مشرف
حملہ کیس ۔سپریم کورٹ کل حتمی شنوائی کرے گی
مقدمہ جعلی ہے، قانونی تقاضے پورے نہیں کئے گئے۔ملزموں کا بیان
اصل جرم مشرف کو ووٹ نہ دینا، ناٹو اور ڈرون طیاروں کی دیکھ بھال سے
انکار ہے۔وکیل
سپریم کورٹ کل (دسمبر 7کو)کو مشرف پر2003میں دوقاتلانہ حملوںکی پاداش
میں موت کی سزاپانے والے بارہ افرادکی اپیلوںحتمی شنوائی کرے
گی۔عدالت عظمیٰ کا بینچ چیف جسٹس افتخار چودھری، جسٹس رمدے اور جسٹس
غلام ربانی پر مشتمل ہو گا۔ملزموں کو 2005میں فوجی عدالتوںنے سزادی
تھی۔ملزموں میں فضائیہ کے چار اہلکاروں کو سزائے موت دی گئی ہے جبکہ
ڈیفنس سروس گروپ کے اہلکاراسلام الدین کو ملتان جیل میں 20اگست
2004کوبغیر اپیل کے پھانسی دی جا چکی ہے سزائے موت کے تمام قیدی اپنی
(ReviewPetition)
کے
نتیجے کی منتظر ہیںجس کے بعد لاہور ہائی کورٹ عمر قید کے قیدیوں جن
میں فضائیہ کے دو اہلکار شامل ہیںکے مقدمات کی سماعت کرے گی۔ استغاثہ
کی طرف سے مجیب الرحمان پیش ہونگے جبکہ ملزموں کا دفاع ، کرنل اکرام،
حشمت حبیب اوراقبال خان ایڈوکیٹ کرینگے۔اقبال خان کے مطابق ملزموں کا
کورٹ مارشل اور سزا کا سارا عمل غیر قانونی ہے اور انکا اصل جرم مشرف
کی پالیسیوں کی کھلی مخالفت، ریفرنڈم میں ووٹ نہ دینا، سرکاری فارم
پر اسکے خلاف لکھنااور جیکب آباد کے ائیر بیس (فضائی مستقر)پر ناٹو
اور ڈرون طیاروں کی دیکھ بھال و مرمت وغیرہ
(Maintenance)
سے
انکار کرنا تھا۔ اقبال خان نے کہا چودہ دسمبر کے حملہ میں کوئی ہلاک
یا زخمی نہیں ہوا۔ ایک زندہ شخص کو قتل کرنے کی کوشش کے الزام میں
کسی کویکطرفہ فیصلہ کے زریعے سزاءموت دینا ناانصافی ہے۔اقدامِ قتل کی
زیادہ سے زیادہ سزا عمر قید ہے دیگر دفعات غلط ہیں۔ملزموں کے ورثاءکے
مطابق قاتلانہ حملوں سے قبل ہی ملزموں کومخالفت کی پاداش میںسخت سزا
دینے کا فیصلہ کر لیا گیا تھا تاکہ دوسروں کو عبرت ہو، بیرونی آقا
خوش ہوں اور مشرف کی اہمیت میں اضافہ ہو۔انھیں وقوعہ سے قبل ہی مختلف
مقامات سے دوران ڈیوٹی گرفتار کیا گیا تھا۔واضع رہے کہ مشرف پر حملوں
کو اس وقت آصف زرداری انکی اپنی کارستانی اورمفادات کے حصول کی کوشش
جبکہ نواز شریف ٹوپی ڈرامہ قرار دے چکے ہیں۔ایمنسٹی انٹرنیشنل اور
مقامی انسانی حقوق کے اداروں نے بھی مشرف کی جانب سے بلاجواز
پھانسیوںاور کڑی سزاﺅں پر تنقید کی تھی۔ورثاءکا کہنا ہے کہ ہزاروں
افراد کو قتل کرنے والے کھلے پھر رہے ہیں اور بے گناہ جیلوں میں سڑ
رہے ہیں۔انکا کہنا ہے کہ انھیں امید ہے کہ عدالتیں غریب اور بے بس
لوگوں کو بھی انصاف دیںگی۔ملزموں میں چیف ٹیک خالد محمود، کارپورل
ٹیک نوازش علی، سینئیر ٹیک کرم دین، جونئیر ٹیک نصراللہ اور سویلین
مشتاق فیصل آباد جیل اور جوئنیر ٹیک عدنان اور نیاز ساکنان صوابی ہری
پور جیل میں ہیں۔دیگر ملزموں میں محمد اخلاص، غلام سرور، نائیک ارشد
کمانڈو، زبیر اور راشد شامل ہیں۔ راشد اسیری کے دوران ذہنی توازن کھو
چکا ہے۔
|