اعوذ             باالله من             الشيطن             الرجيم                بسم الله             الرحمن             الرحيم                الحمد لله              رب             العالمين .             الرحمن             الرحيم . ملك             يوم الدين .             اياك نعبد و             اياك             نستعين .             اهدناالصراط             المستقيم .             صراط الذين             انعمت             عليهم '             غيرالمغضوب             عليهم             ولاالضالين

WWW.URDUPOWER.COM-POWER OF THE TRUTH..E-mail:[email protected]     Tel:1-514-970-3200 / 0333-832-3200       Fax:1-240-736-4309

                    

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

Telephone:- 0334-5877586

Email:-[email protected]
 

کالم نگار کے مرکزی صفحہ پر جانے کے لیے کلک کریں

 

تاریخ اشاعت:۔22-09-2010

کرپشن اور ہمارے حکمران
 
کالم۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ محمد وجیہہ السماء
کرپشن اور ہمارے حکمران
پاکستان میں کرپشن کا راگ الاپنے والی نیشنل اور انٹر نیشنل ایجنسیوں کو شاید پاکستان سے ہمدردی ہے کہ یہاں سے کر پشن ختم ہو جا ئے یا پھر وہ خدانخواستی پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کر نے کی ناکام کوشش کر رہی ہیں جو ہر روز کو ئی نہ کوئی کرپشن کی رپورٹ سا منے لے آ تی ہیں ۔یہ تو اعلی حکومت ہی بہتر جا نتی ہے کہ اس میں کتنا جھو ٹ اور کتنا سچ ہے لیکن یہ بات تو پورے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے یا پھر پوری دال ہی۔۔۔۔اسی لئے تو یہ .

transparency

 انٹر نیشنل نے بھی پاکستان کے بار ے میں جو رپورٹ تیار کی اس میں یہ با ت سا منے آ ئی ہے کہ پاکستان میں کرپشن بڑھ رہی ہے اس کے مطا بق 2002ءمیں یہ کر پشن صرف45 بلین تھی اور اب 2009ءمیں یہ 195بلین تک جا پہنچی ہے اس کے ساتھ ساتھ واپڈا اور پولیس۔ محکمہ صحت ابھی تک ٹاپ کرپٹ ترین اداروں میں ہیں ۔۔ ان کو اس بات کی مبارک ہو۔ اور یہ مبارک باد کے مستحق بھی ہیں کیو نکہ ان اداروں نے عوام کو نتھ ڈالی ہو ئی ہے
اسی رپورٹ کے مطا بق کچھ اور اداروں کی کارکردگی کچھ اس طر ح تھی۔ جس کے مطا بق کسی ادارے میں کرپشن میں کمی آ ئی ہے تو کسی میں بڑ ھو تری واقع ہو ئی ہے۔ اس کے مطا بق جوڈیشنری میں بہتری آ ئی ہے اور اس کا نمبر7 ہو گیا ہے جو کہ 2006 ءمیں 3تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ کسٹم اور انکم ٹیکس اداروں نے اپنے اپنے کا اداروں کا امیج بہتر کیا ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ یہ با ت بھی سا منے آ ئی ہے کہ فوجی حکومت میں یہ کرپشن کم اور عوامی حکومت/جمہوری حکومت میں اس میں اضا فہ ہوا ہے اس رپورٹ پر بھی بڑی توں توں میں میں کی گئی تھی اور کسی نے اسے جمہوریت کے خلاف سا زش کہا تھا۔ تو کسی نے اسے طالبان کی کاروائی کہا تھا۔ کسی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ہم میثاق جمہوریت کی وجہ سے اس بات پر خا موش ہیں تو کسی نے کہا تھا کہ ہم ساری جما عتوں کو سا تھ لے کر چلیں گے۔ ابھی اس بات کی دھول بیٹھنے نہیں پا ئی تھی کہ ایک اور رپورٹ نے ان مظلوموں ، بے کس سیاستد انوں کی نیند اڑا دی ہے جس کے مطا بق ہمارے غریب ملک کے غریب حکمرانوں کے اثا ثو ں میں صرف چھ سال کے قلیل عر صے میں تین گنا ہ اضا فہ ہو گیا ہے ۔ یہ رپورٹ پارلیمنٹ پر نظر رکھنے والے ادارے پلڈاٹ نے پیش کی ہے جس کی رو سے ہمارے ملک کی اعلی اور طاقتور سیاسی جماعتوں کے اثا ثوں نے دن دگنی رات چگنی ترقی کی ہے ۔ جو اثا ثے 2002-03ءمیںدو کروڑ 70لاکھ روپے سے نیچے تھے اب وہی اثاثے 2009ءتک 8کروڑ دس لاکھ تک پہنچ چکے ہیں ۔
اس کی تفصیل میں جا ئیں تو ہر کسی جماعت کے لوگ اس میں شا مل نظر آ تے ہیں ۔ کو ہستان سے تعلق رکھنے والے پی پی پی کے رکن محبوب اﷲجانکے اثا ثے بڑھ کے 3.288ارب تک ہو چکے ہیں ۔ جس کے بعد شاہد خاقان عبا سی صاحب کا نمبر آ تا ہے اس کے بعد جہانگیر خان ترین صاحب کا نمبر آ تا ہے ۔ اسی طرح آ گے دیکھتے جا ئیں تو خواتین بھی مردوں سے پیچھے نہیں رہیں ہیں ان کے بھی اثا ثے بھی غیبی مدد کی وجہ سے بڑھے ہیں ۔ خواتین میں مسلم لیگ ن کی رکن قومی اسمبلی نزہت صادق امیر ترین رکن ہیں جب کہ عا صمہ ارباب عالمگیر صاحبہ تھو ڑے کم اثا ثوں سے دوسرے نمبر پر آئیں۔اور بیلم حسنین صاحبہ تیسرے نمبر ہیں ۔ یہ تو وہ لوگ تھے جو اپنی اعلی کارکردگی کی وجہ سے ٹاپ تھری میں تھے اب اگر اس سے آگے نظر دوہرائی جا ئے تو فاٹا سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی محمد کامران خان کے اثا ثوں میں پچھلے چھ سال میں 42%اضا فہ ہو اہے ۔اور مردان سے ایم ایم اے کے رکن مولانا محمد قاسم کے اثاثوں میں صرف 12%اضا فہ دیکھنے میںآ یا ہے اس کے ساتھ ساتھ لاہور سے مسلم لیگ ن کے رکن بلال یاسین کے اثا ثوں میں 9گنا اضا فہ ریکا رڈ کیا گیا ہے پلڈاٹ کی رپورٹ کے مطابق ملک کی 12ویں اور 13 ویںاسمبلیوں کے ارکان کی طرف سے ظا ہر کئے ہو ئے ا ثا ثوں سے معلوم ہو تا ہے کہ چھ سالوں میں ان کے اثا ثوںکو خلائی مخلوق نے تین گنا بڑھا دیا ہے ۔ 12 ویں قومی اسمبلی میں جو اوسط 2کروڑ70لاکھ تھی وہ اب 8کروڑ 10لاکھ تک پہنچ چکی ہے اس طر ح موجودہ اسمبلی کا ہر رکن پچھلی اسمبلی سے تین گنا زیادہ امیر ہے (امیر ہو گیا ہے)۔
یہ رپورٹ گزشتہ سالوں کے دوران ارکان اسمبلی کی طرف سے اثاثوں کے پیش کئے گئے گوشواروں کو مد نظر رکھتے ہو ئے تیار کی گئی ہے اور یہ اثاثے الیکشن کمیشن نے قومی گزٹ میں شائع کئے ہیں ۔2008-09ءکے گوشواروں سے معلوم ہو تا ہے کہ ہر رکن کم از کم 8کروڑ 8لاکھ 90 ہزار روپے کے اثا ثے رکھتا ہے جو سال 2007-08ءسے 9.50گنا زیادہ ہیں ۔ اور غیر مسلم ارکان کے اوسطا اثاثے دو کروڑ تین لاکھ پچاس ہزار روپے ہیں جو اوسطا 81ملین روپے کی نسبت 75%کم ہیں
اس رپورٹ کا مجموعی طور پر ذکر کیا جا ئے تو یہ بات سامنے آ ئی ہے کہ فنکشنل مسلم لیگ کے ارکا ن امیر تر ین رہے جن کے اثاثوں کی اوسط 239ملین رہی ۔نیشنل پی پی کے ارکان کے اثا ثے 122ملین روپے رہی اور وہ دوسرے نمبر پر رہے اس کے ساتھ ساتھ آزاد ارکان 108ملین کے ساتھ تیسرے ، پی پی کے ارکان 102ملین سے چو تھے ۔ مسلم لیگ کے ارکان 75ملین روپے کے ساتھ پانچویں ۔ مسلم لیگ ق 62ملین کے ساتھ چھٹے، اے این پی کے ارکان61ملین کے ساتھ سا تویں۔ اس کے بعد پی پی شیر پاﺅ 37ملین،ایم کیو ایم 25ملین ، بی این پی14ملین ،اور ایم ایم اے کے ارکان اوسطا 60لاکھ کے اثا ثوں کے ساتھ آ خری نمبر پر رہے ۔رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ 2002ءسے 2006ءتک پاکستان تحریک انصاف کے واحد رکن قومی اسمبلی عمران خان دولت کے حوالے سے پہلے نمبر پر رہے جن کے اثا ثوں کی مالیت 85ملین روپے تھی ۔ جبکہ مسلم لیگ ن 61ملین کے ساتھ دوسرے ۔ مسلم لیگ ق 56ملین کے ساتھ تیسر ے ،اور پی پی کے ارکان 34ملین روپے کے اوسطا اثاثوں کے ساتھ چوتھے نمبر پر رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتا یا گیا ہے کہ اسلام آباد کے تعلق رکھنے والے ارکان پہلے نمبر پر رہے جب کہ خیبر پی کے ، پنجاب، فاٹا ، سندھ، اور بلوچستان کا نمبر بعد میں آ تا ہے ۔
مجموعی اثاثوں کی مالیت کے حوالے سے پنجاب 54%کے ساتھ پہلے نمبر پر رہا۔تاہم ان میں 2002-2006ءکے درمیان 73%سے کمی بھی ہو ئی تھی ۔خیبر پی کے 31،سندھ10،فاٹا تین ، اسلام آ باد اور بلوچستان ایک فیصد کے اثاثوں کے مالک رہے۔
ایک طرف تو یہ ان کے کارنامے اور کرپشن نظر آ رہی ہے اس کے باوجود اب بھی ان لوگو ں سے پوچھا جا ئے تو ان کا اپنا ایک ہی موقف ہو گا کہ ہمیں خاندانی بزنس اور ہماری خاندانی زمینوں کی قیمتوں میں اضا فہ دیکھنے میں آ یا ہے جس کی وجہ سے ہمارے اثا ثوں خود ہی زیادہ ہو گے ہیں ا سمیں ہمارا تو کو ئی کردار نہیں یہ تو بس اﷲ کا دیاہوا ہے۔ عوام کو اب تو ہو ش آ جا نی چا ہیئے اور اپنے حقو ق کے لئے جا گنا ہو گا۔ اپنے ساتھ ہو تی ہو ئی ظلم و زیادتی پہ آواز بلند کر نی ہو گی کیونکہ کہ ان لوگوں کے اثا ثوں میں دن دگنی رات چگنی ترقی کیسے ہو رہی ہے او ر ملکی حا لات دن بدن خراب سے خراب ہو رہے ہیں ملک مسائل میں اضا فہ ہی ہو رہا ہے ۔ نہ کو ئی گلی چھ ماہ سے زیادہ زندہ رہتی ہے اور نا ہی نکاس آب کا نظام ٹھیک رہتا ہے ۔ اب بھی وقت ہے ان کے احتساب کیا جا ئے اور الیکشن کمیشن، اور اعلی عدلیہ کو ان سے جواب لیناچا ہیئے۔ اور جو جو کرپشن میں ملوث پایا جا ئے اس نشا ن ِ عبرت بنا یا جا ئے تا کہ اب کو ئی بھی ملکی پا رلیمنٹ میں اس لئے نہ داخل ہو کہ کرپشن کر کے پیسہ کما لوں گا۔ سا ت نسلوں کو سکون دوں گا۔ بلکہ یہ سو چ کے آ ئے کہ جو اختیارات مجھے دیئے جا ئیں گے وہ قومی ذمہ داری ہو گی اور اپنی تمام تر توانائیاں ملکی مسائل حل کر نے کے لئے استعمال کروں گا۔
 

 
 

Email to:-

 
 
 
 
 
 

Copyright 2009-20010 www.urdupower.com All Rights Reserved

Copyright 2010 urdupower.o.com, All rights reserved