عمران خان کا پارٹی کے ریجنل صدور نامزد کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد: رمضان کے بعد حکومت کے خلاف سڑکوں پر آنے کی تیاریوں کے سلسلے میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان جلد ہی ریجن کی سطح پر پارٹی سربراہوں کو نامزد کریں گے۔

پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن سے قبل پارٹی کا پورا انتظامی ڈھانچہ تحلیل کردیا گیا تھا تاہم یہ الیکشن رواں برس نہیں ہوسکے، اب پاناما گیٹ کے معاملے پر کارکنوں کو یکجا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہر ریجن میں پارٹی ہیڈ موجود ہوں اور اس حوالے سے قیادت پر شدید دباؤ ہے۔

پی ٹی آئی چیف عمران خان کے ترجمان نعیم الحق نے بتایا کہ اس حوالے سے تفصیلی مشاورت ہوچکی ہے اور جلد عمران خان مختلف عہددوں کے لیے نامزدگیاں شروع کردیں گے۔

نعیم الحق نے کہا کہ مثال کے طور پر پنجاب میں چار ریجنز ہوں گے شمالی، غربی، وسطی اور جنوبی، ان ریجنز کے لیے پارٹی صدور کے ناموں کا اعلان کیا جائے گا جو براہ راست عمران خان کو جوابدہ ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگلے مرحلے میں ضلعی سربراہان کو نامزد کیا جائے گا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اب انٹراپارٹی الیکشن کو خیر باد کہہ دیا گیا ہے تو نعیم الحق نے پاناما پیپرز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کچھ ایسے حالات پیدا ہوگئے کہ فی الحال پارٹی الیکشن کو ملتوی کرنا پڑا۔

نعیم الحق نے مزید کہا کہ عمران خان پارٹی میں حقیقی جمہوریت لانے کے لیے پر عزم ہیں جو الیکشن کے ذریعے ہی آسکتی ہے۔

بہرحال، آزاد مبصرین یہ سمجھتے ہیں کہ جس طرح عام انتخابات سے قبل پاناما گیٹ کا معاملہ قومی سیاسی ایجنڈے کی سمت کا تعین کررہا ہے اس کو دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ پی ٹی آئی میں مستقبل قریب میں انٹرا پارٹی الیکشن ہونے کا کوئی امکان نہیں۔

واضح رہے کہ عمران خان انٹرا پارٹی الیکشن کے حوالے سے بہت پرجوش تھے، جو رواں برس مئی میں ہونے تھے تاہم پہلے ان کے پارٹی کے چیف الیکشن کمشنر تسنیم نورانی سے اختلافات ہوگئے اور پھر پاناما اسکینڈل سامنے آنے کے بعد تو انہوں نے واضح طور پر اعلان کردیا کہ موجودہ صورتحال میں پارٹی کو حکومت مخالف مہم پر توجہ دینے کی زیادہ ضرورت ہے۔

دوسری جانب سیاسی تجزیہ کاروں اور پارٹی کے اندرونی معاملات سے واقف ذرائع کا ماننا ہے کہ پارٹی کے 2 اعلیٰ رہنماؤں کے درمیان ہونے والے اختلافات نہایت سنجیدہ نوعیت کے تھے جس کی وجہ سے عمران خان کو الیکشن ملتوی کرنا پڑے۔

رواں برس اپریل میں پی ٹی آئی کے سینئر رہنما شاہ محمود قریشی نے بھی جہانگیر ترین سمیت پارٹی رہنماؤں کو کھل کر تنقید کا نشانہ بنایا تھا جو چیئرمین عمران خان کو ناگوار گزرا تھا۔

پی ٹی آئی کے ایک رکن اسمبلی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ میرا خیال ہے انٹرا پارٹی الیکشن کو ابتدائی طور پر اس لیے ملتوی کیا گیا تھا کہ پارٹی قیادت میں موجود اختلافات کو جڑ پکڑنے سے پہلے ختم کردیا جائے۔

انہوں نے بتایا کہ اسی اثناء میں پاناما اسکینڈل سامنے آگیا جو پی ٹی آئی کے لیے فائدہ مند ثابت ہوا تاہم اگر طے شدہ شیڈول کے مطابق الیکشن ہوجاتے تو اب تک پورا عمل مکمل ہوچکا ہوتا۔

انٹراپارٹی الیکشن میں تاخیر کے حوالے سے پی ٹی آئی کے ایک اور سینئر عہدے دار نے کہا کہ ہم یہ جان چکے ہیں کہ پاکستان کے لوگ جمہوری روایتوں سے پوری طرح ہم آہنگ نہیں ہیں۔

انہوں نے 2013 کے عام انتخابات سے قبل پہلے انٹرا پارٹی الیکشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے اس اقدام کے موثر نہ ہونے کا اعتراف کیا تھا کیوں عام انتخابات جیسے اہم موقع پر اس نے پارٹی کی تیاریوں کو متاثر کیا تھا۔

یہ کہانی تو سب کو ہی معلوم ہے کہ پی ٹی آئی کے سابق الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین احمد نے پہلے انٹراپارٹی الیکشن کے بعد سینئر رہنماؤں پر نتائج پر اثر انداز ہونے کا الزام لگایا تھا اور ان کی رکنیت منسوخ کرنے کی بھی سفارش کی تھی۔

پی ٹی آئی عہدے دار نے مزید کہا کہ ضلع اور تحصیل کی سطح پر رہنماؤں کی نامزدگیوں میں شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین جیسے اہم رہنماؤں کو من پسند افراد کو سامنے لانے کا موقع مل جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اگر پارٹی الیکشن ہوتے تو وہ ایسا نہیں کرسکتے تھے تاہم ایسا کرنے سے ان کی انا کو تسکین ضرور مل جائے گی۔

ملک بھر میں پی ٹی آئی رہنماؤں کی نامزدگیوں میں غیرجانبداری کے حوالے سے جب نعیم الحق سے پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ نئے عہدے داروں کو خود چیئرمین نامزد کریں گے اور انتخابی عمل کے حوالے سے کافی مشاورت ہوچکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ چونکہ ہم ایک اہم اور مشکل مشن کے لیے تیاری کررہے ہیں لہٰذا پارٹی کو ہر سطح پر ایسے فعال رہنماؤں کی ضرورت ہے جنہیں عوام کو متحرک کرنے میں مہارت حاصل ہو۔

نعیم الحق نے مزید کہا کہ ہمیں سڑکوں پر آنے کی کوئی جلدی نہیں اور ہم پاناما پیپرز پر بننے والی کمیٹی کو پورا وقت دینا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سڑکوں پر آکر احتجاج کرنا آخری آپشن ہے اور یہ بطور سیاسی جماعت ہمارا حق بھی ہے، ہم چاہتے ہیں کہ اس سلسلے میں دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی آن بورڈ لیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں