|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
 |
|
|
|
|
|
Telephone:- 1-514-970-3200 |
Email:-ceditor@inbox.com |
|
|
   |
|
تاریخ اشاعت:۔12-09-2010 |
|
امریکی پادری کا ناپاک منصوبہ اور مغربی ممالک
کامنافقانہ کردار |
امریکی ریاست
فلوریڈا کے ایک بدبخت پادری ٹیری جونز نے کہا ہے کہ گیارہ ستمبر کو
امریکہ پر ہونے والے حملے کی برسی کے دوران ایک بون فائر الائو
جلائیں گے جہاں قرآن پاک کے سینکڑوں نسخے نذر آتش کیے جائیں گے۔
مسلمان ممالک اور امریکی حکومت نے اس ناپاک منصوبے پر کڑی نکتہ چینی
کی ہے لیکن ٹیری جونز کا کہنا ہے کہ ہمیں اسلام میں ریڈیکل عناصر کو
واضح پیغام دینا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے ریاست فلوریڈا میں قرآن کریم کے
نسخے جلانے کے منصوبے کو انتہائی شرمناک قرار دیا ہے جبکہ اوبامہ
انتظامیہ نے بھی اس کو انتہائی ناپسندیدہ فعل قرار دیتے ہوئے کہا ہے
اس سے افغانستان اور دنیا بھر میں امریکی مفادات کو سنگین خطرات لاحق
ہوں گے۔وائٹ ہائوس کے ترجمان رابرٹ گبز کا کہنا ہے کہ کوئی بھی ایسا
اقدام جو ہماری فوج کیلئے خطرناک ہو جائے تشویش کا باعث ہے۔ نیٹو کے
سربراہ راسمین نے بھی چر چ کے قرآن جلانے کے منصوبے کی سخت مذمت کی
ہے اور کہا ہے کہ ایسا کرنا نیٹو اتحادی اقدار کی خلاف ورزی ہے۔
امریکی ریاست فلوریڈا کے ایک بدبخت پادری کی طرف سے قرآن پاک جلانے
کا اعلان مغرب کی پہلی گستاخی نہیں ہے بلکہ یہود و نصاریٰ نے کوئی
موقع ایسا ضائع ہونے نہ دیا جس سے مسلمانوں کی دل آزاری اور دین
اسلام کی تضحیک کا سامان پیدا ہو۔ مغرب نے ہمیشہ اظہار رائے آزادی کے
نام پر انسانیت اور اسلام کو جو نقصان پہنچایا ہے اس کی ایک لمبی
فہرست ہے۔ یہ کام اگر مغربی ممالک میں انفرادی سطح پر اور غیر ریاستی
سطح پر ہوتا تو زیادہ تشویش کی بات نہیں تھی ہم کہہ سکتے تھے کہ یہ
ایک فرد یا کسی ایک گروہ کی ناپاک جسارت ہے اور اس میں مغربی حکومتوں
کاکوئی کردار نہیں لیکن ماضی میں اس قسم کے جتنے بھی ناپاک واقعات
ہوئے اس میں مغربی ممالک کی حکومتوں کا جو شرمناک کردار رہا ہے اس کو
دیکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ان ممالک کی حکومتیں ہی ایسے کرداروں
کی پشت پناہی کرکے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈے کے ذریعے
اپنے ناپاک منصوبوں کی تکمیل چاہتی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ جو بھی گستاخ
قرآن یا گستاخ رسول ۖہو اسے مغربی ممالک میں پورے سرکاری پروٹوکول کے
ساتھ تحفظ دیا جاتا ہے اور اس شرمناک اور انسانیت دشمن اقدام کو
اظہار رائے کی آزادی کا نام دے کر اسلام دشمنی کا سلسلہ شروع کیا
جاتا ہے۔ یہ بدبخت لوگ اسلام اور مسلمانوں کے عقائد اور مقدس کتاب
قرآن مجید کی توہین اور توہین رسالتۖ کو تو اظہار رائے آزادی کا نام
دے کر اپنے خبث باطن کا اظہار کرکے اسلام کو نقصان پہنچانے کی ناکام
کوشش کرتے ہیں لیکن دنیا میں کوئی گروہ یا فرد تحریر و تقریر کے
ذریعے یہودیوں کے ہولوکاسٹ کے بارے میں کچھ کہے تو اس کیلئے زمین تنگ
کر دی جاتی ہے اور پوری دنیا میں شور مچایا جاتا ہے کہ یہ اصولوں کی
خلاف ورزی ہے۔ ہم سوال کرنا چاہتے ہیں کہ یہ کیسی آزادی ہے کہ جس کے
تحت اگر کوئی یہودیوں اور عیسائیوں کی کسی کمزوری کا ذکر کرے تو اس
کیلئے زندگی کے راستے مسدود کر دیئے جاتے ہیں حالانکہ اس میں مذہبی
توہین کا کوئی پہلو بھی نہیں ہوتا لیکن جب کوئی بدبخت اور جہنمی حضرت
محمدۖ اور قرآن مجید کی توہین کی ناپاک جسارت کرے تو اسے اظہار رائے
آزادی کا نام دے کر مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا جاتا ہے کیا یہ
منافقت اور خالصتاً اسلام دشمنی پر مبنی پالیسی نہیں؟
امریکی ریاست فلوریڈا میں قرآن پاک کو نذر آتش کرکے اپنے اندر کی
گندگی کا اظہار کرنے والوں کی تعداد اگرچہ پچاس کے قریب ہے لیکن سوال
یہ ہے کہ کیا امریکی ریاست اگر چاہے تو ان پچاس بدبختوں کو نشان عبرت
نہیں بناسکتی ہے صرف زبانی کلامی مذمتوں اور تشویش ناک قرار دینے سے
کیا امریکی ریاست اپنی ذمہ داریاں نبھا رہی ہے ۔ کیا امریکی ریاست کی
ذمہ داری نہیں بنتی کہ وہ اس بدبخت پادری اور اس کے شیطان صفت چیلوں
کو قانون کی گرفت میں لے ان کے اس ناپاک منصوبے کو ناکام بنائے جو 11
ستمبر کے حملوں کو مسلمانوں کے کھاتے میں ڈال کر ایسے ایسے ناپاک
اقدام کرنے جارہے ہیں جس سے نہ صرف پوری دنیا کے مسلمانوں کے جذبات
مجروح ہوں گے بلکہ ایک طرف اس سے امریکہ کی پوری دنیا میں مشکلات
پیدا ہوں گی اور دوسری طرف دنیا بالخصوص امریکہ بین المذاہب ہم آہنگی
کے جو نعرے لگا رہا ہے وہ تمام نعرے امن کے منصوبے ناکام بنا سکتے
ہیں اور امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر جس جنگ کے ذریعے
اپنے مفادات سمیٹ رہا ہے وہ جنگ بھی بری طرح ناکام ہوگی اگر امریکی
ریاست اس موقع پر اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتی ہے تو پوری دنیامیں
امریکہ سے نفرت کا ایک خطرناک لاوا پھٹے گا جس سے نہ صرف امریکہ
کیلئے مشکلات پیدا ہوں گی بلکہ پوری دنیا اس سے متاثر ہوگی۔
امریکی بدبخت پادری اور پوری دنیا کے شیطان اپنی پوری توانائی صرف
کریں ۔ قرآ ن اور اسلام کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے کیونکہ قرآن
کی حفاظت کا ذمہ تو رب جلیل نے خود لیا ہے اور لاکھوں کروڑوں
مسلمانوں کے دلوں میں قرآن کا ایک ایک لفظ محفوظ ہے لیکن اسلام دشمن
اس ناپاک کوششوں سے یہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح ہم اسلام کو نقصان
پہنچانے میں کامیاب ہوں گے تو یہ ان کی بھول ہے اسلام میں ایسی سچائی
ہے اس کوجتنا دبائو اتنا ہی ابھرتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اگر امریکہ اور مغربی ممالک قرآن ' اسلام اور
پیغمبر اسلام حضرت محمدۖ کی توہین کرنے والوں کو عبرت کا نشان نہیں
بناتے تو پھر پوری دنیا کے مسلمان ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوکر یہ
فیصلہ کریں کہ ہم نے امریکہ اور مغربی ممالک کی ان شیطانی حرکات کے
خاتمے کیلئے کیا اقدامات کرنے ہیں اس کا واحد حل مسلمانوں کا اتحاد
ہے اگر مسلمان متحد ہوں تو کسی شیطان میں یہ جرات پیدا نہیں ہوگی۔ |
|
|
|
|
|
|
 |
 |
|
|
 |
|
|
 |
|
|
|
|
|
© Copyright 2009-20010 www.urdupower.com All Rights Reserved |
|
Copyright © 2010 urdupower.o.com, All rights reserved
|