اعوذ             باالله من             الشيطن             الرجيم                بسم الله             الرحمن             الرحيم                الحمد لله              رب             العالمين .             الرحمن             الرحيم . ملك             يوم الدين .             اياك نعبد و             اياك             نستعين .             اهدناالصراط             المستقيم .             صراط الذين             انعمت             عليهم '             غيرالمغضوب             عليهم             ولاالضالين

WWW.URDUPOWER.COM-POWER OF THE TRUTH..E-mail:JAWWAB@GMAIL.COM     Tel:1-514-970-3200 / 0333-832-3200       Fax:1-240-736-4309

                    

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

Telephone:- 1-514-970-3200

Email:-ceditor@inbox.com

 

تاریخ اشاعت:۔05-09-2010

کوئٹہ کا سانحہ اور معروضی حالات
کوئٹہ کے میزان چوک میں یوم القدس ریلی میں ایک خودکش بمبار نے گھس کر تباہی مچا دی۔ 64 افراد شہید جبکہ150 سے زائد زخمی ہوگئے۔ صورت حال کی نزاکت کے پیش نظر ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کرنا پڑی۔ بعد ازاں ایک ہجوم مشتعل ہوگیا اور اس نے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی جس کے بعد بازار اور تجارتی مراکز بند کر دیئے گئے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ شرکائے ریلی روکنے کے باوجود مقررہ مقام کے بجائے بازار میں آگئے تھے۔ کالعدم لشکر جھنگوی نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔
یوم حضر ت علی کے موقعے پر لاہور میں جو خونیں واردات ہوئی تھی اس کے بعد جلسے ' جلوس اور ریلیوں کے حوالے سے بہت محتاط رہنے کی ضرورت تھی لیکن پتہ نہیں ہمارے لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ خیبر سے کراچی تک دندناتے دشمنوں کو جانتے پہچانتے ہوئے بھی غیر محتاط رویئے اختیار کرلیتے ہیں بلکہ انتظامیہ کو بھی بے بس کرکے رکھ دیتے ہیں۔ نہ جانے ہماری سمجھ میں یہ بات کب آئے گی کہ دشمن تو دشمن ہوتا ہے اسے تو وار کرنے کا موقع چاہیے ہوتا ہے پھر ہم کیوں اسے یہ موقع فراہم کر دیتے ہیں۔ کسی کی جان لینا اگر گناہ کبیرہ اور جہنم کاراستہ ہے تو اپنی جان بچانا اور اپنے ساتھ دوسروں کی جان بچانا بھی تو فرض ہے ' آخر یہ واضح بات ہماری سمجھ میں کیوں نہیں آرہی۔ کتنی قیمتی جانیں چلی گئیں اور کیسے موقع پر گئیں کہ رمضان المبارک کا آخری عشرہ چل رہا ہے ۔ لاکھوں لوگ بے گھر اور دربدری کے عذاب سے دوچار ہوکر عارضی پناہ گاہوں میں پڑے ہیں۔ پورا پاکستان سہما ہوا ہے ۔ فتنے کا دور ہے جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ جب ایسا وقت آئے تو اپنے گھروں کے کواڑ بند کرکے اندر بیٹھ جائو۔ کیا ہمارے لئے شریعت کی یہ رہنمائی کافی نہیں ہے؟
دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ حزن و ملال نے دل و دماغ کو مائوف کر رکھا ہے۔ کچھ سمجھ میں نہیں آرہا کہ 64 بے گناہ لوگوں کے خون ناحق کا دوش کس کو دیں۔ ان قاتلوں کو جن کا پیشہ ہی بے گناہوں کا خون بہانا ہے؟ ان لوگوں کو جو انتظامیہ کی ہدایت کو نظر انداز کرکے مقررہ روٹ کو چھوڑ کر بازار کی طرف آگئے تھے یا اس انتظامیہ کو جس نے ریلی نکالنے کی اجازت تو دے دی لیکن ریلی کے شرکاء کو تحفظ نہ دے سکی۔
ہمارا دین تو ایسا دین ہے جس میں ہر مسئلے کا حل کھول کھول کر بتا دیا گیا ہے۔ ہمارے نبیۖ جن کے سر پر فرشتوں کا سایہ رہتا تھا ' سازشوں اور ریشہ دوانیوں کے دور میں محتاط روی کا مظاہرہ کیا کرتے تھے ۔ مکہ چھوڑتے وقت حضرت علی کو اپنے بستر پر لٹا دیا اور اپنی چادر اوڑھا دی۔ کتنی بڑی حکمت تھی آپۖ کے اس عمل میں۔ ہم بھی تو ان کے اُمتی ہیں لیکن حکمت و تدبر سے اتنے دور کیوں ہیں؟ اکثر یہ دعا مانگتے ہیں کہ اے اللہ ہمیں رسول مقبولۖ کے نقش قدم اور سیرت پر چلنے کی توفیق مرحمت فرما دے لیکن عملاً اس نقش قدم اور سیرت پر چلنے کی کوشش نہیں کرتے۔ آخر ہمیں ہوکیا گیا ہے؟ حکمت و تدبر تو یہ ہے کہ ہمارا دشمن ہم پر وار کرنے کا موقع تلاش کرے اور ہم اسے یہ موقع نہ دیں۔ بہترین فراست کے ساتھ اسے اتنا زچ کر دیں کہ وہ اپنے بال نوچنے پر مجبور ہو جائے لیکن ہم نے تو جیسے طے کر رکھا ہے کہ دشمن کے ہر وار کو اپنی بے تدبیری سے کامیاب بنانا ہے۔
جب سے نائن الیون ہوا ہے امریکہ اور مغرب میں لوگ انتہائی محتاط زندگی گزار رہے ہیں۔ ریاست کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہیں۔ ان کی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ہر لمحہ چوکس رہتے ہیں۔ ان کی حکومتیں سیکورٹی نظام کا وقتاً فوقتاً جائزہ لیتی رہتی ہیں اور ضرورت کے مطابق اس میں ترامیم بھی کرتی رہتی ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی چوکسی اور عوام کے ان کے ساتھ تعاون کی وجہ سے دہشت گردوں کو موقع نہیں ملتا کہ وہ ان ملکوں میں واردات کر گزریں ورنہ حقیقت تویہ ہے کہ اگر ان ملکوں نے اپنی سیکورٹی کا نظام فول پروف نہ بنایا ہوتا تو یہ دہشت گرد امریکہ اور یورپ میں تباہی مچا دیتے۔
انسان کی فطرت میں ہے کہ وہ ہر گزرنے والے دن سے سبق سیکھتا ہے۔ شائد ہم دنیا کی واحد قوم ہیں جو روزمرہ کے تجربات سے بھی کچھ نہیں سیکھتے۔ خودسری اور ہٹ دھرمی ہم میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے اور ان بدترین حالات میں کسی پولیس ناکے پر ہم سے ہماری شناخت طلب کرلی جائے تو ہمیں یہ بات بہت بری لگتی ہے۔ ہمارے اس رویئے نے سیکورٹی اداروں کو بھی زچ کر دیا ہے اور اب وہ بے دلی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیتے ہیں۔ ناکے پر کھڑا محافظ ' کسی مسجد کے باہر کھڑا سپاہی یا کسی پبلک مقام کی سیکورٹی پر مامور وردی والا سب سے زیادہ غیر محفوظ ہوتا ہے کیونکہ خودکش حملہ آور کا پہلا ٹاکرا اسی کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس کے باوجود قانون نافذ کرنے والے لوگ اپنی اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں جبکہ ہمیں احساس تک نہیں کہ ہم کتنے مہیب خطرے سے دوچار ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہم جو کچھ کریں کوئی ہمیں روکے نہ ٹوکے۔ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کریں تو ہم سے ٹریفک پولیس اہلکار نہ پرسش کرے۔ ناکے سے گاڑی لے کر گزریں تو ڈیوٹی اہلکار ہماری گاڑی کو رکنے کا اشارہ نہ کرے۔ یہ کیا غیر مہذب پن ہے اور ہم اس حد تک اس کا شکار کیوں ہیں ' اس حوالے سے ہر پڑھے لکھے شہری کو سوچنا چاہیے اور اپنا احتساب خود کرنے کی عادت ڈالنی چاہیے۔ مکرر عرض ہے کہ دشمن تاک میں ہے چاروں طرف دندناتا ہوا پھر رہا ہے سیکورٹی اداروں کو بھی اپنا تحفظ کرنا پڑ رہا ہے۔ ہم غیر معمولی حالات کا شکار ہیں' انتہائی غیر محفوظ ہیں۔ کاش کہ اگر یہ بات ہماری سمجھ میں آجائے تو شائد ہم اتنے غیر محفوظ نہ رہیں جتنے اس وقت ہیں۔
 

Email to:-

 
 
 
 
 
 

© Copyright 2009-20010 www.urdupower.com All Rights Reserved

Copyright © 2010 urdupower.o.com, All rights reserved