اعوذ             باالله من             الشيطن             الرجيم                بسم الله             الرحمن             الرحيم                الحمد لله              رب             العالمين .             الرحمن             الرحيم . ملك             يوم الدين .             اياك نعبد و             اياك             نستعين .             اهدناالصراط             المستقيم .             صراط الذين             انعمت             عليهم '             غيرالمغضوب             عليهم             ولاالضالين

WWW.URDUPOWER.COM-POWER OF THE TRUTH..E-mail:[email protected]     Tel:1-514-970-3200 / 0333-832-3200       Fax:1-240-736-4309

                    

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

Telephone:- 

Email:-[email protected]
 

کالم نگار کے مرکزی صفحہ پر جانے کے لیے کلک کریں

 

تاریخ اشاعت:۔01-07-2010

آٹھارویں ترمیم کی خوشیاں ،بجٹ او رعوام کی حال زار
 
کالم۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔محمد وجیہہ السماء

شمشیر حق۔۔محمد وجیہہ السمائ
ہمار ے ملک میں اس وقت تما م سیا سی جماعتیں دھمال ڈال رہی ہیں کہ 18ترمیم منظور ہو گئی ہے اور اس کی وجہ سے اب کو ئی بھی ملکی سیا ست میں پارٹیوں کے بڑے ہی کامیاب ہو ں گے وہ ہی کل آخر ہو ں گے جو فیصلہ کیا جا ئے گا وہ صرف اس ایک انسان کی عقل کا کمال ہو گا اس کے ساتھ ساتھ اس کے پاس اتنی پاور ہو گی کہ وہ کسی پارٹی ورکر یا کسی وزیر مشیر کو بھی اپنی پا رٹی سے بے دخل کر سکتا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اس قابل بھی ہو گا کہ کوئی ورکریا اس کی پارٹی کا وزیرکسی فیصلہ کے خلاف کو ئی ووٹ دے گا تو اس کو اسی وقت اسکی دہشت کا سامنا کر نا پڑے گا ۔ کو ئی ورکر یا وزیر یا کوئی نما ئندہ اپنے ضمیر کی آواز پر بول نہیں سکے گا۔ کسی غلط کام کو غلط بھی نہیں کہہ سکے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ جمہوریت کے ٹھیکیدار خوش ہیں کہ اب بلا شرکتِ غیرے پاکستان کی سیا ست ان ہی کی میراث رہے گی وزیراعظم خوش ہیں کہ انہیں صدر صاحب بر خواست نہیں کر سکیں گے ۔صدر صاحب خوش ہیں کہ وہ پارٹی کے صدر کی حیثیت سے وزیراعظم کو برخواست کر سکیں گے ۔اے این پی خو ش ہو گئی ہے کہ حکومت کو ذلیل کر کے سر حد کا نام خیبرپختوانخواہ رکھوا لیا ہے اور ن لیگ کے لوگ اور جناب نوا ز شریف خوش ہیں کہ تیسری بار ویزاعظم بن سکیں گے غر ض18 ترمیم سب کے لئے خوشیاں کاپیغام لے کر آئی ہے ۔ ہر کوئی خوش ہے سوا ئے اس غلام ملک کے عوام کے ۔ جن پر طبقہ اشرفیہ اپنے کاموں کے لئے ، اپنی عیاشیوں کے لئے ہر روز کو ئی ذلت نامہمسلط کر دیتا ہے ۔آج کوئی بھی حکمران ہے وہ ہر کام میں اپنا فائدہ ڈھو نڈتا ہے کسی کو بھی اس قا ئد کے ملک کی ضرورت نہیں کیو نکہ اس عوام کو قا ئد نے ان انگریزوں سے آ زادی دلا ئی جن کے آ ج ہمارے حکمران پاﺅں دھو کر پینے میں فخر محسوس کر تے ہیں ۔اور اگر کو ئی اس ملک میں آ جا ئے تو پورے ملک کو جام کر دیا جا تا ہے ۔ لوگ سڑکوں پر مرتے ہیں ۔ بچے سکو لوں میں قید رہتے ہیں ۔یہی ہمارے حکمرانوں کی کامیابی گنا جا تا ہے یہ تو کو ئی بڑی با ت نہیںجب ہمارے اپنے ملک کے غریب اشرفیہ جب کسی جگہ ملنے جا تے ہیں تو ساتھ والے دس دس شہراس دن قیامت کا منظر پیش کر تے ہیں ۔ ان لوگوں کو اپنے قا فلے کے لئے انسانی زندگیوں کی بللی دینے میں خوشی محسوس ہو تی ہے ۔ چا ہے وہ کسی بھی جماعت کا نما ئندہ ہو اسے ان فالتو باتوں سے کو ئی غرض نہیں ہو تی کہ اس کی وجہ سے کتنے لوگ پر یشان ہیں ۔ کون مررہا ہے کون سکول میں ہ کوئی ماں اپنے بچوں کے لئے پر یشان ہو گئی۔آ ج تک کسی لیڈر نے ملک کے لئے کچھ نہیں کیا ۔سوائے ایک بھٹو نے اور اس سے پہلے صرف قائد اعظم نے اس ملک کو حقیقی رستے پر ڈالنے کی کوشش کی لیکن زندگی نے ان سے وفا نا کی۔ ان کی وفا ت سے آج تک کو ئی ہمارے ملک کو اپنے حقیقی راستے پر نہیں لایا۔ یہ نام نہاد حکمران جو اس عوام پر اپنی عیاشیوں کو آزما نے آتے ہیں عوام کے دکھ درد کا ان کو دور دور تک نہیں پتا نہیں ہوتا ۔ اب جب کہ 18تر میم منظور ہو گئی ہے اور ان سب لوگوں کے چہرے بھی چمک دمک رہے ہیںتو اب ان لوگوں کو اپنی اسی مستی میں عوام کا گلا کاٹ دینا چاہیئے یا پھر اس بے حس عوام کی حالت زار پر رحم کرنا چاہیئے کیونکہ اس عوامی بجٹ میں غریب عوام کو زمیں دوز کر نے میں کوئی کسر نہیںرکھی گئی۔ اور ہمارے ہر دل عزیر ویزاعظم صاحب جو جعلی ڈگڑی والوں کے لئے بھی نرم گوشہ رکھتے ہیںسینہ چوڑا کر کے بیان دیا ہے کہ اس سے اچھا بجٹ پیش نہیں کر سکتے تھے کیو نکہ عوام کو مارنے کے لئے اتنے ٹیکسیزز کی مقدار ہی کافی ہے۔اس غرین دوست بجٹ میں صدر ہاﺅس ،وزیراعظم ہاﺅس کے اخراجات اور ان کے ملکی اور غیر ملکی دوروں کے اخراجات میں ہی اضافہ کیا ہے ۔ اور تعلیم کی بھی اس عوام کو کوئی ضرورت نہیں ہے اس لیئے اسے بھی اپنے عالی ترین بجٹ سے دور ہی رکھا گیا ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ عوام کو صحت کی سہولتوں سے بھی دور رکھا گیا ہے کیو نکہ یہ بھی گناہ کبیرہ ہے جو کہ حکمران کر نا نہیں چا ہتے ۔ اس چھوٹی سی مثال میں حکومت کی عالی کا رکردگی کا اندازہ ہو رہا ہے کہ کس طرح ہمارے عوام کش حکمران اپنی عوام کو سہولیات دے رہے ہیں اور اس بات میں کتنی وفا کر نے والے ہیں جو حکمران اپنی عیا شیوں کو تو بڑھاوا دیں اور غریب عوام کے منہ سے نوالہ بھی چھین لیں وہ کسے خود کو روٹی، کپڑا، مکان والی پارٹی کہتے ہیں ۔مگر عوام پر ٹیکسز کا بوجھ بڑہا دیا ہے صحت کی سہولتیں نہیں دی نا مہنگا ئی کا کچھ سوچا۔اس پہ سونے کاسواگہ۔وزیر اعظم کا بیان کہ مہنگا ئی غربت والے مسائل کا وفاقی حکومت سے کوئی تعلق نہیں ۔عوام سڑکوں پہ مر رہی ہے ۔ پڑھے لکھے سڑکوں پر ذلیل و رسوا ہو رہے ہیں۔عوام اپنے بچو ں سمیت خودکشی کر رہے ہیں اورہمارے حکمران خوشی سے یہ کہے جا رہے ہیں کہ کو ئی مانے نا مانے اپریل سے بجلی کی پھر قیمتیں بڑھا دی جا ئیں گی۔ اور حکمران صرف شہیدوں کی پارٹی پر ہی نعرے بازی کر کے اپنے دل کو سکون دے رہے ہیں عوام کس کامنہ دیکھیں ؟؟کیا کر یں ؟؟یا پنے بچوں کو زہر دینے میں کو ئی پریشانی محسوس نا کریں؟؟
 
 

Email to:-

 
 
 
 
 
 

Copyright 2009-20010 www.urdupower.com All Rights Reserved

Copyright 2010 urdupower.o.com, All rights reserved