|
٭وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہاہے کہ ججوں
کو فوری طورپر بحال نہ کرنامیری بہت بڑی غلطی
تھی!
٭صدرآصف زرداری نے اپنے جسم کے تمام اعضا عطیہ
کے طورپر دینے کااعلان کیا ہے۔ نکتہ وروں نے
اس بات کی مختلف ترجیحات کی ہیں۔
٭سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کو مبارکباد کہ
ایک دور میں ملک سے فرار ہونے والے موجودہ
وزیرداخلہ نے انہیں سچا محب وطن ہونے کا
سرٹیفکیٹ دے دیا ہے!
٭لندن کی اطلاعات کے مطابق ملک کے مفرور سابق
خود ساختہ صدر پرویز مشرف نے لندن کے مہنگے
ترین علاقے'42 البرٹ ڈیورچ مونڈ کے علاقے
میں15 لاکھ پونڈ( تقریباً21 کروڑ روپے) کاایک
محل نما مکان وچ مونڈ پیلیس خریدا ہے۔ اس کے
بارہ بیڈروم ہیں جن میں سے چھ مہمانوں کے لیے
ہیں۔ محل میں نہانے کے جدید ترین باتھ روم ہیں!
پرویز مشرف نے پہلے وہاں بھی ایک مکان خرید
رکھاہے۔
آج کا کالم تو صرف وزیراعظم کے صر ف اسی
اعتراف پر ختم ہو سکتا ہے کہ معزول ججوں
کوپہلے ہی روز بحال نہ کرنا ان کی بہت بڑی
غلطی تھی۔ اس بات پر اظہار تحسین کیاجاسکتا ہے
کہ ایک ملک کے مقتدر وزیراعظم نے سرعام اپنی
ایک سنگین غلطی کا اعتراف کیاہے ۔ مگر معاملہ
اتنا آسان نہیں۔ وزیراعظم نے یہ بیان دے کہ
خودکو بڑی مشکل میں ڈال لیا ہے۔ وزیراعظم
منتخب ہونے کے بعد انہوں نے بھری اسمبلی میں
اعلان کیا تھا کہ چیف جسٹس سمیت تمام جج بحال
کردیئے جائیں گے۔ یہ کام اسی روز ایک ایگزیکٹو
آرڈر سے ( 16مارچ2009ء والاآرڈر) ہوسکتا تھا
مگر اسے جان بوجھ کر ایک سال تک لٹکا دیا گیا
۔ اس ایک سال کے دوران ملک بھر میں ہنگاموں '
مظاہروں' ہڑتالوں اور پوری سول سوسائٹی کے
شدید ردعمل اوراحتجاج کے باعث ملک کو ہر لحاظ
سے جو شدید نقصان پہنچا' کیا اس کاازالہ محض
ایک بات کہہ دینے سے ہوجاتا ہے کہ ''مجھ سے
غلطی ہوگئی تھی اور یہ کہ اس عرصہ میں واقعی
ملک کو بہت نقصان پہنچاہے!'' نہیں ! نہیں! سید
یوسف رضاگیلانی صاحب! یہ ناقابل معافی اعتراف
ہے ۔ ملک کے آئین یا قانون میں کوئی ایسی
گنجائش موجود نہیں کہ ایک سنگین الزام کا
اعتراف کرلینے پر ملزم کوکھلی معافی دے دی
جائے!اس کے برعکس مہذب اورشائستہ روایات والے
ممالک میں کسی زیادہ ذمہ دار شخص کی کسی
کوتاہی' غفلت یاجرم کا دوسرے لوگوں کے مقابلہ
میں زیادہ سخت مواخذہ کیاجاتاہے۔ صرف دو تین
سال پہلے کی بات ہے کہ انگلستان کے ولی عہد
شہزادہ چارلس کی گاڑی کا تیز رفتاری کے معاملہ
میں چالان ہوگیا،عدالت نے اسے عام جرمانہ کی
بجائے زیادہ جرمانہ کی سزا سنادی کہ ملک کا
ہونے والا بادشاہ تو خود قانون کامحافظ
ہوتاہے۔وہ خود قانون شکنی کرے تو یہ ناقابل
برداشت جرم ہے۔
سید یوسف ر ضا گیلانی صاحب! وزارت عظمیٰ کسی
بھی جمہوی نظام کا بلند ترین عہدہ ہوتاہے اس
پر فائز ہونے والا شخص ملک کے کسی بھی شخص سے
کہیں زیادہ ذمہ دار اور قانون کا محافظ ہوتاہے
آپ سے سیدھاسادا سوال ہے کہ آپ نے کس مقصد یا
منصوبے کی خاطر ایک سادہ سے مسئلے کو ایک سال
تک لٹکا کر ملک کی ساری معیشت اور سماجی زندگی
کو تباہی کے گڑھے کی طرف دھکیل دیا؟ جس کا اب
آپ خود بھی اعتراف کررہے ہیں!
محترم وزیراعظم صاحب! آپ نے ایک سنگین اور
ہولناک غلط کام کا اعتراف کیا ہے اس کے بعد آپ
کے پاس اس منصب جلیلہ پر مزید کام کرنے کاکوئی
اخلاقی، آئینی یا قانونی جواز باقی نہیں رہ
جاتا ۔ یہاں میں اپنے ساتھ پیش آنے والے ایک
چھوٹے سے قصے کا ذکر کرناچاہتاہوں۔کئی برس
پہلے ایک ایڈیشنل سیشن عدالت کا اہلکار میرے
گھر پر میرے وارنٹ گرفتاری لے کر پہنچ گیا۔
مجھے سخت حیرت ہوئی میں نے وارنٹ گرفتاری کے
پیچھے لکھا کہ محترم جج صاحب! مجھے کچھ علم
نہیں کہ مجھے کیوں اور کس کیس میں گرفتار کیا
جانامقصود ہے؟ میں صبح ٹھیک نو بجے گرفتاری کے
لیے عدالت میں آجاؤنگا ۔ اگلے روز میں ایک
وکیل کے ساتھ عدالت میں پہنچ گیا۔ انکشاف ہوا
کہ وارنٹ کسی کیس میں میرے ہم نام کسی اور شخص
کے نام تھاجسے عدالت کے ریڈر نے غلطی سے میرے
ایڈریس پر بھیج دیاتھا حیرت یہ کہ میرا ایڈریس
اس ریڈر نے کیسے حاصل کیا۔ جج صاحب اس غلطی پر
خاصے برہم ہوئے اور مجھ سے معذرت کی ! میں نے
کہا کہ ''جج صاحب! یہ معمولی بات نہیں! آپ نے
ایک غلط کام کیا، کسی جج سے غلط کام کا تصور
بھی نہیں کیاجاسکتا،آپ نے غلط کام کرنے
کااعتراف کرکے ثابت کیاہے کہ آپ جج بننے کے
اہل نہیں، مزید یہ کہ آپ نے مجھ سے معذرت کرکے
عدالت کی توقیر کو مجروح کیا ہے۔ اب پلیز! آپ
اپنی نشست چھوڑ دیں! آپ کے وارنٹ سے میرے
علاقے میں میری بہت رسوائی ہوئی ہے۔ میں اس
معاملے میں بہت سنجید ہوں، میں اور کوئی بھی
قانونی کارروائی کرنے کا مجاز ہوں''۔
جج صاحب بہت پریشان ہوگئے، انہوں نے عدالت کی
باقی کارروائی روک دی اور میرے وکیل کو ساتھ
لے کر چیمبر میں چلے گئے۔ وکیل نے کچھ دیر کے
بعد باہرآکر کہا کہ جج صاحب بہت اپ سیٹ ہیں وہ
آپ کے دفتر میں آکر آپ سے معذرت کرنے کوتیار
ہیں۔ میں نے کہا کہ نہیں! یہ بات عدلیہ کے
وقار کے منافی ہے۔ میں اس معاملہ کوفوری طورپر
ختم کررہا ہوں، میں واپس آگیا ۔
یہ ذاتی واقعہ میں نے اس لیے بیان کیاہے کہ
قانون کی نظرمیں عام شہری، جج ' وزیراعظم اور
صدر سب برابر ہیں۔ کوئی شہری کسی غلطی کا
ارتکاب کرتاہے تو وہ صرف ایک شخص کا معاملہ ہے
مگر کوئی صدر' وزیراعظم' گورنر یا وزیراعلیٰ
کوئی غلطی کرتا ہے تو وہ بہت سنگین معاملہ ہے۔
محترم وزیراعظم صاحب! آپ نے خود اعتراف کیا ہے
کہ آپ کی غلطی کے باعث ملک کو بہت نقصان
پہنچاہے! میں نے اس بارے میں قانونی پوزیشن
واضح کردی ہے اس پر غور کیجیے!
اور اب دوسری بات! صدرآصف زرداری نے ابدی نیند
شروع ہونے پر اپنے جسم کے تمام اعضا عطیہ کے
طورپر دینے کااعلان کیا ہے۔ انسانی جسم میں
دوسرے جسموں میں منتقل کیے جانے والے اعضا ء
میں آنکھیں' دل ' دماغ اورگردے شامل ہوتے ہیں
مگر صدر زرداری نے پورا جسم ہی عطیہ کے لیے
وقف کردیاہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ کوئی ضرورت مند
شخص ایسا کوئی عطیہ وصول کرنے سے پہلے سوچ
سکتا ہے کہ اس جسم کے اعضاکی ماضی میں
کارکردگی اورشہرت کیا رہی ہے؟ اور یہ کیا کہ
وہ خود اپنے جسم میں بھی یہی صفات شامل
کرناقبول کرسکتاہے؟
کسی صدرمملکت کی طرف سے ایسا عطیہ پہلی بات
نہیں ہے۔ ماضی میں سابق فوجی غاصب جرنیل ضیاء
الحق کی طرف سے بھی آنکھوں کے عطیہ کاعلان
آیاتھا مگر طیارہ کے حادثے میں جسم کا ہر ذرہ
راکھ ہوگیا صرف جبڑا باقی بچا تھا ،ویسے بھی
ضیاء الحق کی زندگی میں ہی اس کی آنکھوں کے
تذکرے نے عجیب دلچسپ شکل اختیار کرلی تھی۔
ضیاء الحق کی طرف سے آنکھوں کے عطیے کے اعلان
کے بعد ایک کہانی مشہور ہوئی کہ کسی ستم ظریف
نے جنرل ضیاء الحق کو یقین دلادیا ہے کہ اس کی
آنکھیں مشہور بھارتی اداکارہ ہیما مالنی کی
آنکھوں جیسی ہیں ۔ یہ بات پورے ملک میں اس
افسانے کے ساتھ مشہور ہوگئی کہ ضیاء الحق
باربارآئینے میں اپنی آنکھیں دیکھتا رہتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق پارلیمانی آئینی کمیٹی نے نو
ماہ9 دن کے بعد اپنی سفارشات مکمل کرلی ہیں(
9ماہ کی مدت قابل غور ہے)۔ اس دوران68 اجلاس
ہوئے اور اب ان سفارشات کو پارلیمنٹ میں پیش
کیاجارہاہے۔ ان سفارشات کی تفصیل چھپ رہی ہے'
مزید چھپتی رہے گی، ان میں اصل نکتہ یہ ہے کہ
صدر کے سارے اختیارات وزیراعظم کے پاس آجائیں
گے! سوچنے کی بات ہے کہ پھر صدرصاحب کیا کریں
گے؟ انہوں نے ان سفارشات کے آنے سے پہلے جلدی
میں اپنے کچھ اختیارات کا مظاہرہ کیا ہے کہ
شرعی عدالت کے تین جج مقرر کردیئے مگر آئندہ
یہ کام بھی جوڈیشل کمیشن کیا کرے گا …پھر؟؟؟
|