانی پولیس
کا قبلہ اگر درست ہو جائے تو ملک سے 80 فیصد
جرائم از خود ختم ہو جائیں گے۔ لیکن اگر محکمہ
پولیس کے اندر ہی جرائم پیشہ عناصر پولیس کی
چھتری تلے پل رہے ہوں تو جرائم میں کمی کا
تصور کیسے کیا جا سکتا ہے؟
|