اعوذ             باالله من             الشيطن             الرجيم                بسم الله             الرحمن             الرحيم                الحمد لله              رب             العالمين .             الرحمن             الرحيم . ملك             يوم الدين .             اياك نعبد و             اياك             نستعين .             اهدناالصراط             المستقيم .             صراط الذين             انعمت             عليهم '             غيرالمغضوب             عليهم             ولاالضالين

WWW.URDUPOWER.COM-POWER OF THE TRUTH..E-mail:JAWWAB@GMAIL.COM     Tel:1-514-970-3200 / 0333-832-3200       Fax:1-240-736-4309

                    

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

Telephone:- 1-514-970-3200

Email:-ceditor@inbox.com

 

تاریخ اشاعت:۔30-08-2010

عوام کے جذبات کی ترجمانی
ایک نجی ٹیلی ویژن چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ عوام انقلاب کے لئے اٹھ کھڑے ہوں۔ جاگیرداروں کی زمینیں متاثرین میں بانٹ دی جائیں اور ایماندار افراد کی حکومت قائم کی جائے۔ انہوں نے پیشکش کی کہ ان سمیت تمام سیاسی لیڈروں کا احتساب کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم جمہوری جماعت ہے اور مارشل لاء کے خلاف ہے۔ الطاف حسین نے کہا کہ سیلاب نے جاگیرداروں اور وڈیروں کا اصل چہرہ عوام کے سامنے پیش کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ فوج صرف ایک بار عوام کا ساتھ دے۔ عوام چور اچکوں سے خود نمٹ لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیشی ماڈل میں کمی یا اضافہ کرکے اسے بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ مارشل لاء نہیں مارشل لاء طرز کا ایکشن چاہتے ہیں۔
الطاف حسین کے دل میں کیا ہے یہ تو خدا ہی جانتا ہے لیکن جو کچھ ہم سمجھ سکے ہیں وہ کچھ اس طرح ہے کہ عوام انقلاب کے لئے اٹھیں۔ فوج ان کی پشت پر کھڑی ہو جائے اور جب انقلاب کا عمل مکمل ہو جائے تو جن لوگوں نے جونکوں کی طرح اس ملک کا خون پیا ہے ' جنہوں نے شیر مادر کی طرح اس ملک کے مال کو ہڑپ کیا ہے اور جنہوں نے اس ملک کو اپنے باپ دادا کی جاگیر سمجھ کر اس کے وسائل کو ہڑپ کیا ہے انہیں سرعام لٹکا دیا جائے۔ جاگیرداروں سے زمینیں چھین لی جائیں اور سیلاب متاثرین ' غریب ہاریوں ' کسانوں میں بانٹ دی جائیں اور سب سے بنیادی نکتہ یہ ہے کہ انقلاب کے بعد ایک ایماندار حکومت تشکیل دی جائے ۔ گویا یہ بات طے ہوئی کہ الطاف حسین موجودہ حکومت کو قطعی طور پر ایماندار حکومت نہیں سمجھتے۔ بنگلہ دیشی ماڈل کے بھیحامی ہیں اور فوج کے کردار کے اس حد تک کہ وہ انقلاب کو کامیاب بنانے میں عوام کا ساتھ دے دے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ آج ہر پڑھا لکھا پاکستانی اسی طرح سوچتا ہے۔ گھٹن اتنی بڑھ گئی ہے کہ سانس لینا محال ہو رہا ہے ایسے میں فقط الطاف حسین ہی عوام کے جذبات کی ترجمانی کر رہے ہیں۔ ہمارا گمان ہے کہ اگر آج الطاف حسین کی باتوں کو دیوانے کی بڑ سمجھ کر نظر انداز کر دیا گیا تو آنے والے کل میں ہر پاکستانی یہی بات کرے گا اور بہت بڑا خون خرابہ ہو جائے گا۔ چونکہ یہ بہت جلد ہونے والا ہے اس لئے حالات بگڑنے سے پہلے ہی ہمیں حالات سدھارنے کے لئے ابھی سے اٹھ کھڑے ہونے کی ضرورت ہے۔
 

Email to:-

 
 
 
 
 
 

© Copyright 2009-20010 www.urdupower.com All Rights Reserved

Copyright © 2010 urdupower.o.com, All rights reserved