پاکستان میں
کچھ حلقوں میں اس خبر کو بڑی حیرانی سے سنا
گیا ہو گا اور بڑی ہی پریشانی سے پڑھا گیا
ہوگا کہ امریکہ کے تعاون سے اور حکم پر
افغانستان اور پاکستان اب طالبان سے مذاکرات
کا ڈول ڈالیں گے۔حالانکہ میں اس ڈیل کی اطلاع
آج سے چھ ماہ قبل ہی دے چکا ہوں ۔ اس وقت
پاکستان کے بہت سارے کالم نگار یہ لکھ رہے تھے
اور یہی توقع کر رہے تھے کہ عبداللہ عبداللہ
الیکشن جیت جائے گا اور کرزئی کی چھٹی کر دی
جائی گی ۔ میں نے اس وقت اپنے کالمز میں اس
خیال کی تردید کرتے ہوئے یہی لکھا تھا کہ
کرزئی بدستور افغانستان کا صدر رہے گا ۔ پھر
طالبان سے مذاکرات کئے جائیں گے ۔ اس کے بعد
امریکہ بتدریج افغانستان میں افواج کی تعداد
کو دولاکھ تک لے جائے گا پھر افغانستان میں
امریکن طالبان کے تعاون سے کرزئی کی سربراہی
میں ایک قومی حکومت قائم کریں گے ۔اس کے بعد
امریکہ اسامہ بن لادن کی تلاش میں پہلے کوئٹہ
پہنچے گا اور پھر القاعدہ کے تعاقب میں امریکن
ایک دن کراچی بھی جا پہنچیں گے ۔ میں اپنے ان
الفاظ پر آج بھی قائم ہوں۔
میں نے اپنے ایک کالم میں یہ بھی لکھا تھا کہ
اسامہ بن لادن کبھی کا اپنی طبعی موت مرچکا ہے
۔ مگر امریکن ایجینسیاں اسے ابھی تک زندہ رکھے
ہوئے ہے ۔ اسی سلسلے میں ایک دلچسپ سوال ہے کہ
اسامہ بن لادن کی آڈیو کیسٹ ہمیشہ الجزیرہ نیٹ
ورک کو ہی کیوں ملتی ہے اور یہ ہمیشہ ہی آڈیو
کیوں ہوتی ہے؟؟ ۔ جب کہ سبھی میڈیا والے جانتے
ہیں کہ اسامہ بن لادن کو ویڈیو بنوانے کا اس
قدر شوق تھا کہ نائین الیون سے پہلے اور بعد
میں اس کا ہر پیغام ویڈیو ہی ہوا کرتا تھا۔ اب
اس کا پیغام ویڈیو کی بجائے آڈیو پر کیوں آتا
ہے ؟؟؟
اب ہمارے دشمن گروہوں کے حامی کالم نگار گمراہ
کن کالم لکھ کر پاکستانی عوام کو نہ صرف گمراہ
کریں گے بلکہ غفلت کی نیند بھی سلا دیں گے۔ آج
کل اکثر اردو کالم نگار جس بات پر زور دے رہے
ہیں وہ یہ ہے کہ امریکن افغانستان سے جان
چھڑانا چاہتے ہیں اور اب وہ جلد ہی بھاگ بھی
جائیں گے ۔ یہ تجزئیے اتنے گمراہ کن ہیں کہ
اگر ہم ان تجزیوں کو من وعن تسلیم کر لیں گے
تو نتیجہ یہی ہوگا کہ ہم ڈھیلے پڑ جائیں گے
اور پھر خواب غفلت میں بھی مبتلا ہو سکتے ہیں
یہی ہمارا دشمن چاہتا ہے کہ ہم غفلت کا شکار
ہو جائیں اور وہ ہمیںآ دبو چے اور ہمارا خاتمہ
بھی کر دے ۔
اردو کالم نگاروں میں سے چند حقیقت پسند
لکھاریوں کو نکال کر ہر کوئی تجزیہ نگار
افغانستان اور پاکستان میں امریکن اور دیگر
صلیبی طاقتوں کی موجودگی کو صرف اسی علاقے میں
محدود کرکے دیکھتا ہے اور پھر اپنے قارئین کو
بھی ایسا ہی دکھاتا ہے ۔ حالانکہ اگر ہم صلیبی
اور صہیونی مقاصد کی جان کاری رکھتے ہیںاور
پھر پاکستان و افغانستان میں صلیبی لشکروں کی
مہم جوئی کو گریٹر اسرائیل کے وسیع تر تناطر
میں دیکھیں تو ہم اس ایک ہی نتیجے پر پہنچیں
گے کہ اسرائیل پورے عرب ممالک سمیت ایران
افغانستان اور پاکستان کو بھی اپنی صہیونی
ریاست کا ایک ضروری جز بنانا چاہتا ہے اور
جہاں تک امریکہ یا ایساف کی واپسی کی بات ہے
یہ ایک دیوانے کا ہی خواب ہو سکتا ہے ۔ ورنہ
یہ ایک حقیقت ہے کہ صہیونی لابی یہ عہد اور
عزم کر چکی ہے کہ پہلے مرحلے میں پاکستان کو
اتنا کمزور کر دیا جائے کہ امن وامان کو قائم
رکھنے کے لئے پاکستان اقوام متحدہ یا پھر ناٹو
کی مدد طلب کرے ۔ پھر صوبہ سرحد یعنی کہ پختون
خواہ کو افغانستان میں شامل کر دیا جائے اور
ساتھ ہی آزاد بلوچستان کا قیام عمل میں لایا
جائے ۔ سندھو دیش کا نعرہ بھی اسی سکیم کا ایک
حصہ ہے جس کے پیچھے ہماری وفاقی حکومت کا
شرارتی ذہن کام کر رہاہے اور جو لوگ پاکستان
کے موجودہ حکمرانوں حزب مخالف اور جنریلوں کو
پاکستان کا وفادار سمجھتا ہےں انہیں اپنی عقل
کا علاج کروانا چاہئے۔
چند سوالات ہیں اگر کوئی ان کے جوابات دے سکے
تو میں اس کا بے حد ممنون ہوں گا ۔ انشااللہ
العزیز!!!
صہیونی لابی انیس سو اکانوے سے لے کر اب تک
ٹریلئنز آف ڈالرز کی جو رقم ہمارے حکمران
طبقات اور جرنیلوں پر انویسٹ کر چکی ہے ۔کیا
سود خور اور لالچی یہودی اس انویسٹ منٹ کو
ضائع جانے دیں گے ؟
کیا امریکہ اور برطانیہ نے اپنے ہزاروں فوجی
اس لئے عراق بھیجے تھے کہ وہ اس علاقے میں
جمہوریت اور امن وامان قائم کرکے اپنے اپنے
گھروں کو لوٹ جائیں گے ؟؟
کیا امریکہ نے اب تک پانچ ہزار سے زائد سفید
فام فوجی صرف اس لئے مروائے ہیں کہ وہ
افغانستان کو پھر سے طالبان کے حوالے کر کے
بینڈ بجاتے ہوئے اس خطے سے نکل چلے جائیں گے ؟
؟ ( مختلف ایجنسیوں کے پرسانلز اس کے علاوہ
ہیں ۔جن کی صحیح تعداد کا علم کسی کو بھی نہیں
ہے مگر محَتاط اندازہ یہی ہے کہ افغانستان میں
اب تک تین ہزار ایسے لوگ بھی مر چکے ہیں جو کہ
ژی ::بلیک واٹر::کے مختلف یونٹس سے تعلق رکھتے
تھے۔)
سوات میں ہمارے جنریلوں نے صہیونی لابی کے حکم
پر جو مہم جوئی کی تھی اور اس وقت وزیرستان
میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کا واحد مقصد یہی ہے
کہ پشتونوں کو پاکستان سے اتنا متنفر کر دیا
جائے کہ وہ افغانستان میں شامل ہونے کو ترجیح
دیں ۔ پھر جس وقت طالبان یہ فیصلہ صادر کریں
گے کہ ہم کبھی بھی پاکستان کا حصہ نہ تھے تب
اسی وقت ساتھ ہی کرزئی ڈیورنڈ لائن کا قضیہ
چھیڑ دے گا ۔یہ ایک حقیقت ہے کہ سلطنت برطانیہ
نے افغانستان کے ساتھ ڈیورنڈ لائن کا جو
معاہدہ کیا تھا اس کی مدت ختم ہو چکی ہے۔
کرزئی اپنے پچھلے دور صدارت میں اس بارے میں
ایک واضح بیان بھی دے چکا ہے اب اسے صرف مناسب
اشارے کا انتظار ہے ۔پھر افغانستان اس مسلے کو
دو طرح سے حل کر نے کا فیصلہ کر سکتا ہے ۔
پہلا تو یہی ہے کہ ا فغانستان اس مسلے کو
اقوام متحدہ میں لے جائے ۔ اگر ایسا ہوا تو
مشرقی تیمور کی طرح سے یہ مسلہ بھی دنوں میں
ہی حل کیا جائے گا ۔ دوسرا حل یہی ہے کہ
افغانستان پاکستان پر چڑھائی کر دے ۔ کیا
امریکن فوجوں کی موجودگی میں پاکستانی افواج
افغانستان پر جوابی کاروائی کریں گی ؟؟؟ وہ
بھی اس حالت میں کہ پاکستانی افواج سوات اور
وزیرستان میں فضول مہم جوئی کرکے ایک ایسی
تھکن کا شکار ہو چکی ہیں کہ وہ کسی باقاعدہ
جنگ کرنے کے قابل بھی نہیں ہیں ۔ سب سے بڑھ کر
یہ کہ پاکستانی فوج کے سارے جرنیل بھی سی آئی
اے کے ایجنٹ ہیں ۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستانی آرمڈ فورسز میں
اسلامی ذہن رکھنے والا ایک بھی کمیشنڈ آفیسر
نہیں رہا ہے ۔کچھ زبردستی ریٹائر کر دئیے گئے
۔ کچھ کو ایجنسیوں نے مروا دیا اور نام اسلامی
دہشت گردوں کا لگا دیا ۔ جو چند ایک اس طرح سے
نہیں مرسکے ان کو فوجی عدالتوں کے ذریعے سے
سزاموت دے دی گئی ۔رہے سہے کسی نہ کسی حادثے
میں مروادیئے گئے ۔
ایک سوال یہ ہے کہ جی ایچ کیو پر حملہ کس نے
کروایا تھا؟؟ اور ایک اسلامی ذہن رکھنے والا
افسر ہی کیوں مارا گیا؟؟
پاکستان کی ملٹری میں اور فضائیہ میں اس وقت
جن لوگوں کا ہولڈ ہے وہ یا تو احمدی(مرزائی)
ہیں یا پھر ان کا تعلق اسماعیلی فرقے سے ہے جن
کو اعتدال پسند شیعہ بھی شیعہ نہیں بلکہ
صہیونیوں کا ایجنٹ قرار دیتے ہیں ۔ ان مذہبی
انتہا پسندجرنیلوں نے پہلے تو سوات اور
وزیرستان میں اپنے دشمن فرقو ں کی نسلوں کا
صفایہ کرنے کی کوشش کی ہے ۔ اب یہی انتہا پسند
جرنلزکشمیر میں تصادم کروائیں گے ۔ پھر گلگت
اور بِلتستان میں ایک مخصوص ریاست یعنی کہ
صہیونیوں کی طفیلی اسماعیلی ریاست کا قیام عمل
میں لایا جائے گا ۔
زرداری اور اس کے حواریوں نے گلگت اور
بِلتستان کو کشمیر سے کاٹ کر اس کا ایک الگ
ایڈمنسٹریٹر یا گورنربنایا ہے یہ دراصل
اسماعیلی ریاست کے قیام کی جانب پہلا قدم ہے
اگر کوئی شخص اب بھی زرداری یا موجودہ
حکمرانوں اپوزیشن اور جرنیلوں کو سی آئی اے کا
کارندہ نہیں سمجھتا ۔ تب مجھے اس شخص کی حب
الوطنی پر شک ہے یا پھر اس کی دماغی حالت درست
نہیں ہے ۔
اعتدال پسند شیعہ اس مجوزہ اسماعیلی ریاست کو
داو ¿دی سٹیٹ کا نام دیتے ہیں اس داو ¿دی سٹیٹ
کے بغل میں کشمیری علاقوں پر مشتمل جو ریاست
بنے گی وہ درحقیقت اسرائیل کا گرمائی
دارلحکومت کہلائے گی ۔
میرے پرانے قارئین جانتے ہیں کہ میں اپنی
تحریروں میں بہت سارے کالم نگاروں کی طرح سے
مغربی دنیا کے حکمرانوں کو کبھی بھی مخاطب
نہیں کرتا کیونکہ میں جانتا ہوں کہ وہ
اردونہیں جانتے ہیں ۔ اور نہ ہی میں نے کبھی
اپنے کالمز میں پاکستانی حکمرانوں سے کوئی
اپیل کی ہے کیونکہ میں جانتا ہوں کہ ہمارے
تمام کے تمام حکمران بکاو ¿ مال ہیں ۔ اس لئے
وہ ہماری نہیں بلکہ اپنے آقاو ¿ں کی سنتے ہیں
۔لہذٰا ان سے اچھائی کی توقع رکھنا ہی عبث ہے۔
دوسرا یہ کہ جب تک پورے کا پورا سسٹم تبدیل
نہیں ہوگا پاکستان میں نہ تو امن و امان قائم
ہو گااور نہ ہی کسی کو عدل و انصاف ملے گا۔
موجودہ سسٹم سے کسی فلاح یا اصلاح کی توقع ہی
فضول ہے۔
اب جو سطور میں لکھنے لگا ہوں اس کا مقصد اپنے
جیسے لوگوں کی ڈھارس بندھانا ہے تاکہ وہ جہاں
جہاں پر ہیں اپنی اپنی سعی اور کوشش جاری
رکھیں اور مایوس ہو کر نہ بیٹھ جائیں ۔
اللہ نہ کرے کہ ہمارے دشمن ہمارے وطن پاکستان
کے حصے بخرے کرنے میں کامیاب ہو جائیں ۔ آمین
ثم آمین!!!
اگر کبھی ایسا ہو بھی گیا تو ہم شکست کھا کر
بھی کچھ نہیں کھوئیں گے اور ہمارے دشمن جیت کر
بھی اپنی زندگیاں ہار جائیں گے ۔ انشا اللہ
العلیم و الحکیم!!!
اللہ نہ کرے کہ پاکستان کو کچھ ہو اگر ایسا
ہوتا بھی ہے تو میرا اندازہ یہ ہے کہ دوہزار
غدار مغربی ممالک کا رخ کریں گے اگر ان کے اہل
خانہ کو بھی شمار کیا جائے تو یہ تعداد بیس
ہزار افراد بنتی ہے ۔ سبھی اہل نظر یہ جانتے
ہیں کہ یورپ اور امریکہ میں اس وقت بیس ہزار
سفید فام اسلام تو قبول کر چکے ہیں مگر انہوں
نے اپنا ایمان کسی پر بھی ظاہر نہیں کیا ہے ۔
ان اصلاً اور نسلاً سفید فام مسلمین کے دو
ہزار افراد نے یہ تیاری کر رکھی ہے کہ جب کبھی
ان کی سرزمین پر اسلام اور پاکستان کے غدار
اپنے اہل خانہ سمیت قدم رکھیں گے تو وہ ہزاروں
مسلم مجاہدین ان غداروں پر سرزمین مغرب تنگ کر
دیں گے ۔انشا اللہ القہار !!!
سبھی دانش ور امریکن قوم کی اس روایت سے بھی
آگاہ ہیں کہ امریکن اپنی ہی قوم کے غداروں کو
اپنی سرزمین پر پناہ نہیں دیتے۔ شاہ ایران اور
شاہ پرویز کی مثال سب کے سامنے ہے۔ ۔ اس لئے
لامحالہ ان غداروں کو یورپ میں ہی سیٹل ہونا
پڑے گا ۔ اگر سفید فام مسلم مجاہدین کسی مرحلہ
پر پکڑے بھی گئے تو بھی بیس پچیس سال بعد چھوٹ
جائیں گے کیونکہ یورپ میں قتل کرنے پر بھی سزا
موت نہیں ہے اگر ملک ملت کے غدار بچے کچھے
پاکستان واپس آئیں گے تو ان کا استقبال
مجاہدین ہی کریں گے پھر تو ائیر پورٹ پر ہی
سمری کورٹس لگیں گی اور دھن دھنا دھن دھن کی
آوازیں ہی آیا کریں گی ۔ انشاللہ الکریم