اعوذ             باالله من             الشيطن             الرجيم                بسم الله             الرحمن             الرحيم                الحمد لله              رب             العالمين .             الرحمن             الرحيم . ملك             يوم الدين .             اياك نعبد و             اياك             نستعين .             اهدناالصراط             المستقيم .             صراط الذين             انعمت             عليهم '             غيرالمغضوب             عليهم             ولاالضالين

WWW.URDUPOWER.COM-POWER OF THE TRUTH..E-mail:JAWWAB@GMAIL.COM     Tel:1-514-970-3200 / 0333-832-3200       Fax:1-240-736-4309

                    

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

Telephone:- 1-514-970-3200

Email:-ceditor@inbox.com

 

تاریخ اشاعت:۔21-08-2010

حکومت نے لوگوں کو کنگال کر دیا' جذبہ کہاں سے آئے؟

وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ ہر کسی کو اپنی فکری پڑی ہوئی ہے۔ لوگوں میں جذبہ دیکھنے میں نہیں آرہا۔دوسری جانب میاں نواز شریف نے وزیر اعظم گیلانی سے کہا ہے کہ انہیں غیروں سے مانگنے کی ضرورت نہیں۔ ان کے ساتھ چلیں اور فنڈز اکٹھے کریں۔
وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے درست کہا ہے کہ ہر کسی کو اپنی فکر پڑی ہوئی ہے اور لوگوں میں جذبہ دیکھنے کو نہیں آرہا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس ملک پر جب بھی کوئی کڑا وقت آیا تو غریبوں اور متوسط طبقے سے قربانی طلب کی گئی جبکہ طبقہ امراء نے کسی بھی مشکل گھڑی میں ملک و ملت کی کوئی مدد نہیں کی۔ قربانیاں دیتے دیتے آج اس ملک کا غریب اور متوسط طبقہ بالکل قلاش ہوچکا ہے اور اس کے پاس دینے کو کچھ بھی نہیں ہے۔ حالت یہ ہے کہ مہنگائی نے عام آدمی کو جیتے جی مار دیا ہے اور وہ بھی خود کو آفت زدہ شمار کرتا ہے۔ لاکھوں کی تعداد میں کھاتے پیتے خاندان اجڑے پڑے ہیں۔ لوگوں نے کئی کئی ماہ سے مکان کا کرایہ ادا نہیں کیا۔ بچوں کی فیسیں ادا نہیں کیں' بچوں کے جوتے پھٹ گئے انہیں نئے جوتے نہ دلاسکے ایسے عالم میں وہ متاثرین سیلاب کی کیا مدد کریں؟
حکومت نے اپنے عوام کو اس قابل چھوڑا ہی کب ہے کہ وہ کسی آفت زدہ کی مدد کرسکیں۔ جب سے یہ حکومت آئی ہے تب سے ہی عوام کی حالت دگرگوں ہے کوئی دن نہیں گزرتا جب کسی نہ کسی شے کی قیمت میں اضافہ نہ ہوتا ہو۔ دو سالوں میں بجلی کے بل دوگنا ہوچکے ہیں اور مہنگائی بھی ڈیڑھ سے دوگنا تک بڑھ چکی ہے۔ روٹی ' کپڑا اور مکان کا جھوٹا نعرہ لگاکر آنے والوں کی نیت میں فتور تھا یا کچھ اور 'لیکن جب سے یہ آئے ہیں روٹی کھانا مشکل ہوگئی ' کپڑا نایاب چیز بن کر رہ گیا اور ان گنت لوگوں کے مکانات بھی گئے۔ زرداری کہتے ہیں کہ لوگوں کو آفت سے نکالنے کے لئے اللہ نے انہیں چنا۔ صدر زرداری بھول گئے کہ آفت آئی بھی تو ان کے دور میں ہے اور وہ قیامت تک لگے رہیں لوگوں کو تباہ شدہ مکان بناکر نہیں دے سکیں گے۔
امر واقعہ یہ ہے کہ جو لوگ شہروں میں رہ رہے ہیں ' روزگار لگا ہوا ہے اس کے باوجود ان کی حالت یہ ہے کہ روز جیتے اور روز ہی مرتے ہیں۔ یہ لوگ چیخ و پکار کرکرکے تھک گئے لیکن حکمران انہیں دھیلے کا ریلیف نہ دے سکے ' یہ حکمران ان خانماں برباد لوگوں کو کیا ریلیف دیں گے جو مکمل طور پر تباہ ہوکر حکومت کے رحم و کرم پر ہیں۔
دور کیوں جاتے ہیں حکمران یہ تو بتائیں کہ خود انہوں نے ان کے امیر رشتہ داروں نے اور جان پہچان والوں نے ریلیف فنڈ میں کیا دیا ہے۔ نواز شریف ' شہباز شریف کا حلقہ احباب ہزاروں میں ہے صدر زرداری کا حلقہ احباب ہزاروں میں ہے۔ وزیر اعظم گیلانی کا بھی وسیع حلقہ احباب ہے اسی طرح باقی سیاستدانو ں اور وزرائے اعلیٰ کا بھی لمبا چوڑا حلقہ احباب ہے۔ اگر یہ لوگ اپنے حلقہ احباب سے ہی رقم اکٹھی کرنا شروع کر یں تو اربوں روپے جمع ہوسکتے ہیں لیکن وہ کیا ہے کہ عادت پڑی ہوئی ہے غریبوں سے مانگنے کی۔ طبقہ امرا سے حکمران اربوں روپے اکٹھے کرسکتے ہیں لیکن ان کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ بوجھ عام آدمی پر ڈالا جائے۔ اب بھی یہ ایسا ہی کریں گے۔ جب دیکھیں گے کہ لوگ سیلاب فنڈ میں کچھ نہیں دے رہے تو نئے نئے ٹیکس لگا دیں گے۔ یوٹیلٹی بلز میں فلڈ سرچارج لگا دیں گے۔ غریبوں سے پیسے اکٹھے کرنے کے لئے نئے نئے طریقے ڈھونڈ لیں گے۔ نت نئے طریقوں سے ان پر اتنا بوجھ ڈالیں گے کہ سیلاب سے بچ جانے والے لوگ بھی خود کو آفت زدہ محسوس کریں گے۔
جن لوگوں کے پاس دینے کے لئے کچھ ہے وہ اس لئے دینے سے گریزاں ہیں کہ چونکہ ان کے نزدیک حکومت کی ساکھ بہت کمزور ہے۔ لوگ حیران ہیں اور تبصرہ کررہے ہیں کہ وزیراعظم گیلانی اور نواز شریف کے درمیان جس کمیشن کے قیام پر اتفاق ہوا تھا وہ کمیشن کہاں گیا؟ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ صدر زرداری کمیشن قائم کرنے کے حق میں نہیں ہیں کیونکہ ان کے مشیروں نے انہیں باور کرایا ہے کہ کمیشن قائم ہوا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ حکومت کی کوئی ساکھ نہیں ہے۔ اس طرح بدنامی بھی ہوگی اور آگے کام کرنے میں مشکل بھی پیش آئے گی۔
لوگ اس گمان میں ہیں کہ اگر انہوں نے حکومت کو براہ راست پیسے دیئے تو وہ ادھر ادھر ہو جائیں گے اس لئے وہ سامان خرید کر دے رہے ہیں ۔ بہرحال جتنے منہ اتنی باتیں لیکن وزیراعظم گیلانی نے بات ٹھیک کی ہے کہ لوگوں میں جذبہ نظر نہیں آیا۔ جذبہ ایک زندہ قوم میں نظر آتا ہے جبکہ گیلانی حکومت نے صرف دو سالوں میں ہی لوگوں کو زندہ درگور کر دیا ہے۔ اب تو وہ جو کماتے ہیں ان سے دو وقت کی روٹی کھانا مشکل ہے۔ سیلاب فنڈ میں کیا دیں؟ سعودی عرب میں پانچ گھنٹے کی ٹیلی تھون ہوئی اور لوگوں نے ریالوں کے انبار لگا دیئے۔ پانچ گھنٹے میں 8 کروڑ ریال اکٹھے ہوگئے۔ یہ اس لئے ہوا کیونکہ سعودی عرب میں لوگ خوشحال ہیں ان کے پاس پیسہ ہے۔ آسودگی ہے اس لئے وہ حکومت کی ایک کال پر لبیک کہتے ہیں۔ پاکستان میں بھی جب تک لوگوں کو آسودگی میسر تھی اور دو وقت کی روٹی مل رہی تھی وہ بھی بھرپور جذبے سے فلاحی کاموں میں حصہ لیتے تھے لیکن اب تو ان گنت لوگ خود مستحقین کی صف میں شامل ہوچکے ہیں۔

 

Email to:-

 
 
 
 
 
 

© Copyright 2009-20010 www.urdupower.com All Rights Reserved

Copyright © 2010 urdupower.o.com, All rights reserved