|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
 |
|
|
|
|
|
Telephone:- 1-514-970-3200 |
Email:-ceditor@inbox.com |
|
|
   |
|
تاریخ اشاعت:۔04-08-2010 |
|
اپنی فکر کریں |
|
” ہ ر طرف رشوت کا بازار گرم ہے“ ”چوری
ڈکیتی عام ہے“ ”بغیر سفارش کے کام نہیں ہوتا“ ”آوے کا آوا ہی بگڑا ہو
ہے “ ”لوگ خدا اور آخرت سے غافل ہو چکے ہیں“۔
اس قسم کے جملے ہم اکثر سنتے رہتے ہیں، ہماری کوئی مجلس ان جملوں سے
خالی نہیں ہوتی۔ بظاہر یہ شکوے درست بھی ہیں، زندگی کے جس شعبہ کی
طرف بھی نظر ڈالیں، نمایاں طور پر اس میں کمی نظر آتی ہے۔ معاشرتی
خرابیاں ہمیں دیمک کی طرح چاٹ رہی ہیں۔
اس کے برعکس اصلاح معاشرہ کے لئے مختلف جماعتیں، تنظیمیں اور ادارے
اپنے اپنے دائرہ کار میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ کچھ تو بظاہر
کامیاب بھی نظر آتے ہیں، مگر بحیثیت مجموعی افق پر ایسی کوئی کامیابی
نظر نہیں آتی جو امید کی کرن ثابت ہو۔ اس ساری صورت حال کے کئی اسباب
ہیں، یہ اسباب آپس میں اتنے الجھ گئے ہیں کہ بظاہر ان کی گتھی
سلجھانا مشکل نظر آتا ہے، لیکن ان تمام اسباب میں سے ایک اہم سبب جس
کی طرف ہماری اکثر طور پر نظر نہیں جاتی، کہ ہمارا اجتماعی مزاج یہ
بن گیا ہے کہ ہم دوسروں کے عیوب تلاش کرتے ہیں اور دوسروں میں خامیاں
ڈھونڈتے ہیں۔ پھر ان خامیوں اور برائیوں پر زجر کرنے میں جو ہمیں لطف
و سرور آتا ہے وہ کہیں اور نہیں آتا۔ حالانکہ یہ شکوے اصلاح کے لئے
نہیں ہوتے بلکہ وقت گذاری کا یہ ایک بہت اچھا بہانہ ہے۔
ان غلطیوں کی اصلاح کے لئے ہم کوئی اچھا اقدام نہیں اٹھاتے، اگر کوئی
قدم اٹھا بھی لیں تو ہماری کوشش اور خواہش یہی ہوتی ہے کہ غلطی یا
برائی کی اصلاح کی ابتدا دوسے کریں، کیونکہ ہمارا عمومی ذہن یہی بنا
ہوتا ہے کہ ہمارے علاوہ تمام دنیا خراب ہے، ان کی اصلاح اور درستگی
ہمارے ذمہ ہے۔ یہ سب کچھ کرتے ہوئے اس چیز کا خیال بہت کم لوگوں کو
ہوتا ہے کہ یہی معاشرتی خرابیاں ہمارے اندر بھی ہو سکتی ہیں، اس لئے
ہمیں بھی اپنی اصلاح کی فکر کرنی چاہیے۔ اسی وجہ سے اپنے آپ کو چھوڑ
کر جو دوسروں کی اصلاح کی فکر کرتے ہیں، اس میں کشش اور اخلاص نہیں
ہوتا وہ محض ایک کاروائی بن جاتی ہے۔
جب معاشرہ میں برائیوں اور گمراہیوں کا چلن عام ہو جائے تو اس کی
اصلاح اور رہنمائی کے لئے قرآن نے ایک اصول اور ضابطہ بیان کیا ہے۔
اگر ہم سب اس اصول کو پلے باندھ لیں تو یقیناً ہمارے لئے اور ہمارے
معاشرے کے لئے ایک بہترین ” گر“ ثابت ہوگا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ
فرماتے ہیں! ” اے ایمان والو! خود اپنی خبرلو، اگر تم ہدایت کے راستے
پر ہو تو جو لوگ گمراہ ہیں وہ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ تم
سب کو اللہ کی طرف لوٹ کر جاتا ہے پھر وہ تمہیں بتائے گا جو کچھ تم
کیا کرتے تھے“۔ (مائدہ:۴۰۱)
گویا کہ اپنی اصلاح کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ اس میں بتا دیا کہ
دوسروں کی بد اعمالیاں ہماری بد اعمال کا جواز نہیں بن سکتیں، بلکہ
تم اپنے اعمال کا جائزہ لو، اپنی ذات کی حد تک برائیوں سے پرہیز کرو
اور اپنا سارا زور اسی میں خرچ کر دو۔ جن برائیوں سے اب بچ سکتے ہو
ابھی بچو، جن کے لئے کوشش کر سکتے ہو ان سے بچنے کی کوشش شروع کر دو۔
اگر کوئی دوسرا شخص کرپشن، لوٹ مار، ڈاکہ زنی، غیبت، حسد اور لعن طعن
میں ملوث ہے تو تم ان سے حتی الامکان بچو۔ اس کی تائید حدیث مبارکہ
میں بھی ہوئی ہے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا: ” جب تم دیکھو کہ لوگ جذبہ
بخل کی اطاعت کر رہے ہیں، خواہشاتِ نفسانی کے پیچھے دوڑ رہے ہیں،
دنیا کے ہر معاملے کو ترجیح دی جا رہی ہے اور ہر شخص اپنی رائے کے
گھمنڈ میں مبتلا ہے، تو تم ایسی صورت میں خاص طور پر اپنی اصلاح کی
فکر کرو اور عام لوگوں کے معاملے کو چھوڑ دو ”ترمذی“ مطلب یہ ہے کہ
عام لوگوں کی طرح برائی کرتے رہنا مسئلہ کا حل نہیں، مسئلہ کا حل یہ
ہے کہ ہر انسان اپنی اصلاح کی فکر کرے، اپنے آپ کو ان تمام پھیلی
ہوئی بیماریوں سے بچانے کی کوشش کرے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ” جو شخص یہ
کہتا پھرے کہ لوگ برباد ہو گئے تو درحقیقت ان سب سے زیادہ برباد وہ
شخص خود ہے“۔
یعنی جو شخص دوسروں کے عیوب اچھالتا پھرے اور اپنی برائیوں کی پروا
نہ کرے وہ سب سے زیادہ تباہ حال ہے۔ اگر ہر انسان اپنی اصلاح کر لے
اور اپنے عمل کو پرکھ لے تو کم از کم معاشرہ سے ایک فرد کی برائی تو
ختم ہو جائے گی اور تجربہ یہی ہے کہ معاشرے میں ایک چراغ سے دوسرا
چراغ جلتا ہے اور ایک فرد کی اصلاح دوسرے فرد کی اصلاح کا ذریعہ بن
جاتی ہے ، اس سے پورے معاشرے میں شعور بیدار ہو جاتا ہے۔ بس اپنے
ضمیر کے دروازے پر دستک کی ضرورت ہے، جس دن ضمیر جاگ گیا اور اصلاح
کے حصول میں اس کے بند دریچے کھل گئے، اس دن یہ حقیقت آشکارا ہو جائے
گی کہ معاشرے کی خرابی کا جو ہوا ہم نے اپنے سروں پر مسلط کر رکھا
تھا اور جس نے ہمیں اپنی اصلاح سے روکا ہوا تھا۔ بس ہمت کرنی پڑے گی
اور اپنے سے ابتدا کر دیں معاشرہ پاک وصاف ہو جائے گا۔ |
|
|
|
|
|
|
 |
 |
|
|
 |
|
|
 |
|
|
|
|
|
© Copyright 2009-20010 www.urdupower.com All Rights Reserved |
|
Copyright © 2010 urdupower.o.com, All rights reserved
|