سمندر میں گرنے والے مصری طیارے کے ملبہ کی تلاش جاری، دہشت گردی کا امکان

ایتھنز(مانیٹرنگ ڈیسک)گزشتہ روزسمندر بردہونے والے مصری ایئر لائن کے طیارے کے ملبہ کی تلاش کا کام تاحال جاری ہے۔یونان کے جزیرے کیرپاتھوس کے قریب جاری تلاش کے عمل میں مصری،فرانسیسی،یونانی اور برطانوی فوجی شامل ہیں۔
جمعرات کو تباہ ہونے والے مصری ایئر لائن کی ایئر بس اے 320 میں دونومولود بچوں اور عملہ کے دس افراد سمیت 66افراد سوار تھے جو فرانسیسی دارالحکومت پیرس سے مصری دارالحکومت قاہرہ جا رہے تھے۔جہاز میں 30 مصری، 15 فرانسیسی، دو عراقی، جبکہ برطانیہ، بیلجیئم ، پرتگال، چاڈ، سوڈان، الجزائر ، کینیڈا، کویت اور سعودی عرب کا ایک ایک باشندہ سفر کر رہا تھا۔
قبل ازیں ایسی اطلاعات ملی تھیں کہ مصری طیارے کا ملبہ یونانی جزیرے کیرپاتھوس سے مل گیا ہے ۔تاہم یونان کے ہوائی بازی کے حادثات کے چیف تفتیش کار کا کہنا ہے کہ یونان کے جزیرے کے قریب جو ملبہ ملا ہے وہ مصری ایئر لائن کی ایئر بس 320 کا نہیں ہے۔اس حوالے سے ایئر لائن کے نائب چیئرمین احمد عدیل نے تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپریشن کے دوران غلطی ہوئی جس کی وجہ سے یہ خبر جاری کی گئی کہ ملبہ مل چکا ہے۔
مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے تلاش میں مزید شدت لانے کی ہدایات کی ہیں۔جبکہ اعلیٰ حکام نے واقعہ کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔
تاحال یہ خدشات بھی برقرار ہیں کہ طیارہ حادثے کے بجائے دہشت گردی کا شکا ر ہوا ہے۔جیسا کہ 7ماہ قبل مصر کے صحرائے سینا کے مقام پر بھی ایک روسی طیارے کو ایئر کرافٹ سے تباہ کرنے کے داعش کے دعوے سامنے آئے تھے۔
مصری ایوی ایشن کے وزیر شریف فیتھی کہہ چکے ہیں کہ میں دوسروں کی طرح فرض نہیں کرتا لیکن حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس بات کے زیادہ امکانات دکھائی دیتے ہیں کہ طیارہ حادثہ کے بجائے دہشت گردی کا شکار ہواہے ۔روسی داخلی سکیورٹی ایجنسی کے سربراہ الیگزینڈر بورٹینکوف نے بھی ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا ہے کہ طیارے پر حملہ ہوا ہے۔
ری پبلکن جماعت سے تعلق رکھنے والے امریکی صدارت کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اس حوالے سے کہتے ہیں کہ ”طیارے کو ہوا میں اڑایا گیا“۔لیکن تاحال نہ تو داعش اور نہ ہی القاعدہ نے ایسی کسی کارروائی کی ذمہ داری قبول کی ہے۔مزید یہ کہ امریکی سیٹلائٹ نے بھی ایسی کسی چیز کو نہیں دیکھا جسے طیارے پر حملہ قرار دیا جا سکے۔
دوسری جانب طیارے کے حادثہ میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین ابھی تک اضطراب کا شکار ہیں اور اپنے پیاروں کے انجام سے آگاہ ہونے کیلئے بے چین ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں