سحر و افطار میں پانی اور جوسز کا زیادہ استعمال روزہ داروں کیلئے مفید، ماہرین

اسلام آباد : طبی ماہرین نے لوگوں پر زور دیا ہے کہ وہ سحری اور افطار کے دوران پانی اور جوسز کا استعمال زیادہ کریں تاکہ روزہ کے دوران جسم میں پانی کی مطلوبہ مقدار برقرار رہے۔پمز کے سینئر ڈاکٹر وسیم خواجہ نے ”اے پی پی“ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو چاہئے کہ وہ افطاری اور سحری کے اوقات میں کم از کم 8 سے 10 گلاس پانی اور دوسرے دیگر مشروبات کا استعمال کریں۔ان کا کہنا ہے کہ صحت مند غذا میں چاول، براﺅن بریڈ، دودھ، لسی اور دہی وغیرہ شامل ہیں، افطاری کے دوران بالخصوص سبزیوں کا سوپ، اُبلا ہوا گوشت، کم مصالحوں سے تیار شدہ گوشت، کھجوریں اور وقفہ وقفہ سے پانی کا استعمال کرنا چاہئے۔
ڈاکٹر وسیم نے شوگر کے مریضوں سے کہا کہ وہ ڈاکٹر کے مشورہ پر روزہ رکھیں اور اپنے جسم میں شوگر لیول کے معیار کو چیک کرتے رہیں، دل، جگر اور گردے کے مریضوں کو ڈاکٹر کے مشورہ سے روزے رکھنے چاہئیں۔
انہوں نے روزہ داروں سے کہا کہ وہ دھوپ میں چلنے پھرنے سے گریز کریں اور ہلکا لباس پہنیں، بوقت ضرورت باہر نکلنے کے دوران چھتری کا استعمال کریں۔
دریں اثناء پولی کلینک اسپتال کے ڈاکٹر شریف استوری نے کہا کہ سحری اور افطاری کے دوران متوازن غذا کا استعمال صحت کیلئے مفید ہے، متوازن غذا کے ذریعے جگر کی پیچیدگیوں اور کولیسٹرول پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں