|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
 |
|
|
|
|
|
Telephone:- 1-514-970-3200 |
Email:-ceditor@inbox.com |
|
|
   |
|
تاریخ اشاعت:۔29-08-2010 |
|
وکی لیکس کا نیا انکشاف اور معروضی حقائق |
|
انٹرنیٹ
ویب سائٹ وکی لیکس نے ایک اور رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکی سی
آئی اے پاکستان ' بھارت اور دیگر ممالک میں دہشت گردی کرا رہی ہے۔
نئی خفیہ دستاویزات کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ امریکہ ایک عرصہ سے
دنیا میں دہشت گردی ایکسپورٹ کر رہا ہے اور اگر اتحادیوں کو اس
سرگرمی کا علم ہوگیا تو وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون چھوڑ دیں
گے۔ دستاویزات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان اور بھارت میں جو
دہشت گردی ہو رہی ہے اس کی ماسٹر مائینڈ سی آئی اے ہے۔ سی آئی اے نے
ایڈسیل کے نام سے تھنک ٹینک قائم کیا۔ پاکستانی نژاد امریکی ڈیوڈ
ہیڈلی نے لشکر طیبہ کی مدد کی ممبئی حملہ کی منصوبہ بندی اس نے کرائی
جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ دہشت گردی میں ملوث ہے۔ ویب سائٹ میں
دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی خفیہ اداروں کی مزید 15ہزار دستاویزات
آئندہ دنوں میں جاری کی جائیں گی۔
امریکہ ایک ایسی نحوست ہے کہ جس جگہ پر اس کا سایہ بھی پڑ جائے تو وہ
آباد جگہ ویرانے میں بدل جاتی ہے۔ بستیوں کی بستیاں الٹ جاتی ہیں اور
لاکھوں لوگ تباہ و برباد ہوکر رہ جاتے ہیں۔ ہم وکی لیکس کے اس دعوے
کو درست تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستان ' بھارت اور دنیا کے دیگر حصوں
میں جو دہشت گردی ہو رہی ہے وہ امریکی سی آئی اے کرا رہی ہے کیوں کرا
رہی ہے ' آج ان کی سطور میں ہم اس کا جائزہ پیش کریں گے۔
یہ خطہ جسے ہم افغانستان یا وسط ایشیاء کے نام سے جانتے ہیں یہاں
امریکہ کے بہت بڑے معاشی مقاصد ہیں اور یہ معاشی اہداف بھی حاصل کیے
جاسکتے ہیں جب اس خطے میں مسلسل تشویش اور بے چینی کی فضا ہو اور
امریکہ کو یہاں اپنے قدم جمانے کا موقع مل جائے۔ اس پس منظر میں
دیکھا جائے تو امریکہ مسئلہ کشمیر بھی اس لئے حل نہیں کراتا کیونکہ
مسئلہ کشمیر کے حل ہونے سے پاکستان اور بھارت ایک دوسرے کے قریب
آجائیں گے اور قریب آکر انہیں یہ سمجھنے کا موقع بھی ملے گا کہ وہ جس
دہشت گردی کا سامنا کرتے رہے ہیں وہ تو کوئی اور کرا رہا تھا۔
امریکہ کی چالاکی دیکھئے اور سوچئے کہ وہ کس درجہ مکار ہے کہ وہ
دونوں ملکوں کے ذمہ داروں سے بات کرکے مذاکرات شروع کرا دیتا ہے اور
پھر ان مذاکرات کو ناکام بھی بنا دیتا ہے اور یہ کام اتنی صفائی سے
کیا جاتا ہے کہ کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی۔ دونوں ملکوں کی
حکومتوں اور اہم مناصب پر بیٹھے لوگوں کو صرف یہی خبر ہوتی ہے کہ
امریکہ نے مذاکرات کرانے میں اہم کردار اداکیا۔ یہ بات کوئی نہیں
جانتا کہ مذاکرات خراب ہی امریکہ نے ہی کرائے اور وہ اس طرح کہ
ہندوستان اور پاکستان کی سیاست میں اس کے جوگماشتے موجود ہیں امریکہ
ان کی ڈوریاں ہلا دیتا ہے۔ گماشتے حرکت میں آجاتے ہیں اور پریس میں
یہی رپورٹ ہوتا ہے کہ کچھ ہارڈ لائنرز نے مذاکرات کو کامیاب نہیں
ہونے دیا۔
دیکھئے ایک سیدھی سی بات ہے کہ جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور میں دونوں
جانب یہ شدید خواہش موجود رہی ہے کہ کشمیر کا مسئلہ مذاکرات سے حل
کرلیا جائے۔ اس حوالے سے اگر جنرل (ر) پرویز مشرف کسی بھی انتہا تک
جانے کو تیار تھے تو واجپائی بھی بی جے پی کے دستور سے ایک طرح سے
انحراف کر رہے تھے؟ دونوں زیرک راہنما جانتے تھے کہ اگر یہ مسئلہ ان
کے دور میں حل نہ ہوسکا تو پھر اسے کوئی بھی حل نہیں کرسکے گا۔ جنرل
(ر) پرویز مشرف چونکہ اختیارات سے لیس تھے اور کسی کو جوابدہ بھی
نہیں تھے اس لئے دوسری طرف سے کھیل بگاڑ دیا گیا اور وہ اس طرح کہ بی
جے پی میں سے ہی کچھ لوگوں کو استعمال کرکے آگرہ مذاکرات کو ناکام
بنا دیا گیا۔ ہم ایڈوانی اور دیگر ناموں میں ہی پھنسے رہ گئے اور
امریکہ نے اپنے گماشتوں سے کام کرالیا۔ ممبئی حملوں سے پہلے پاکستان
او ر بھارت ایک دوسرے کے قریب آرہے تھے۔ دونوں نے یہ عہد بھی کرلیا
تھا کہ بڑے سے بڑا واقعہ ہو جائے مذاکرات اور میل جول کو ترک نہیں
کیا جائے گا۔ یہ ایک تاریخی موقف اور عزم تھا جسے تڑوانے کے لئے ایک
بہت ہی بڑی سطح پر دہشت گردی کی واردات کرائی گئی اور بھارت کی چولیں
ہلا کر رکھ دی گئیں۔ اسے اس قدر گہرا شاک پہنچایا گیا کہ اس کا عزم
متزلزل ہوگیا اور وہ مذاکرات کے نام سے بدکنے لگا۔ سی آئی اے کی
منصوبہ بندی کامیاب رہی اور قریب آتے پاکستان اور بھارت پھر سے بہت
دور ہوگئے۔ سی آئی اے کی حرکتوں کی وجہ سے بھارت میں خوف کا ماحول ہے
اور پاکستان زخم زخم ہے ۔ ایک عرصے تک شاید پاکستان دوبارہ جم کر
کھڑا نہ ہوسکے اور یہی امریکہ چاہتا ہے۔ اسلحے کی منڈیاں بھی برقرار
ہیں اور اس خطے میں قدم جمانے کا موقع بھی مل رہا ہے۔ بات یہ ہے کہ
وہ پورے کا پورا کبھی افغانستان سے نکلے گا نہ پاکستان سے۔ ہاں
پاکستان میں کبھی عوامی شعور اس درجے کو پہنچا کہ جہاں قومیں تشکیل
پاتی ہیں تو شاید یہ ''کنواں'' صاف ہو جائے ورنہ قرضوں اور امدادوں
پر پلنے والا ملک اپنے سب سے بڑے ڈونر سے یہ کیسے کہہ سکتا ہے کہ
جائو اپنی شکل گم کر و۔ سی آئی اے اس خطے میں اس وقت تک مصروف عمل
رہے گی جب تک امریکہ اپنے وسیع تر اہداف حاصل نہیں کرلیتا |
|
|
|
|
|
|
 |
 |
|
|
 |
|
|
 |
|
|
|
|
|
© Copyright 2009-20010 www.urdupower.com All Rights Reserved |
|
Copyright © 2010 urdupower.o.com, All rights reserved
|