اعوذ             باالله من             الشيطن             الرجيم                بسم الله             الرحمن             الرحيم                الحمد لله              رب             العالمين .             الرحمن             الرحيم . ملك             يوم الدين .             اياك نعبد و             اياك             نستعين .             اهدناالصراط             المستقيم .             صراط الذين             انعمت             عليهم '             غيرالمغضوب             عليهم             ولاالضالين

WWW.URDUPOWER.COM-POWER OF THE TRUTH..E-mail:JAWWAB@GMAIL.COM     Tel:1-514-250-3200 / 0333-585-2143       Fax:1-240-736-4309

                    

 
 

Email:-raufamir.kotaddu@gmail.com 

Telephone:-       

 

 

تاریخ اشاعت15-03-2009

 ۔نئی اکائیوں کی تشکیل لازم کیوں؟

 

روئے ارض کے جغرافیائی نقشے پر جتنی ریاستیں معاشی سماجی صنعتی اور سیاسی میدان میں ترقی کی بلند و اہنگ چوٹیوں کو چھو رہی ہیں وہاں ریاستی یکجہتی عروج پر ہے۔یاد رہے کہ ریاستی یکجہتی اور سیاسی وحدت کے مقاصد وفاقی طرز حاکمیت سے ہی ممکن بنائے جاسکتے ہیں۔ وفاقی نظام میں

SOCIAL CONTRACT

 کی رو سے صوبائی اکائیاں نظام کے استحکام اور دیر پا سلامتی کے لئے ناگزیریت کا درجہ رکھتی ہیں۔ سوشل کنٹریکٹ وفاق اور اکائیوں کے درمیان اختیارات کی تقسیم وسائل کی منصفانہ تقسیم اور توازن کا کام سرانجام دیتا ہے۔وفاقیت کی تعریف امریکی سیاہ فام مصلوب رہنما کنگ لوتھڑ نے یوں کی تھی کہ قومی وحدتوں اور سیاسی ضرورتوں کی بنیاد پر استوار ہونے والا وفاق صوبوں کے مابین سیاسی معاشی تہذیبی ثقافتی اور ائینی امور پر پیدا ہونے والے اختلافات کو باہمی رضابندی سے طے کروانے کا پابند ہوتا ہے۔ یورپی یونین کے کئی ممبر ملک اپنے ہاں وفاقیت کے احیا کے لئے ہوم ورک کررہے ہیں کیونکہ وفاقیت کے ثمرات دیر پا ہوتے ہیں۔ وفاقیت کی مدد سے سیاسی انتشار و عدم استحکام کی جگہ قومی یکجہتی سے مستفید ہونے والے ملکوں میں ارجنٹائن بھارت، اسٹریلیا کینیڈا برازیل وغیرہ شامل ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان میں برائے نام وفاقیت قائم ہے تاہم ہر دور میں اکائیوں اور اسلام اباد کے مابین رنجش اور جوہری صورتحال رہی ہے۔دوسری طرف ابتداہی سے ارباب اختیار نے وفاقی اکائےیوں کی تقسیم منصافانہ انداز میں نہیں کی یوں بلوچستان سندھ اور سرحد میں پاکستانیوں کے دلوں میں بغاوت نے جنم لیا۔سندھ و بلوچستان میں کئی علحیدگی پسند تنظیمیں برسرپیکار ہیں۔ اگر ہم اکائیوں کے موضوع پر پاکستان کا تقابل افغانستان سے کیا جائے تو ہمیں ہزیمت ہوتی ہے۔ کابلی کی راجدھانی23 اکائیوں پر مشتعمل ہے ۔کابل میں پشتو بروہی تاجک ازبک فارسی سمیت درجنوں زبانیں بولی جاتی ہیں گو کہ افغانستان کھنڈرات بن چکا تاہم تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتاہے کہ وہاں کابل اور صوبوں کے درمیان کوارڈینیشن موجود ہے۔کابل کی تاریخ بتاتی ہے کہ وفاقیت اور اکائیوں والا نظام ازمنہ قدیم سے چلا ارہا ہے۔ اس حوالے سے ایران کی پوزیشن تو قابل داد ہے۔ایران میں ارزش، لوری کازندانی بلوچی، فارسی، گیلاکی اور عربی، جدگالی زبانیں اپنے کمالات دکھاتی ہیں مگر مرکز اور صوبوں کے درمیان تضاد نہیں۔ ۔ عراق اور ترکی کے کردوں کی تحریک ازادی کے اثرات ایرانی کردوں پر موجود ہیں۔ اسی طرح ایرانی بلوچستان باڈر پر پاکستانی بلوچستان سے جڑا ہوا ہے۔یوں کوئٹہ کی قومی جدوجہد ایرانی بلوچستان کو متاثر کرتی ہے۔بھارت ازاد ہوا تو 16 صوبے تھے تاہم اب28 ہیں۔انڈین وفاق نئے صوبوں کی تعداد پر غور کررہا ہے۔ بھارت میں ارتقا پزیر سیاسی نظام لاگو ہے،بھارتی ائین نے نئے یونٹس کی ضمانت دی ہوئی ہے۔بھارت نے قیام کے بعد ہی صوبوں کی تعداد بڑھانے کا اہتمام شروع کرد یا تھا۔ بھارت میں نسلی گروہی بنیادوں پر صوبے قائم ہیں۔ ہندی قومی زبان ہے مگر بھارتی سرکار نے 21 دیگر زبانوں کو بھی سرکاری زبانوں کا درجہ دیا ہے۔بھارت میں صرف تارکین وطن سندھی زبان بولتے ہیں سندھی بھی سرکاری زبان کا شرف حاصل کرچکی ہے۔۔ سری لنکا میں دوبڑی قومیں تامل اور سنہالی قومیں موجود ہیں۔سرعی لنکا کی کل ابادی کا73 فیصد سنہالی زبان کا دیدہ ور ہے۔ تامل12.6 فیصد ہیں۔ بھارتی تاملوں کی تعداد 5.2 فیصد ہے۔یوں تامل بولنے والوں کی تعداد18 فیصد ہے۔ سری لنکا میں7.4 فیصد مسلمان اباد ہیں جو تامل ہیں۔سنہالی اور تامل بالترتیب بدھ مت اور ہندوازم کے پیروکار اور تسبیح خواں ہیں۔ جرنیلوں نے سیاسی لوٹوں کو استعمال کرکے پاکستان میں کئی نظام متعارف کروائے۔ غیر منصفانہ وفاقی نظام کو متعارف کروا کر فوجی جرنیلوں نے ہوس اقتدار کی راہ اپنا لی۔اس قسم کی چھینا جھہٹی میں ادھا ملک بذدلی ،امریت اورجرنیلوں کی دریدہ دہنی کے دریا میں ڈوب گیا۔ وفاق پاکستان میں اکائیوں میں منقسم قومیں اپنا تہذیبی ورثہ، تشخص، بود و باد اور مشترکہ اقتصادی مفادات رکھتی ہیں۔ لوئر پنجاب میں 5کروڑ سرائیکی جاگیرداریت کی ہتھکڑیوں استحصال کی بیڑیوں اور مفلسی کے شکنجوں میں کسے ہوئے پانچ دہائیوں سے اپنے صوبے کی راہ تک رہے ہیں۔بہاولپور ،ملتان اور ڈی جی خان ڈویژن سرائیکی یونٹ کا حصہ ہیں تاریخ میں کوئی ایسا رذکرہ نہیں ملتا کہ یہ علاقے کبھی تخت پنجاب کے ساتھ منسلک تھے۔ ملتان وسیب کا دل ہے جو رنجیت سنگھ کے دور میں صوبہ تھا تاہم رنجیت سنگھ کے اکھڑ مزاج بیٹے کڑک سنگھ نے اسے زبردستی پنجاب میں ضم کردیا۔ فوجی ڈکٹیٹر نمبر دوم>ٍ بادہ و جام <سے پہلے بہاولپور ایک روز کے لئے پنجاب کا دست نگر نہیں بنا تھا۔بہاولپور ازاد و خوشحال ریاست تھی جو1748 سے لیکر1947 تک قائم و دائم رہی۔قیام کے فوری بعد سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بہاولپور کی ریاست ادا کرتی تھی۔بھارت نے عباسی خاندان کو سہانے سپنوں کی اڑ میں الحاق بھارت افر دی جسے نواب عباسیوں نے محبت قائد اور عشق پاکستان کی بدولت دھتکار دیا ۔بہاولپور کی صوبائی گورنمنٹ1952 تک قائم تھی اور بعد میں ایٹیبلشمنٹ نے ون یونٹ میں ضم کردیا۔زرداری صاحب نے ایگزیکٹو اڈر کے زریعے گلگت و بلستتان کو نیا صوبہ مقرر کردیا ہے۔ گلگت میں صوبائی کابینہ اور اسمبلی وجود میں اچکی ہے یوں شمالی علاقہ جات کے لوگوں کو انکی شناخت مل گئی مگر المیہ تو یہ ہے کہ 10ہزار سالہ قدیم تہذیب و شناخت رکھنے والے سرائیکیوں کے لئے ملتان اور بہاولپور کی صوبائی اتھارٹی بحال ہوسکی۔ رضا ربانی کی ائینی نے سرائیکی یونٹ پر غور ہی نہیں کیا۔ عالمی حالات کے تناظر میں بے پناہ مسائل میں جکڑی ہوئی اشرافیہ اپنی کمزوریوں کے باوجود پاکستان کو مضبوط منصفانہ اور حقیقت پسند ا نہ ملک بنانے کی اہلیت رکھتی ہے۔ہمارے پالیسی ساز کوتاہ بین، کج فہم اور دانش و بنیش سے تہی داماں ہیں۔سرائیکی خطے کے یوسف رضا گیلانی سرائیکی صوبے کے پرزور حامی رہے ہیں تاہم اب انکا نقطہ نظر تبدیل ہے کہ سرائیکی صوبے کے نام پر پنڈورہ باکس کھل جائیگا۔ گیلانی صاحب نے بلوچوں کے لئے اربوں کا پیکج منظور کیا ہے مگر 5کروڑسرائیکیوںکو سسکنے بلکنے اور مرنے کے لئے نظر انداز کردیا۔ کیا سرائیکی بھارت کے ایجنٹ ہیں کہ نظر انداز کیا جارہا ہے؟ اگر نہیں تو پھر پانچ کروڑ کے بنیادی حقوق غصب کیوں؟ سرائیکی خطے نے ہر دور میں چاہے وہ تپتی ریت کا زمانہ تھا یا پھولوں کی مہک والا موسم بہار ہر دور میں ppp کو سرائیکیوں نے جتوایا یہ ریکارڈ ایشو ہے۔سرائیکیوں نے قائد عوام اور دختر مشرق کی شہادت پر جی بھر کر انسو بہائے اور سرائیکیوں کی عقیدت پچھلے 40سالوں سے گڑھی خدا بخش کی قبروں کے ساتھ ساتھ موسوم ہوچکی مگر ppp سرائیکیوں کو صوبائی حق عطا کرنے کی بجائے ٹال مٹول و پس و پیش سے کام لے رہی ہے۔اگر مرکزی حکومت ریاستی اتحاد، مضبوط و توانا پاکستان، وسائل کی عادلانہ تقسیم اور انصاف کی چاندنی کا روپ دیکھنے کی خواہش مند ہے تو پھر لوئر پنجاب اور ڈی ائی خان کو ملا کر سرائیکی صوبے کا اعلان کرے۔گیلانی صاحب نے وزیراعظم کی حثیت سے سرائیکیوں کو انکی شناخت مہیا نہ کی تو پھر چیتھڑے پہن کر گھومنے والے مفلس و نادار سرائیکی کسی دن کھڑاک کردیں گے کیونکہ جب حبس بڑ ھ جائے تو پھر بارش لازم ہوا کرتی ہے۔ یہاں کے باسیوں کے دلوں میں شعور کا دیا روشن ہوچکا۔جذبات میں باغیانہ رسم و رواج کی فصل پک چکی ، یاد رہے کہ اگر پی پی پی کے دونوں بگ باسز زرداری اور گیلانی نے سرائیکیوں کو صوبائی خود مختیاری نہ دی تو ایک طرف باغیانہ جذبات بغاوت کی روح پرور تحریک میں بدل جائیں گے تو دوسری جانب پاکستان مضبوط وفاق کا سپنا پورا نہ کرسکے گا۔ ائے اقتدار کے ایوانوں میں محو استحرات صا حبو ہوش کرو ورنہ یہاں بھی سقوط ڈ ھاکہ کی کہانی نئے سرے سے لکھی جانے کی منتظر ہے۔زرداری صاحب کی مقبولیت ڈانواڈول ہے۔اگر وہ قائد عوام کی طرح عوامی دلوں پر راج کرنا چاہتے ہیں تو پھر انہیں نئے صوبے کا ہنگامی اعلان کرنا چاہیے وہ ایسا کرکے پانچ کروڑ جانثار سرائیکیوں کے مسیحا بن سکتے ہیں۔خدا راہ صدر صاحب پانچ کروڑ کے دستے کی کمان سنھال لیں ورنہ۔۔۔؟
 

 

E-mail: Jawwab@gmail.com

Advertise

Privacy Policy

Guest book

Contact us Feedback Disclaimer Terms of Usage Our Team