|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
 |
|
|
|
|
|
Telephone:- 1-514-970-3200 |
Email:-ceditor@inbox.com |
|
|
   |
|
تاریخ اشاعت:۔10-09-2010 |
|
عوام اور حکومت کے درمیان اعتماد کے رشتے کو ٹھیس نہ
پہنچے |
وزیراعظم سید
یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ سیلاب زدگان کی تعمیر نو کے لئے دس ارب
کا فوری سنگل اکائونٹ قائم کر دیا گیا ہے۔ 2کروڑ متاثرین کو فی
خاندان 20ہزار روپے کے حساب سے عید سے پہلے ادائیگی شروع ہو جائے گی
تاہم یہ عمل 40دنوں میں مکمل ہو جائے گا کیونکہ متاثرین چاروں صوبوں
کے دور دراز علاقوں تک پھیلے ہوئے ہیں انہوں نے کہا کہ نقصانات کے
سروے میں فوج اور مقامی نمائندوں کو شامل کیا جائے گا۔
ہم نے اس سے قبل کئی بار انہی سطور کے ذریعے یہ بات کہی تھی کہ اس
نازک گھڑی میں سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ ہے عوام اور حکومت
کے درمیان اعتماد کی فضاء اور جب تک اعتماد کی فضا قائم نہیں ہوگی ہم
اس مشکل سے نہیں نکل سکتے۔
حکومت نے جب یہ اعلان کیا کہ عید سے قبل متاثرین کے ہر خاندان کو
20ہزار روپے ادا کریں گے تو ہم نے اس پہ بھی لکھا تھا کہ یہ ناممکن
عمل ہے کہ اتنے کم دنوں میں کروڑوں متاثرین تک 20ہزار روپے پہنچائے
جائیں۔ لہٰذا حکومت کو وہ بات ہرگز نہیں کرنی چاہیے کہ جس سے عوام
اور حکومت کے درمیان اعتماد کے رشتے کو نقصان پہنچ سکے اور باالخصوص
وزیراعظم کا منصب تو ہرگز اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ وعدہ یا
وہ بات کرکے عوام کو دلاسے دئیے جائیںجس پہ حکومت عمل نہ کر سکے اور
جس سے عوام کی امیدوں کی دیواریں گر جائیں اور ایک ایسا ماحول پیدا
ہو کہ جس میں عوام حکومت کی کسی بات پہ بھی اعتبار نہ کریں۔ اس سے
قبل وزیراعظم نے نواز شریف کے ساتھ مل کر یہ کہا تھا کہ ایک مشترکہ
کمیشن تشکیل دیا جائے گا لیکن بعد میں اس پہ عمل نہ ہوسکا جس وجہ سے
ایک اچھا تاثر قائم نہیں ہوسکا اور اس کے بعد حکومتی وزراء اور
وزیراعظم کا تسلسل سے یہ بیان آگیا کہ عید سے پہلے متاثرین کے ہر
خاندان کو 20ہزار روپے ادا کئے جائیں گے۔ لیکن اب کہا جا رہا ہے کہ
یہ عمل چالیس دنوں میں مکمل ہوگا یہی وہ عمل ہے جس سے متاثرین سیلاب
کی مشکلات میں اور اضافہ ہو رہا ہے۔ حالانکہ اگر میاں نواز شریف اور
وزیراعظم نے جس کمیشن کا اعلان کیا تھا وہ بن جاتا تو نہ صرف پوری
دنیا کا اعتماد بحال ہوتا بلکہ متاثرین کی بحالی اور باالخصوص عید سے
قبل 20ہزار روپوں کی ادائیگی کا کام بھی ممکن ہوسکتا تھا ۔ ضرورت اس
امر کی ہے کہ زبانی کلامی وعدوں کی بجائے متاثرین کی بحالی کے لئے
عملی اقدامات کئے جائیں۔ |
|
|
|
|
|
|
 |
 |
|
|
 |
|
|
 |
|
|
|
|
|
© Copyright 2009-20010 www.urdupower.com All Rights Reserved |
|
Copyright © 2010 urdupower.o.com, All rights reserved
|