پاک-افغان طورخم بارڈر 5 دن بعد کھول دیا گیا

پشاور: پاک-افغان سرحد پر طورخم بارڈر کو 5 دن بعد کھول دیا گیا، جبکہ کرفیو بھی اٹھالیا گیا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دونوں جانب کی سرحدی انتظامیہ نے ہفتہ 18 جون کو علی الصبح ملاقات کی اور طورخم گیٹ کو کھولنے کا فیصلہ کیا۔

ڈان نیوز کے مطابق بارڈر کھلنے سے قبل دونوں جانب سے آفیسرز کے درمیان فلیگ میٹنگ ہوئی۔

میٹنگ کے بعد پاک-افغان فورسز کے درمیان تحائف اور پھولوں کا تبادلہ ہوا، جس کے بعد باضابطہ طور پر بارڈر کو کھول دیا گیا۔

پاک فورسز نے طورخم بازار سے کرفیو بھی ختم کرنے کا اعلان کر تے ہوئے بازار کو کھول دیا۔

بارڈر کھلنے کی اطلاع ملتے ہی دونوں جانب سے مسافروں کی بڑی تعداد پہنچ گئی اور گاڑیوں کی آمدورفت کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق طورخم بارڈر پر زیر تعمیر گیٹ کو افغان فورسز کی فائرنگ کے نتیجے میں جان کی بازی ہارنے والے میجر علی جواد کے نام سے منسوب کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق بارڈر کراس آنے والوں کی سفری دستاویزات کو مکمل طور پر چیک کیا جائے گا اور صرف ان ہی افراد کو طورخم کے راستے پاکستان میں داخلے کی اجازت دی جائے گی، جن کی سفری دستاویزات مکمل ہوں گی۔

یاد رہے کہ رواں ماہ 12 جون کو پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی بارڈر طورخم پر گیٹ کی تعمیر کی وجہ سے شدید جھڑپ ہوئی تھی۔

طورخم بارڈر پر افغان سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے 3 پاکستانی سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 13 افراد زخمی ہوگئے تھے،جس کے بعد طورخم سے لنڈی کوتل بازار تک کرفیو نافذ کردیا گیا اور پاکستان نے افغان سے شدید احتجاج کیا تھا۔

بعدازاں میجر علی جواد زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ گئے تھے ۔

جھڑپوں کے 3 دن بعد پاکستان اور افغانستان کی سرحدی انتظامیہ نے طورخم سرحد پر جاری کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے جنگ بندی پر اتفاق کرتے ہوئے سرحد کے دونوں جانب سفید جھنڈے لہرا دیئے تھے۔

ذرائع کے مطابق طورخم بارڈر پر پاکستانی سائیڈ پر گیٹ کی تعمیر کا کام جاری ہے اور سرحد کی دونوں جانب مسافروں کی آمدورفت کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا ہے۔

واضح رہے کہ افغان حکام کو طورخم بارڈر پر پاکستان کی جانب سے گیٹ کی تعمیر اور خاردار تاروں پر اعتراض ہے اور اس حوالے سے کشیدگی 2 ماہ سے جاری ہے۔

گذشتہ ماہ طورخم بارڈر کراسنگ پر باڑ لگانے کے تنازع کے باعث کراسنگ کئی روز تک بند رہی تھی، جبکہ دونوں ممالک نے اپنے اپنے سرحدی علاقوں میں اضافی فوج اور بکتر بند گاڑیاں بھی تعینات کردی تھیں۔

طورخم گیٹ پر آمدوروفت بند ہونے کے باعث عام لوگ شدید مشکلات سے دوچار ہوگئے تھے۔

خیال رہے کہ گذشتہ کچھ سالوں سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات انتہائی کشیدہ رہے ہیں اور دونوں ممالک ایک دوسرے پر دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کی موجودگی اور ان کی جانب سے سرحدی علاقوں میں حملوں کا ذمہ دار قرار دیتے آئے ہیں۔

حالیہ کشیدگی طورخم بارڈر پر گیٹ کی تعمیر کی وجہ سے پیدا ہوئی، پاکستان کا موقف ہے کہ سرحد پر لوگوں کی نقل حمل پر نظر رکھنے، منشیات کی اسمگلنگ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے کیے جانے والے انتظامات اور سہولیات، انسداد دہشت گردی کے اقدامات کا حصہ ہیں۔

اس حوالے سے وزیراعظم کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز نے کہا تھا کہ طورخم بارڈر پر گیٹ کی تعمیر کرکے پاکستان کسی بھی معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کررہا اور وہ موثر حفاظتی انتظامات کے لیے اس منصوبے پر کام جاری رکھے گا۔

سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ سرحدی انتظامات کو مضبوط بنائے بغیر، سرحد کے دونوں جانب امن و استحکام ممکن نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں