اعوذ             باالله من             الشيطن             الرجيم                بسم الله             الرحمن             الرحيم                الحمد لله              رب             العالمين .             الرحمن             الرحيم . ملك             يوم الدين .             اياك نعبد و             اياك             نستعين .             اهدناالصراط             المستقيم .             صراط الذين             انعمت             عليهم '             غيرالمغضوب             عليهم             ولاالضالين

WWW.URDUPOWER.COM-POWER OF THE TRUTH..E-mail:JAWWAB@GMAIL.COM     Tel:1-514-970-3200 / 0333-832-3200       Fax:1-240-736-4309

                    

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

Telephone:- 1-514-970-3200

Email:-ceditor@inbox.com

 

تاریخ اشاعت:۔08-12-2010

مذہبی ہم آہنگی کیلئے مربوط کوششوں کی ضرورت
 
جیسے ہی محرم الحرام کا مہینہ شروع ہوتا ہے پوری قوم وسوسوں اور اندیشوں میں مبتلا ہو جاتی ہے۔ حساس شہروں کے حساس محلوں سے سنیوں کو کچھ روز کے لئے نقل مکانی کرنا پڑتی ہے۔ اہل تشیع ان اندیشوں میں مبتلا ہوتے ہیں کہ نہ جانے اس بار ان کے ساتھ کیا ہو۔ الغرض پورے ملک میں ایک خوف کی فضا چھا جاتی ہے۔
یہ ساری فضا گزشتہ بیس پچیس سالوں میں بنی ورنہ اس سے پہلے محرم انتہائی پرامن ہوتا تھا۔ سنی بھی اہل تشیع کے ساتھ جلوسوں اور مجلسوں میں شریک ہوتے تھے بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ رشتہ داریاں بھی قائم کرلیتے تھے۔ آج بھی ہمارے ملک میں ان گنت ایسے خاندان ہیں جن کا سربراہ اگر سنی ہے تو بیوی شیعہ ' بیوی سنی ہے تو خاوند شیعہ' وہ نام جو اکثر اہل تشیع رکھتے ہیں سینوں میں بھی رکھے جاتے تھے مثلاً حیدر عباس' فاطمہ بتول' زینب اور اس طرح کے کئی نام۔ اب سنیوں میں اس طرح کے نام رکھنے کا رواج کم ہوچکا ہے حالانکہ حضرت علی' حضرت عباس اور حضرت زینب کے ساتھ ان کا بھی وہی رشتہ ہے جو اہل تشیع کا ہے۔ یہ ردعمل ہے لیکن سوال یہ ہے کہ یہ ردعمل عام سینوں کے اپنے ذہن کی پیداوار ہے؟ ہماری رائے میں نہیں کیونکہ ایک سیدھا سادا سنی اس انداز میں کبھی سوچتا ہی نہیں تھا' اسے اس ردعمل کا شکار کیا گیا ہے اور اسکے ذمے دار وہ انتہا پسندانہ سوچ رکھنے والے علمائے کرام ہیں جنہوں نے پہلے شیعہ سنی کشیدگی پیدا کی اور بعد میں عام سنیوں کو اکسایا کہ وہ اہل تشیع جیسے نام نہ رکھیں۔
بعض انتہا پسند سنی تنظیموں کے لیڈروں نے جذباتی نوجوانوں کے دلوں میں اہل تشیع کی اتنی نفرت پیدا کی کہ وہ ان پر خودکش حملوں جیسے انتہائی فعل پر تیار ہوگئے اور رہی سہی کسر ان طالبان نے نکال دی جو اپنے مخصوص نظریات کی وجہ سے اہل تشیع کو مسلمان ہی نہیں سمجھتے اور انہیں نقصان پہنچانا باغث ثواب مانتے ہیں۔
ایسا کرتے ہوئے وہ بھول جاتے ہیں اللہ کے اس حکم کو جس میں اس کائنات کے مالک نے فیصلہ دیا کہ جس نے کسی ایک انسان کو قتل کیا گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا اور جس نے کسی ایک انسان کی جان بچائی اس نے گویا پوری انسانیت کی جان بچائی۔
مسلمان کی ایک اور تعریف بھی ہے کہ مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ اس کے باوجود کوئی مسلمان اگر اہل تشیع کو قتل کرنا باعث ثواب سمجھتا ہے اور خود کو جنت کا مستحق بھی جانتا ہے تو اسے چاہیے کہ ایک بار پھر سے دین اسلام کا گہرائی سے مطالعہ کرے اور پھر فیصلہ کرے کہ بے گناہ انسانوں کو قتل کرنا جنت کا راستہ ہے یا جہنم کا؟ ہم سمجھتے ہیں کہ اس حوالے سے پڑھے لکھے نوجوان طبقے کو اپنے حصے کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ ایسے نوجوان جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور کسی قسم کے تعصب میں بھی مبتلا نہیں ہیں انہیں ان لوگوں کو بے نقاب کرنا چاہیے جو دین کے نام پر نفرت پھیلا کر مسلمانوں کو کمزور کر رہے ہیں اس حوالے سے ہماری تجویز یہ ہے کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ سنی اور شیعہ نوجوانوں کو باہم مل کر ایسی انجمنیں بنانی چاہئیں جن کے پلیٹ فارم سے لوگوں کو سمجھایا جاسکے کہ ہمارا دین تشدد سے نفرت کا پیغام دیتا ہے اور امن سے محبت سکھاتا ہے۔
ہماری رائے میں جب اس طرح کا سلسلہ چل پڑے گا تو لوگ انتہا پسند جاہل علمائے سُو کے چنگل سے نجات حاصل کرلیں گے اور کھلے ذہن کے ساتھ سوچنے کے عمل کا آغاز کر دیں گے۔
سرکاری سطح پر بھی نوجوانوں کی ایسی انجمنیں قائم کرنے کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے تاکہ جو مسئلہ اس قدر شدت اختیار کر چکا ہے اسے روکا جاسکے اور جو نفرتیں پھیلائی جاچکی ہیں ان نفرتوں کو پہلے کم اور پھر ختم کیا جاسکے۔
حکومت کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ مذہبی منافرت پھیلانے والے لٹریچر کی برآمدگی پر سخت سزائیں رکھے اور اس حوالے سے قانون کو سختی کے ساتھ حرکت میں لے آئے۔ اشتعال انگیز تقریروں پر اگرچہ پہلے سے پابندی ہے لیکن اس طرح کی تقریریں اب بھی ہوتی ہیں ۔ اس حوالے سے بھی سخت ترین قوانین سامنے لانے کی ضرورت ہے۔ جو بھی شخص ایسی تقریر کرے اس کے خلاف فوری مقدمہ درج کیاجانا چاہیے۔ لائوڈ سپیکر کا استعمال انتہائی غلط طریقے سے ہوتا ہے۔ لائوڈ سپیکر کو صرف اذان کے لئے استعمال کرنے کی اجازت دی جائے۔ جہاں بھی اس کا غلط استعمال ہو وہاں فوری طور پر قانون کو حرکت میں آجانا چاہیے۔ جب اس ضمن میں لوگوں کو سزائیں ملنا شروع ہو جائیں گی تو غلط سوچ رکھنے والے اپنی حدود میں رہیں گے اور اشتعال انگیزی نہیں کریں گے۔
ہم امید کرتے ہیں کہ محرم الحرام کو کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچانے کے لئے وزارت داخلہ اپنی ذمہ داریاں پوری کر ے گی اور سیکورٹی کو اتنا ٹائٹ رکھا جائے گا کہ دہشت گرد اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوسکیں گے۔
 

Email to:-

 
 
 
 
 
 

© Copyright 2009-20010 www.urdupower.com All Rights Reserved

Copyright © 2010 urdupower.o.com, All rights reserved