60 سے زائد افراد کی جان بچانے والا ‘مسلمان میرین’

واشنگٹن: ایک مسلمان نے اورلینڈو میں ہم جنس پرستوں کے کلب میں حملے میں 60 افراد کی زندگیاں بچائی تھیں۔

امریکی میڈ یا کے مطابق اورلینڈو میں ہم جنس پرستوں کے نائٹ کلب میں 60 سے زائد افراد کی زندگی بچانے والے مسلمان عمران یوسف تھے جو سابق امریکی میرین کے سابق اہلکار ہیں۔

عمران یوسف امریکی بحریہ فوج سے ریٹائر ہونے کے بعد ہم جنس پرستوں کے نائٹ کلب میں بطور سیکیورٹی گارڈ کی نوکری کررہے تھے۔

عمران یوسف 12 جون کو یعنی کلب پر حملے والے دن بھی اپنے فرائض انجام دے رہے تھے، اس دن حملہ آور عمر متین نے ئانٹ کلب میں فائرنگ سے 50 افراد کو ہلاک اور 53 افراد کو زخمی کردیا تھا ۔

عمران یوسف نے امریکی میرین کے لیے افغانستان میں خدمات سرانجام دینے کے بعد ریٹائرمنٹ لی تھی اور پھر کلب کو جوائن کیا تھا، انہوں نے امریکی میڈیا سی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ رات کے تقریبا 1:45 بج رہے تھے کہ فائرنگ کی آوازیں آنی شروع ہوئیں اوروہ تیزی سے پچھلے دروازے کی جانب بھاگے، انہوں نے فائرنگ کے دوران 60 سے زائد افراد کو باہر نکالا۔

عینی شاہدین کے مطابق عمران یوسف اپنی جان کی پروا کیے بغیر نائٹ کلب میں پھنسے ہوئے لوگوں کو باہر نکالتے رہے۔

واضح رہے کہ عمران یوسف کا خاندان دہائیوں قبل ہندوستان سے ہجرت کرکے پہلے گیانا اور پھر امریکا منتقل ہوگیا تھا۔

وہ جون 2010 سے مئی 2016 تک امریکی میرین میں بطور ٹیکنیشن سسٹم الیکٹریکل ایکوپمنٹ انجنیئرکام کرتے رہے اور 2011 میں ان کو افغانستان میں تعینات کردیا گیا تھا۔

انہوں نے اپنی سروس کے دوران نیوی، میرین کارپس اچیومنٹ میڈل، سی سروس ڈیوپلمنٹ رابن، کورین ڈیفنس سروس میڈل اور افغانستان کیمپین میڈل جیتنے کا اعزاز حاصل کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.