شہر میں بغیر کلورین ملا پانی فراہم کیا جانے لگا، اموات کا خدشہ

کراچی: شہریوں کو بغیر کلورین ملا پانی فراہم کیاجارہاہے جس کے باعث نگلیریاسے اموات کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق محکمہ صحت کی جانب سے ماہرین پر مشتمل انسداد نگلیریاکمیٹی تشکیل دی جاتی ہے۔ جس میں مختلف ماہرین شامل ہوتے اورکراچی کے مختلف علاقوں میں جاکرپانی کے نمونوں حاصل کرکے کلورین کی مقدار بتاتے ہیں جس کی رپورٹ محکمہ صحت اورمتعلقہ حکام کوارسال کی جاتی ہے جس کی روشنی میں اقدامات کیے جاتے ہیں، تاہم امسال پانی میں کلورین کی مطلوبہ مقدارکوچیک کرنے کے لیے کمیٹی ہی تشکیل نہیں دی جاسکی جس کے باعث نگلیریا سے اموات کا خدشہ پیدا ہوگیاہے۔ واضح رہے کہ ان دنوںشہرقائدمیں شدیدگرمی پڑرہی ہے جس میں نگلیریا کا جرثومہ نشوونماپاتاہے، گزشتہ سال نگلیریا نے 14 افراد کی جان لے لی تھی۔
ادھر کراچی کے ڈائریکٹر ہیلتھ ڈاکٹر عبدالشکور عباسی نے واٹر بورڈ حکام کومکتوب لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کراچی کے عوام کو فراہم کیے جانے والے پانی میں کلورین کی مطلوبہ مقدار کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں کیونکہ کراچی کاموسم گرم ہونے اور 36ڈگری سینٹی گریڈ ہونے پراس بات کے قومی امکانات ہوگئے کہ پانی میں نگلیریاکا جرثومہ تیزی سے اپنی نشوونما کرتاہے ، پانی میں کلورین کی مقدار کو شامل کرنا واٹربورڈ حکام کی ذمے داری ہوتی ہے تاہم مقدارکو چیک کرنا محکمہ صحت کی بنیادی ذمے داری ہوتی ہے ،ماہرین طب کاکہناہے کہ نگلیریاکاموسم مئی سے شروع ہوتاہے جو اگست تک جاری رہتاہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں