|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
 |
|
|
|
|
|
Telephone:- 1-514-970-3200 |
Email:-ceditor@inbox.com |
|
|
   |
|
تاریخ اشاعت:۔16-08-2010 |
|
بڑے ڈیموں کو سیاست کی نذر کرکے سیاستدانوں نے ملک ڈبو
دیا |
|
امریکی
سفیر این ڈبلیو پیٹرسن نے کہا ہے کہ پاکستان کو سیلاب سے سبق سیکھتے
ہوئے زیادہ سے زیادہ ڈیم تعمیر کرنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب
سے ایک کروڑ60لاکھ افراد متاثر ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیمز کے حوالے
سے پاکستانی حکومت کو اپنی پالیسیوں میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں
لانے کی ضرورت ہے۔
وقت نے ثابت کیا ہے کہ ہم اپنے دشمن خود ہیں۔ نہ امریکہ ہمارا کچھ
بگاڑ سکتا تھا اور نہ کوئی اور ملک' اگر ہم خود اپنے دوست ہوتے۔
ہمارے سیاستدان ہمیں گمراہ کرتے رہے اور ہم گمراہ ہوتے رہے۔ ہم نے ہر
معاملے کو یا تو سیاستدانوں کی عینک سے دیکھا یا میڈیا ہمیں جس لائن
پر لگاتا رہا' ہم لکیر کے فقیر کی طرح اسی لائن پر چلتے رہے۔ ہم میں
سے کسی نے کالا باغ ڈیم کو اے این پی کی عینک سے دیکھا تو کسی نے
سندھی قوم پرستوں کی عینک سے اور اتنا بھی نہ سمجھ سکے کہ اگر یہ ڈیم
نہ بن سکا تو کسی بھی وقت بپھرا ہوا پانی ہمیں تباہ و برباد کرکے رکھ
دے گا۔
آج ہمیں مان لینا چاہیے کہ ہم سب کچھ ہیں' سوائے پاکستانی کے'
پاکستانیت نہ تو ہمارے رویوں کا حصہ بن سکی اور نہ ہمارے خون میں
شامل ہوسکی۔ اس لئے کہ اکثریت کا لہو اس ملک کی بنیادوں میں شامل ہی
نہیں ہے۔ چند لاکھ مہاجرین جن میں کچھ پنجابی بولنے والے تھے اور کچھ
اردو بولنے والے۔ ان کے بزرگوں کا لہو اس ملک کی بنیادوں میں شامل
تھا۔ باقی سب زیب داستاں ہے۔ سندھیوں کو یہ ملک بنا بنایا مل گیا۔
پختونوں کو یہ ملک بنا بنایا مل گیا' بلوچوں کو یہ ملک بنا بنایا مل
گیا اسی لئے یہ تینوں قومیں آج بھی قومیت پرستی کے مرض میں مبتلا ہیں۔
پورا ملک ڈوب جائے لیکن بلوچ کو صرف وہی المیہ متاثر کرے گا جو اس کے
اپنے ہاں وقوع پذیر ہوا۔ سندھی صرف اسی وقت درد کا اظہار کرے گا جب
چوٹ کسی سندھی کو لگے گی۔ پختون نوشہرہ کو ڈوبتے دیکھ کر خون کے آنسو
بہائے گا لیکن مظفر گڑھ کے ڈوبنے کا معاملہ اس کے لئے ایک خبر سے
زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔
درحقیقت اس ملک میں حب الوطنی کا سمبل صرف اور صرف فوج ہے۔ فوج میں
چاروں اکائیوں بشمول آزادکشمیر کے لوگ شامل ہیں۔ فوج کے اندر سندھی'
پنجابی' پختون' بلوچ اور کشمیری کے حوالے سے کوئی تعصب نہیں۔ جس جوان
کی ڈیوٹی جس بھی صوبے میں لگتی ہے اسے صرف یہ پتہ ہوتا ہے کہ اس نے
اپنا فرض ادا کرنا ہے' آرمی چیف سیلاب سے متاثرہ تمام صوبوں میں
یکساں طور پر جارہے ہیں۔ شہباز شریف پنجاب میں بھاگ دوڑ کر رہے ہیں۔
امیر حیدر ہوتی خیبر پختونخواہ میں بھاگے دوڑے پھر رہے ہیں۔ قائم علی
شاہ سندھ میں تگ و دو کر رہے ہیں اور نواب اسلم رئیسانی بلوچستان میں
آگے پیچھے ہو رہے ہیں۔
چلیں مان لیتے ہیں کہ ان صوبوں میں چونکہ بڑی تباہی ہوئی ہے اس لئے
یہ وزرائے اعلیٰ اگر اپنے اپنے صوبوں کی حالت ہی بہتر بنالیں تو بڑی
بات ہوگی لیکن وہ کہ جسے وفاق کی علامت کہا جاتا ہے' کہاں ہے؟ صدر
زرداری نے اب تک چاروں صوبوں' بشمول آزادکشمیر کے کتنے سیلاب زدہ
علاقوں کا دورہ کیا ہے؟ وزیراعظم نے اب تک چاروں صوبوں بشمول
آزادکشمیر کے کتنے طوفانی دورے کئے ہیں؟ چلیں انہوں نے چپ کا روزہ
توڑتے ہوئے یہ تو کہا کہ اگر کالا باغ ڈیم بن جاتا تو اتنا نقصان نہ
ہوتا۔ صدر زرداری نے اس معاملے کو کتنا سنجیدہ لیا؟ اب بھی
پیپلزپارٹی کے وزراء اتفاق رائے کی بات کر رہے ہیں۔ کون سا اتفاق
رائے اور کہاں کا اتفاق رائے؟ کیا اس ملک کے حوالے سے تمام فیصلے
اتفاق رائے سے ہوتے ہیں؟ کیا صوبہ سرحد کے نام کی تبدیلی کے حوالے سے
ریفرنڈم کراکے اتفاق رائے حاصل کیا گیا تھا؟
درحقیقت یہ سب بوگس باتیں ہیں۔ مشرف نے اس لئے کالا باغ ڈیم نہیں
بنایا کیونکہ انہیں اے این پی کی حمایت درکار تھی اور وہ اول و آخر
ایک اقتدار پرست آدمی تھے۔ پیپلزپارٹی کی موجودہ حکومت کالا باغ ڈیم
کی تعمیر سے اس لئے گریزاں ہے کیونکہ اے این پی اس کی حلیف ہے اور وہ
اے این پی کو ناراض کرنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتی۔ اب اے این پی کی
قیادت کالا باغ ڈیم کے حوالے سے کس لائن پر لگی ہوئی ہے اور کن
مفادات کی اسیر ہے۔ اس معاملے کو اہل بصیرت اچھی طرح سمجھتے ہیں۔
سندھ کے قوم پرست کس کے اشارے پر کالا باغ ڈیم کی مخالفت میں مرنے
مارنے پر تل جاتے ہیں' اس بات کی بھی اہل نظر کو خبر ہے۔
سچائی تو یہ ہے کہ ان لوگوں کے چھوٹے چھوٹے مفادات نے پاکستان کو ڈبو
دیا ہے لیکن حیرت ہے نواز شریف اور چوہدری شجاعت جیسے سیاستدانوں پر
جو کالا باغ ڈیم کی اہمیت کو سمجھتے ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ اگر
کالا باغ ڈیم اور دیگر چھوٹے ڈیم نہ بنے تو ہم بحیثیت قوم تباہ ہو
جائیں گے' وہ کیوں آگے نہیں آتے؟ نواز شریف اور چوہدری شجاعت بھلے
الگ الگ رہیں لیکن اس ایشو پر تو اکٹھے ہو جائیں۔ فیصلہ کن انداز
اختیار کرتے ہوئے آگے آئیں اور دو ٹوک لفظوں میں کہیں کہ کالا باغ
ڈیم ضرور بنے گا۔ پیپلزپارٹی سمیت جس جس نے ملک بچانا ہے وہ کھل کر
اس بات کا اعلان کرے۔ جس نے سندھ کی سیاست کرنی ہے' جس نے خیبر پی کے
کی سیاست کرنی ہے وہ پھر پاکستان کی بات نہ کرے کیونکہ جو اول و آخر
پاکستانی ہے وہ کبھی صوبائیت کی بات نہیں کریگا کیسا عجیب وقت ہے کہ
ہمارے حکمرانوں اور سیاستدانوں کے بجائے ایک امریکی سفیر ڈیموں کی
ناگزیریت کا احساس دلا رہی ہے۔ |
|
|
|
|
|
|
 |
 |
|
|
 |
|
|
 |
|
|
|
|
|
© Copyright 2009-20010 www.urdupower.com All Rights Reserved |
|
Copyright © 2010 urdupower.o.com, All rights reserved
|