چترال میں سیلابی ریلے نے تباہی مچا دی،15 نمازیوں سمیت 31 افراد جاں بحق

چترال(ویب ڈیسک) پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع چترال میں شدید بارشوں کے نتیجے میں آنے والے سیلاب سے 31افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ متعدد زخمی اور لاپتہ ہیں۔

چترال میں سیلابی ریلہ ارسون گاؤں کوبہاکرلے گیا، طوفانی بارشوں کے بعد بپھرے ہوئے پانی کی زدمیں آنے والی ایک مسجد اور 30مکانات بہہ گئے۔

مسجد میں عبادت میں مصروف 10نمازیوں سمیت 21افراد کوپانی بہاکرلے گیا، ڈپٹی کمشنرچترال اسامہ وڑائچ کاکہناہے کہ پانی کی نذرہونے والوں میں سے 6کی لاشیں مل گئی ہیں۔

ڈپٹی کمشنرکے مطابق 4 لاشیں سرحدپارافغانستان سے ملیں ہیں جبکہ بقیہ لاپتہ افرادکی تلاش جاری ہے، سیلاب کےباعث علاقے میں غذا اور پینے کے صاف پانی کی قلت پیداہوگئی ہے۔

اس حوالے سے این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ چترال نالے میں طغیانی سے 7 مکانات تباہ اورایک مسجد شہید ہوئی ہے جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 31 ہوگئی ہے۔

ضلع ناظم چترال مغفرت شاہ نے سیلابی ریلے میں بہنے والے افراد کے ہلاکتوں کی تصدیق کردی ہے ۔

چترال میں شدید بارش سے ندی نالوں میں طغیانی آگئی ہے اور پانی رہائشی علاقوں میں داخل ہوگیا ہے،صوبائی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے این ڈی ایم اے سے فضائی کارروائی کیلئے مدد مانگ لی۔

ضلع ناظم چترال کا کہنا ہے کہ امدادی کاموں میں مدد کے لئے این ڈی ایم اے سے رجوع کیا ہے، سیلاب کے باعث امدادی کاموں میں مشکلات کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہلاک ہونے والوں میں خواتین اوربچےبھی شامل ہیں جبکہ مسجد کی چھت گرنے سے 10 نمازی شہید اور متعدد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے چترال میں سیلاب سے ہونے والی ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کیا ہے، چیئرمین پی ٹی آئی نے کے پی حکومت کو متحرک ہونے کی ہدایت کر دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تغیر کے مہلک اثرات کے تدارک کو قومی سطح پر سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے، اللہ رب العزت وطن عزیز اور قوم کو قدرتی آفات سے محفوظ رکھیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سیلابی ریلے کی زد میں آنے والے شہریوں کے جان و مال کی سلامتی کیلئے فکر مند ہیں،ایک بھی شہری کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جانا چاہیے۔

عمران خان نے صورتحال سے نمٹنے کیلئے ہنگامی حکمت عملی نافذ کرنے کی بھی ہدایت کی اور صوبائی حکومت کو فوری متحرک ہونے اور مقامی آبادی کے مکمل تحفظ کیلئے اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی۔

وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے سیلابی ریلے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین کیلئے فی کس 3 لاکھ روپے امداد کا اعلان کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو امدادی کام جلد از جلد مکمل کرنے اور لاپتہ افراد کی تلاش کا حکم دیدیا ہے۔

ڈی پی او کا کہنا ہے کہ لاپتہ افراد میں 8سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں جبکہ خاتون اور اس کے چار بچے بھی لاپتہ ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں